Global Editions

پاکستان میں بگ ڈیٹا کا استعمال اور مواقع

نومبر 2008ء امریکہ اور عالمی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی کے آغاز کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اس سال افریقی نژاد امریکی اور نسبتاً جونیئر سینیٹرامریکہ کے صدر منتخب ہوئے۔ ایک مضمون میں رابرٹ میک گوئیگان (Robert McGuigan)اپنے ایک مضمون “بارک اوباما: کس طرح ایک نامعلوم سینیٹر امریکی صدر بن گئے” (Barack Obama: How an Unknown Senator Became President of the USA)میں لکھتے ہیں کہ “بارک حسین اوبامہ کی آمد نہ صرف امریکی سیاست میں بلکہ امریکی ووٹنگ پیٹرن میں بھی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو میں ساشا آئسن برگ (Sasha Issenberg)اپنے ایک آرٹیکل “مور پرفیکٹ یونین” (More Perfect Union)میں لکھتے ہیں کہ “اوباما کی مہم کے منتظمین2012ء میں انتخابی سال کے آغاز میں 69,456,897ووٹر وں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے۔ ربیکا پنیئرو (Rebecca Pineiro)اپنے ایک آرٹیکل ’’ 2008 اور 2012 کے صدارتی انتخابات میں سوشل میڈیا کے سیاسی اور ثقافتی اثر و رسوخ‘‘ (E-Electioneering: The Political and Cultural Influence of Social Media in 2008 and 2012 Presidential Elections)میں لکھتی ہیں کہ انہوں نے یہ کیسے کیا؟ ” 2008 ءکے صدارتی انتخابات کے بعد واقعات کے تسلسل کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ بارک اوبامہ کی نامزدگی اور انتخابی مہم نے امریکہ میں انتخابی سیاست کو تبدیل کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ “یہ پہلی سیاسی مہم تھی جس میں ووٹروں تک پہنچنے کیلئے انٹرنیٹ اور آن لائن ڈیٹا بیس سے موثر انداز سے فائدہ اٹھایا گیا تھا۔ سیاسی مہم کو ڈیجیٹل سطح پر چلانے سے ووٹرز کو امریکی امیدواروں اور مسائل کے بارے میں جاننے میں مدد ملی اور امریکیوں کو سیاسی و سماجی سرگرمیوں کیلئے سوشل میڈیا سے منسلک ہونے کیلئے حوصلہ افزائی کی گئی۔

