Global Editions

اداریہ

اس سال جولائی کے شروع میں امریکی حکومت نے پاکستان کا سفر کرنے والے اپنے شہریوں کو ادویات کے خلاف شدید مزاحمت رکھنے والے ایکس ڈی آر ٹائفائيڈ کی ویکسین لگوانے کی ایڈوائزری جاری کی کیونکہ یہ وبا پاکستان کے صوبہ سندھ کے کچھ حصوں میں پھیلی ہوئی تھی۔ تاہم پاکستانی میڈیا میں اس وبا کو زیادہ اجاگر نہيں کیا گيا۔ ٹائیفائيڈ سیلمونیلا ٹائفی نامی بیکٹیریا کی وجہ سے پھیلنے والی ایک جان لیوہ بیماری ہے، اور بتایا جاتا ہے کہ یہ نیا سٹرین پانچ اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا علاج کافی مشکل ثابت ہورہا ہے۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے اس شمارے کی کور سٹوری میں رمشا جہانگیر نےحیدر آباد اور کراچی سے رپورٹ کرتے ہوئے اس اہم مسئلہ کو اجاگر کیا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے ریکارڈز کے مطابق سندھ کے 14 اضلاع میں ایکس ڈی آر ٹائفائيڈ کے کم از کم ایک ہزار کیسز کی لیب میں تصدیق ہوچکی ہے، جن میں سے 800 کیسز 2016ء اور 2017ء کے درمیان صرف حیدرآباد سے ہی رپورٹ ہوئے تھے۔

اس تحریر میں یہ بھی بتایا گیا ہےاینٹی بائیو ٹکس کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث پاکستان ميں 2000ء سے پندرہ سال کے اندر اندر اینٹی بائیوٹکس کا استعمال 80 کروڑ یومیہ خوراکوں سے بڑھ کر 1.3 ارب یومیہ خوراکیں ہوچکا ہے، جو اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت میں اضافے کی وجہ بن رہا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد انفیکشنز گندے پانی کے باعث ہوتے ہیں۔ پاکستان میں پینے کے صاف پانی کی دستیابی کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟ یہ جاننے کے لیے ماہ رخ سرور کا مضمون ملاحظہ کريں۔

دنیا بھر کی آبادی کا 28 فیصد حصہ، یعنی دو ارب افراد، آلودہ پانی پیتے ہيں۔ پاکستان میں پانی کے معیار کے متعلق سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہيں ہیں، تاہم پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر کے 23 بڑے شہروں سے 369 پانی کے ذرائع میں سے 255 (یعنی 69 فیصد) کا پانی پینے کے قابل نہيں ہے۔

پی سی آر ڈبلیو آر کے مطابق، پاکستان میں 90 فیصد سے زائد پینے کا پانی زیر زمین ذرائع سے حاصل ہوتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں پانچ سے چھ کروڑ کے درمیان افراد، یعنی پاکستان کی ایک چوتھائی آبادی کو آلودہ زمینی پانی ملتا ہے۔

جہاں صاف پانی تک رسائی کا تعلق ہے، بین الاقوامی غیرمنافع بخش ادارے واٹرایڈ (WaterAid) کی 2018ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اُن ممالک کی فہرست میں نویں نمبر پر ہے جن میں صاف پانی دستیاب نہيں ہے۔ دوسری طرف ہمارا پڑوسی ملک بھارت پہلے نمبر پر ہے، جس میں 16.3 کروڑ افراد کو صاف پانی میسر نہيں ہے۔

ہمارے سوال و جواب کے حصے میں پشاور کی سی ای سی او ایس یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگریٹو بائیوسائنسز کے بانی ڈائریکٹر فیصل خان حیاتیاتی تحقیق میں مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ مصنوعی حیاتیات کی مدد سے کمپیوٹرز پر جینیاتی سرکٹس کی ڈيزائننگ پر بھی تبصرہ کرتے ہيں۔ نیز، فیصل خان، جو پشاور میں واقع سٹارٹ اپ انکوبیٹر بیس کیمپ 2.0 کے بھی ذمہ دار ہیں، اس انٹرویو میں ہمیں بتاتے ہيں کہ امریکی ادارے میساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں منعقد ہونے والےآئی جیم مقابلے میں شرکت کرنے والی پاکستانی ٹیمیں کس طرح تمغے جیتنے میں کامیاب رہیں۔

آخر میں، پاکستان اور دنیا بھر میں اپراکسی میٹ کمپیوٹنگ کے شعبے میں کیا کیا کام ہورہا ہے، اور اس سے سگنل پراسیسنگ اور ملٹی میڈیا کی ایپلی کیشنز میں توانائی کی بچت کس طرح ممکن ہو سکے گی؟ یہ جاننے کے لیے ڈاکٹر ریحان حفیظ کا اپراکسی میٹ کمپیوٹنگ کے متعلق مضمون ضرور پڑھیں۔

ڈاکٹر عمر سیف
مدیر اعلیٰ

Read in English

Authors
Top