Global Editions

اداریہ

دنیا میں سب سے زيادہ سمندری پلاسٹک ہوائی اور کیلفورنیا کے درمیان پایا جاتا ہے، جو گریٹ پیسیفک کا کچرے کا ڈھیر (Great Pacific Garbage Patch-GPGP) کہلاتا ہے۔ غیر منافع بخش تنظیم دی اوشن کلین اپ (The Ocean Cleanup) سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کے مطابق اس پلاسٹک کے ڈھیر کا وزن تقریباً 80 لاکھ ٹن ہے، جو کہ 500جمبو جیٹس کے برابر بنتا ہے۔

ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے سمندری کچرا ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ سمندر کی 80 فیصد آلودگی کی وجہ زمینی سرگرمیاں ہیں، جس میں زیادہ تر انسانوں کا ہاتھ ہے۔ جب سمندر کی اہمیت کی بات کی جائے تو اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تین ارب سے زائد انسانوں کے روزگار کا دارومدار سمندری اور ساحلی حیات پر ہے۔ اس کے علاوہ، یہ سمندر انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے کاربن ڈائی آکسائيڈ کا 30 فیصد جذب کرلیتے ہيں۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے اس شمارے کی کور سٹوری زوفین ٹی ابراہیم کی طرف سے اس اہم اور کسی حد تک پاکستان میں نظرانداز کیے جانے والے مسئلے کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے بحیرہ عرب میں سمندری حیات کو درپیش اہم مسائل کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ آپ اس تحریر میں سکوبا ڈائیورز کے ایک گروپ سے بھی ملیں گے جنہوں نے سمندر سے ملبے کا خاتمہ کرنے اور سمندری جانوروں کے تحفظ کا تہیہ کر رکھا ہے۔

ابراہیم بتاتی ہیں کہ سمندروں کی بڑے سائز کی وجہ سے ان کی صفائی آسان کام نہيں ہے۔ اب تک ایسے کوئی اوزار نہیں بنے جن کی مدد سے سمندری حیات کو نقصان پہنچائے بغیر کچرے کی صفائی کی جاسکے۔

ماہرین کے مطابق سمندری کچرے میں مچھلی پکڑنے والے جال اور پلاسٹک سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوتے ہیں۔ ’گھوسٹ‘ جال سمندر میں نظر نہيں آتے اور ان میں پھنسنے والا کوئی بھی جانور زندہ نہيں بچتا ہے۔ ان جالوں کو سمندر سے نکالنا پانی کے نیچے کیے گئے کاموں میں مشکل ترین کاموں میں ہوتا ہے۔ اسی تحریر میں آپ صوبہ سندھ میں مچھیروں کے ایک صدیوں پرانے گاؤں عبدالرحمان گوٹھ کے بارے میں بھی پڑھیں گے جسے سمندری حیات کے تحفظ پر لگایا گیا ہے اور اب وہاں مقامی افراد کے لیے کاروباری مواقع بھی فراہم کیے جارہے ہیں۔

سوالات و جوابات کے حصے میں ہم نے سرمایہ کار نامی ادارے کے بانی رابیل وڑائچ کا انٹریو کیا ہے۔ پاکستان میں وینچر کیپٹل کے ارتقاء کے بارے میں دلچسپ گفتگو کرتے ہوئے وہ وینچر کیپیٹل سے تعلق رکھنے والے ضوابط اور پالیسیوں جیسی مشکلات کے بارے میں بات کرتے ہیں، اور سرمایہ کار کی تخلیق کا قصہ بھی سناتے ہيں۔

وڑائچ دراز ڈاٹ پی کے اور زمین ڈاٹ کام کو پاکستان کی کامیاب سٹارٹ اپس کمپنیوں میں شمار کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ یہ صرف ابتداء ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں صلاحیت کی کمی نہيں ہے، لیکن آگاہی پیدا کرنے کی بہت گنجائش باقی ہے۔ وہ ابھرتے ہوئے انٹر پرینورز کو مقامی مسائل پر توجہ مرکوز رکھنے، اور دوسرے وینچر کیپیٹلسٹس‬‎  کو مقامی افراد کے ساتھ کام کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ وڑائچ پاکستان کو سرمایہ کاری کے اعتبار سے بھارت سے بھی زیادہ مفید کیوں سمجھتے ہيں؟ یہ جاننے کے لیے ان کا مضمون پڑھیں۔

تعلیمی اصلاح کی مہم الف اعلان نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی طلباء مستقل طور پر ریاضی اور سائنس کے مضامین میں کم نمبر لیتے ہیں۔ ہمارے ریویو کے سیکشن میں سائنس فیوز نامی تنظيم کے بارے میں بتایا گيا ہے، جو سائنس بچوں کےلیے مزے دار اور دلچسپ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس تنظیم کی بانی لالہ رخ ملک اور ان کی سائنس کے رابطہ کار کی ٹیم سے ملیے، جو بچوں کو حقیقی زندگی میں سائنس کے ان تصورات سے متعارف کرتے ہیں جن کے بارے میں انہوں نے صرف کتابوں میں پڑھا ہے۔

آخر میں، لاہور میں شہری ترقی کی وجہ سے بڑی تیزی سے ختم ہونے والی ہریالی کے بارے میں ایمل غنی کا مضمون پڑھیے، جس میں انہوں نے ایک کروڑ دس لاکھ افراد کی آبادی رکھنے والے اس شہر کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز کو بھی اجاگر کیا ہے۔

ڈاکٹر عمر سیف
مدیر اعلیٰ

Authors
Top