اوباما کی 2012ء کی انتخابی مہم کے منیجر جم میسنا (Jim Messina)نے ایک تجزیاتی ڈیپارٹمنٹ بنایا جو 2008ء کی انتخابی مہم کے دوران قائم کردہ ڈیپارٹمنٹ سے پانچ گنا بڑا تھا۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے شکاگو ہیڈکوارٹر کیلئے راعد غنی کو بطور چیف سائنسدان بھرتی کیا جو پہلے سپر مارکیٹس کے بگ ڈیٹا کا تجزیہ کرتے تھے۔ اوباما کی ہائی ٹیک ٹیم نے 2008ء کے الیکشن جیتے تو ان کی کامیابی نے بہت بڑی کمزوری پر پردہ ڈال دیا۔مائیکل سکیرر (Michael Scherer) نے ٹائمز (Times)کے اپنے آرٹیکل “ڈیٹا جمع کرنے والوں کی خفیہ دنیا نے کس طرح اوباما کی مدد کی”میں نشاندہی کرتے ہیں کہ بہت زیادہ ڈیٹا بیس تیار کیا گیا۔ اوباما کی انتخابی دفاتر میں رضاکار مرتب کردہ فہرست سے فون کالز کرتے جو انتخابی فہرست سے مختلف تھی۔ وہ یہ فہرستیں لے کر ووٹرز کو قائل کرنے کیلئے باہر نکل جاتے۔ ان کا ڈیٹا بیس سی آئی اے یا ایف بی آئی کی طرح ترتیب دیا گیا تھا۔ لہٰذا پہلے 18ماہ کے دوران جس میں ڈیٹا کا ایک بڑا لیکن واحد نظام تخلیق کیا گیاجس میں پولنگ دفاتر ، فنڈ ریزرز، فیلڈ ورکرز ،صارفین کے ڈیٹا بیس، میڈیا اور موبائل رابطوں سے ڈیٹا حاصل کیا جاتا تھا۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو میں اپنے آرٹیکل “ڈیٹا نے انتخاب جیت لیا: کیا یہ دنیا کو بچا سکتا ہے”(Data Won the Election: Can it Save the World) ٹیڈ گرین والڈ لکھتے ہیں کہ غنی نے اوباما کیلئے شماریاتی ماڈل بنایا جو ہر ووٹر کا پانچ عوامل کے ساتھ تجزیہ کرتا تھا۔ ان میں ” صدر کی حتمی حمایت رکھنے والے لوگ، وہ لوگ جنہیں صدارتی انتخاب میں حمایت کیلئے قائل کرنے کی ضرورت ہے، عطیات دینے کا امکان، رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے، جو لوگ لازماً ووٹ کاسٹ کریں گے۔ اس ماڈل کے تحت ووٹر کے گھر کی دہلیز پر اسے قائل کرنا، انہیں فون کالز کرنا، ٹی وی پر اشتہارات دینا اور بحث و مباحثہ میں حصہ لینا اور آن لائن اشتہارات دینا شامل ہیں۔ ایم آئی ٹی میں ڈیجیٹل معیشت کے شعبے کے ڈائریکٹر ایرک برنجولفسن (Erik Brynjolsson)کہتے ہیں کہ انتخابی مہم میں ووٹرز کا ڈیٹا اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ کمپیوٹر کو پہلے صرف مالی اثاثوں کے تخمینے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا، ڈیٹا کو اثاثہ تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ اب کمپیوٹر حقیقی معنوں میں لوگوں کو خدمات فراہم کررہا ہے اور اس میں ڈیٹا سب سے اہم اثاثہ ہے۔ فورچون 500میں بہت سے سی ای اوز اس حقیقت کو پوری طرح تسلیم نہیں کرتے ۔

ایم آئی ٹی کے آرٹیکل دی رائز آف ڈیٹا کیپٹل میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ڈیٹا کے حقائق پر مبنی فیصلہ سازی سے توقع سے 6سے 7فیصد زیادہ بہتر نتائج برامد ہوئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بگ ڈیٹا اور ڈیٹا سائنس ٹیکنالوجی کی طاقت کو پاکستان کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے؟کیا پاکستان کی سیاسی جماعتیں بگ ڈیٹا سے سیاست اور انتخابات میں فائدہ اٹھانے کیلئے تیار ہیں اور کیا اس کیلئے سازگار ماحول دستیاب ہے؟ انتخابات کیلئے آج کل سیاسی جماعتیں صرف آف لائن معلومات مثلاً ووٹر فہرستوں پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ سیاست میں بگ ڈیٹا ووٹر کے جذبات و احساسات وغیرہ کی صحیح تصویر کشی کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ متذکرہ بالا سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ اب تک پاکستان کے انتخابات اور سیاست میں ڈیٹا تجزیہ اور ٹیکنالوجی کا کوئی قابل ذکر استعمال نہیں کیا گیا۔ البتہ کاروباری دنیا میں بہت سی کمپنیاں بہتر کاروباری فیصلوں کیلئے ڈیٹا تجزیہ کا استعمال کرتی ہیں۔

بگ ڈیٹا اور سیاست

ساؤتھ بینڈ انڈیانا ریاست میں یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیوڈ ڈبلیو نکرسن David W. Nickersonنے صدر بارک اوباما کے دوبارہ انتخابی مہم کیلئے تجزیاتی سیکشن کے انچارج تھے۔ ہارورڈ کینیڈی سکول، کیمبرج، میسا چوسٹس میں پبلک پالیسی کے اسسٹنٹ پروفیسر ٹوڈ راجرز(Todd Rogers)نے اپنے جریدے اکنامک پرسپیکٹو میں آرٹیکل میں لکھا ہے کہ “سیاسی مہمات اور بگ ڈیٹا” لکھتے ہیں کہ ہم عصر سیاسی مہم میں ڈیٹا کو بہت سے طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق سیاسی ڈیٹا کا بنیادی مقصد ووٹرز سے رابطہ ہے۔ وہ اپنے جریدے میں لکھتے ہیں کہ جدید سیاسی مہمات میں شہری کی تفصیلی معلومات پر مبنی ڈیٹا بیس بنایا جاتا ہےتاکہ انتخابی حکمت عملی مرتب کی جاسکے۔ اگرچہ اس میں صارف سے متعلق حساس معلومات دی گئی ہیں لیکن سب سے اہم بات ووٹر کے رویئے سے متعلق معلومات ہیں۔ انتخابی مہم کی سطح پر ڈیٹا صارف یا ووٹر کی پسند و ناپسند ، سیاسی رویئے، امیدواروں کی حمایت، مسائل ، ان کی حمایت میں تبدیلی کے بارے میں جاننے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کےپروفیسر گیری کنگ کہتے ہیں کہ بگ ڈیٹا کی مقدار انقلاب نہیں ہے بلکہ انقلاب یہ ہے کہ ہم ڈیٹا سے کس طرح کام کرسکتے ہیں۔

بھارتی تجربے

بھارت کے عام انتخابات 2014ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کامیابی کو وسیع پیمانے پر بگ ڈیٹاسے منسوب کیا جاتا ہےجس نے پارٹی کو ووٹر کو سمجھنے اور اس کے مطابق ایک موثر مہم تیار کرنے میں مدد دی۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ویب سائیٹ کے مطابق 2014ء کے لوک سبھا انتخابات کے 543حلقوں میں 8000امیدوار اور 800ملین ووٹرز تھے۔ ان معلومات میں امیدوار کے ڈکلیر اثاثوں کی تفصیلات، سوشل میڈیا پر ان کو فالو کرنے والوں کی تعداد اور دیگر ریکارڈ شامل تھا۔ ظاہر ہے کہ اتنی زیادہ معلومات یقینی طور پر بگ ڈیٹا تشکیل دیتی تھیں۔ بی جے پی نے ڈیجٹل وار روم قائم کرکے ان وسیع معلومات کا فائدہ اٹھایا۔ جس میں سو سے زیادہ تکنیکی اور اعدادوشمار کے ماہرین کے علاوہ کچھ بڑی ڈیٹا فرمیں بھی خدمات سرانجام دے رہی تھیں۔ تاکہ انتخابی مہم میں ووٹرز کی معلومات کا نہ صرف تجزیہ کیا جاسکےبلکہ ووٹرز کے ساتھ ڈیجیٹل رابطے میں بھی رہا جاسکے اور کسی بھی مسئلے پر تیزی سے ردعمل دیا جاسکے۔ اکنامک ٹائمز کے آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے انتخابات کے برعکس بی جے پی نے اپنی ٹیم میں ٹیکنوکریٹس کو جگہ دی۔ اور انتخابی مہم کے دوران اٹھنے والے مسائل پر اپنی پرانی سیاسی حریف کانگرس پارٹی سے زیادہ تیزی کے ساتھ ردعمل کا اظہار کیا۔

اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ انتخابات کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔ مودی کی حکومت نے عوام کو براہ راست ڈیجیٹل حکومت میں شامل کرنے کیلئے مائی گورنمنٹ(MyGov)اور بھارت کی ترقی اور تبدیلی کے نعرے کے تحت اوپن گورنمنٹ ڈیٹا (Open Government Data)کا پلیٹ فارم فراہم کیا۔ نریندر مودی نے ٹیکنالوجی کی صلاحیت اور طاقت کو سمجھتے ہوئے ٹیکنالوجی کی نئی کمپنیوں کیلئے سٹارٹ اپ انڈیا (Startup India)کا آغاز کیا۔ الیکشن کے دوران بہت سی نئی پارٹیاں وجود میں آئیں جن سے بی جے پی جیسی سیاسی پارٹی نے فائدہ اٹھایا۔ سری سافٹ وئیر کے متبادل ووکسٹا (Voxta)نے مودی کی ہندی تقریر کیلئے باہمی رابطے کے دوران آواز کی پہچان کرنے والا ٹیکنالوجی پر مبنی فون متعارف کروایا۔ ووکسٹا کا کہنا ہے کہ اس فون پر لوگ مودی سے اپنے مسائل پر بات کرتے، فون ٹیکنالوجی الفاظ کی پہچان کرتی بات چیت کو ریکارڈ کرلیتی جسے مودی دوبارہ سن سکتے تھے۔

بتدریج مرتب ہونے والے اثرات

بھارتی ایوان زیریں لوک سبھا میں بھارتی ریاست اڑیسہ میں بالاثور سے منتخب ہونے والی رابندرا کمار جینا سمیت بہت سے سیاستدان اب فیصلہ سازی اور حکمرانی کیلئے بگ ڈیٹا کا استعمال کررہے ہیں۔ ایک غیر منافع بخش رضاکار تنظیم بھارت گیان وگیان سیتی آر کے جینا کے حلقے میں ٹیبلٹ کی ایپلی کیشن میں دیہات کی سطح پر اعدادوشمار اکٹھے کررہے ہیں۔ ان میں اسکولوں، طبی سہولیات، سڑکوں، ٹرانسپورٹ اور زراعت وغیرہ کی معلومات شامل ہیں جس کا تجزیہ ایک غیر منافع بخش تنظیم کررہی ہے۔ اس میں کوئی تعجب نہیں کہ ارکان اسمبلی اپنے ترقیاتی منصوبوں کیلئے براہ راست عوام سے رابطے میں رہیں۔

بگ ڈیٹا کیا ہے؟

ایم آئی ٹی کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی انٹیلی جنس لیبارٹری بگ ڈیٹا کی وضاحت کرتے ہیں کہ “بگ ڈیٹا سے مراد بہت زیادہ (too big)، بہت تیز(too fast)اور تجزیہ کیلئے موجودہ ٹولز کیلئے بہت مشکل (too hard)ہو۔ سی ایس اے آئی ایل کی تعریف میں بہت زیادہ سے مراد ڈیٹا کا پیٹا بائیٹ (Petabyte)میں موجود ہونا ہے۔ تعریف میں بہت تیز سے مراد ڈیٹا کو پراسیس کرنے کا تیز عمل ہے۔ایسا ڈیٹا جس کو موجودہ پراسیسنگ ٹولز مکمل طور پر تجزیہ نہ کرسکیں۔
اسی طرح آئی بی ایم کا کہنا ہے کہ مختلف ذرائع سے آنے والی خطرناک حد تک تیز رفتار سے، مختلف اقسام کا اور بڑی تعداد میں ملنے والے ڈیٹا کو بگ ڈیٹا کہتے ہیں۔ اور بگ ڈیٹا سے بامعنی معلومات حاصل کرنے کیلئے تیز رفتار پراسیسنگ پاور، تجزیہ کرنے کی اہلیت اور مہارتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔
یہ عام طور پر دلیل دی جاتی ہے کہ بنیادی طور پر انٹرنیٹ کی وجہ سے آج کی دنیا میں 90فیصد ڈیٹا گزشتہ چند سالوں میں پیدا کیا گیا ہے۔ اس سے یہ بات کافی آسانی سے سمجھ آجاتی ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر بہت بڑی مقدار میں ڈیٹا پیدا ہو رہا ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ روزا نہ آن لائن 2.5ایکسا بائیٹ (Exabyte)یا 2.5 ارب گیگا بائیٹ کے برابر روزانہ ڈیٹا پیدا کیا جارہا ہے۔

بگ ڈیٹا کہاں سے آتا ہے؟

اگرچہ آج ہمارے ارد گرد تقریبا سب کچھ صارف کے تیار کردہ ڈیٹا ہے تاہم بنیادی طور پر معلومات کا یہ خزانہ صارفین انٹرنیٹ پر تخلیق کرتے ہیں۔ یہ ڈیٹا لاگ فائلز، ڈیجیٹل رسیدوں، ٹیکس ریٹرنز، اور آلات بشمول سینسر، موبائل، اے ٹی ایمز حتیٰ کہ سیٹلائیٹس سے تخلیق ہوتا ہے۔ آج انٹرنیٹ آف تھنگز کے ذریعے ناقابل یقین حد تک تیز رفتاری سے ڈیٹا تخلیق ہو رہا ہے۔ جبکہ سوشل میڈیا مثلاً ٹویٹر، یو ٹیوب اور فیس بک کی وجہ سے ڈیٹا کے بارے میں عالمی نقطہء نظر بھی تیزی سے بدل رہا ہے۔ سوشل میڈیا، مختلف سرویز اور دیگر معلومات کے ذرائع سے ملنے والے ڈیٹا سے انقلاب لایا جاسکتا ہے کہ لوگ کس طرح سیاسی عمل میں حصہ لیتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں قابل عمل اور موثر حکمت عملی مرتب کرنے کیلئے بگ ڈیٹا کا تجزیہ کرکے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ بگ ڈیٹا کا اصل مقصد عوام کے جذبات اور احساسات کا جائزہ لینا اور ٹیکنالوجی کی مدد سے عوام کو سیاسی مسائل کے حل میں مشغول رکھا ہے۔
بگ ڈیٹا کے تجزیئے اور اس کے مارکیٹ سائز سے کیا مرادہے؟

سادہ الفاظ میں بگ ڈیٹا کی پوشیدہ اور جزئیات میں موجود معلومات افراد اور کمپنیوں کو فیصلہ سازی میں مدد دیتی ہیں۔ اسی طرح منظم اور غیر منظم شکل میں موجود بگ ڈیٹا کا تجزیہ جدید تجزیاتی تکنیکس استعمال کرکے قابل عمل ، نئی حکمت عملی اور فیصلہ سازی میں معاون ہوتا ہے۔ آئی بی ایم کے مطابق بگ ڈیٹا کا تجزیہ کرنے سے تجزیہ کاروں، محققین، اور کاروباری افراد کو ان معاملات میں بہتر اور تیز تر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے جن کے بارے میں پہلے تجزیہ کرنا ممکن نہ تھا۔ جدید ترین تجزیاتی سہولیات مثلاً متن کا تجزیہ، مشین لرننگ ، مستقبل کے امکانات کا تجزیہ ، ڈیٹا مائننگ، شماریات اور قدرتی زبان کی پراسیسنگ سے کاروباری ادارے اس ڈیٹا کا تجزیہ کرسکتے ہیں جسے پہلے چھیڑا ہی نہیں گیا اس سے انہیں کاروبار میں نئے امکانات اور تیز تر فیصلوں میں مدد ملتی ہے۔

گہرائی میں سمجھنے اور تجزیہ کرنے کیلئے موٹر ویز اور ہائی ویز کا ٹریفک سے متعلق ڈیٹا کےایک سادہ مثال ہے۔ اس کے تجزیئے سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ٹریفک حادثات کہاں زیادہ ہوتے ہیں، کس عمر اور جنس کے لوگ ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اس میں وقت کے عنصر کا بھی تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔حتیٰ کہ ڈیٹا کے تجزیئے سے حادثات پر موسم کے اثرات کے بارے میں بھی بتایا جاسکتا ہے۔ آپ کو موٹر وے پولیس کی کارکردگی اور موٹر وے پر ہونے والی ڈکیتیوں کی شرح کے بارے میں بھی علم ہو سکتا ہے۔ ہر روز بہت بڑی تعداد میں ڈیٹا تخلیق ہو رہا ہے اور اس سے متعلق نئی ٹیکنالوجیز متعارف کروائی جارہی ہیں جسے مدنظر رکھتے ہوئے بگ ڈیٹا کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ امریکہ میں قائم گرانڈ ویو ریسرچ کمپنی کی رپورٹ کے مطابق 2014ء میں بگ ڈیٹا کا مارکیٹ سائز 27 ارب ڈالر تھا جو 2022ء تک 72.38 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

امریکی جریدہ ہارورڈ بزنس ریویو نے 2012ء میں اپنی رپورٹ میں ڈیٹا سائنٹسٹ کی ملازمت کو سب سے پرکشش قرار دیا اور معلومات کے اس دور میں ڈیٹا سائنسدانوں کی بڑھتی ہوئی طلب اس رپورٹ کو سچ ثابت کرتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں کاروباری افراد اور ادارے معاشی مفاد حاصل کرنے کیلئے شماریات کے ماہرین اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انتخابی مہم میں ڈیٹا سائنسدان کا کردار عوامی رویئے کا تجزیہ کرنے ، ووٹرز کو متاثر کرنے کی حکمت عملی مرتب کرنے، حامیوں کو متحرک کرنے میں بہت اہم ہوتا جارہا ہے۔ تاہم ڈیٹا سائنسدانوں کی قلت کو دور کرنے کیلئے یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں ڈیٹا سائنس پر توجہ دی جارہی ہے۔

امریکی تجربہ

سیاسی طور پر بگ ڈیٹا کو جو بڑی مثال دی جاتی ہے وہ امریکہ میں صدر بارک اوباما کی 2008ءاور 2012ء کی انتخابی مہم ہے۔ تاریخ میں اوباما کی 2012ء کی انتخابی مہم کے دوران بگ ڈیٹا کے استعمال کو بہت مقام حاصل ہے۔ جس میں بگ ڈیٹا کا وسیع پیمانے پر موثر اور شفاف تجزیہ کیا گیا۔ بگ ڈیٹا اور اس کے تجزیئے میں بھاری سرمایہ کاری کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ رپورٹ یہ ہے کہ 2009ء میں صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کی ٹیم نے 2012ء کے الیکشن کی تیاری شروع کردی تھی۔ ماہرین اور تجزیہ کارحالیہ امریکی انتخابات میں بعض امیدواروں بالخصوص ہلیری کلنٹن کی ٹیم کی طرف سے ڈیٹا سے جدید ترین بنیادوں پر استفادہ حاصل کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آج مختلف سوشل نیٹ ورک خصوصاً فیس بک نے انتخابی مہم کیلئے خصوصی ٹولز متعارف کروائے ہیں۔

اوباما انتظامیہ نے2009ء میں عوامی شراکت داری کیلئے ڈیٹا ڈاٹ گوو (Data.gov)نام سے ویب سائیٹ متعارف کروائی جس میں تعلیم ، توانائی، زراعت، سائنس پر تحقیق کیلئے ہزاروں کی تعداد میں ڈیٹا سیٹس موجود ہیں جس سے محققین، طلباء ، کسان ، اساتذہ، فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آسانی سے قابل رسائی ڈیٹا سے عوام وخواص فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آج یہی ڈیٹا بہت سی سافٹ وئیر ایپلی کیشنز میں استعمال ہو رہا ہے اور لوگوں کو فیصلے کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ٍ مارچ 2012 ء میں اوبامہ انتظامیہنے بگ ڈیٹا کے سائنسدانوں کی اگلی نسل کی تربیت، بڑھتے ہوئے بگ ڈیٹا کے حجم اور بگ ڈیٹا کی ٹیکنالوجی کیلئے “بگ ڈیٹا ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ منصوبے کا اعلان کیا۔ اب مئی 2016ء میں اوباما انتظامیہ نے بگ ڈیٹا ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کیلئے سٹریٹجک منصوبے کا اعلان کیا ہے جسے ڈیٹا سائنس کیلئے اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔ڈیٹا پر مشتمل انتخابی مہم میں استعمال کئے گئے بہت سے ٹولز اور ٹیکنالوجی نے بہت سے افراد اور نئی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی اس کی ایک بہترین مثال شکاگو میں قائم سوک اینالائیٹک (Civic Analytic)کمپنی ہے۔ اسے ڈان ویگنر (Dan Wagner)نے قائم کیا جو 2012ء میں اوباما کی انتخابی مہم میں چیف تجزیہ کار افسر رہا تھا۔

کاروباری اور تجارتی منصوبوں کیلئے بگ ڈیٹا سے مدد حاصل کرنےکا تصور بھی مضبوط ہورہا ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک خصوصاً امریکہ میں تو یہ تصور اپنی جڑیں مضبوط کرچکا ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ اب تو صنعتیں اور فرمیں اپنے موجودہ اور آئندہ کے منصوبوں کا گہرائی سے جائزہ لینے کیلئے بگ ڈیٹا کی مدد حاصل کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں رائے دہندگان کے رویئے اور طرز عمل جاننے کیلئے ڈیٹا سائنس کے ماہرین اور فرموں سے مدد حاصل کرتے ہیں جو رائے دہندگان کا پول منعقد کرتے ہیں۔ میڈیا ہاؤسز بھی عوامی بحث و مباحث اور پول منعقد کرتے ہیں جو عوامی رائے اور ووٹرز پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

بگ ڈیٹاکا فروغ

جریدہ اکانومسٹ کے ٹیکنالوجی ایڈیٹر لڈوگ سیگل (Ludwig Siegele)کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ اور ہرجگہ ، ہر کسی کیلئے دستیاب ڈھیروں ڈیٹا جمہوری پراسیس کو تبدیل کررہا ہے۔ انٹرنیٹ اور ڈیٹا ایک طاقت بن چکے ہیںان کی مدد سے انتخابی مہم چلائی جارہی ہے، احتجاجی تحریکیں منظم کی جارہی ہیں۔ ماہرین کو یقین ہے کہ حکومتوں کی طرف سے عام دستیاب ڈیٹا (Open Data)اوپن ڈیٹا لوگوں سے براہ راست رابطے اورتحقیق اور مستقبل کے انتخابات کیلئے نہایت معاون ثابت ہوتا ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ “ترقی کیلئے بگ ڈیٹا کا استعمال ” کے مطابق بگ ڈیٹا بڑی آبادی کے جذبات و احساسات کا اندازہ لگانے کیلئے بھی استعمال کیاجا سکتا ہے جبکہ اس کے بہترین استعمال کیلئے ماہرین مثلاً ‘ڈیٹا سائنسدانوں ، پریکٹیشنرز سمیت ہر شعبے کے مختلف ماہرین کی ضرورت ہےجو بگ ڈیٹا کے تکنیکی امکانات کو استعمال میں لا کر اسے گہرائی میں سمجھیں اور اس کی طاقت سے فائدہ اٹھائیں۔ رپورٹ کے مطابق بگ ڈیٹا کے موثر ذرائع میں سیٹلائٹ، موبائل فون، سوشل میڈیا، انٹرنیٹ ، انٹرنیٹ پر تلاش کے سوالات، اور مالی لین دین شامل ہیں۔ تاہم یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ “مختلف ذرائع سے حاصل کردہ ڈیٹا کو احتیاط سے تجزیہ کرنے سے مسائل کو حل کرنے کے نئے راستے ملتے ہیں۔

پاکستان کا انتخابی نظام

جب پاکستان کی انتخابی مہم کی بات کی جاتی ہے تو ہم پاکستان میں زیادہ سے زیادہ ایک درجن کے قریب پارٹیوں کو ان کے ناموں سے جانتے ہیں لیکن الیکشن کمیشن کی فہرست میں 270پارٹیاں موجود ہیں۔ پاکستان کاانتخابی نظام سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے ۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان براہ راست عام انتخابات میں منتخب ہو کر آتے ہیں جبکہ سینٹ کے ممبران بالواسطہ طور پر صوبائی اسمبلیوں سے منتخب ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم کو

اراکین قومی اسمبلی بطور حکومت کا سربراہ منتخب کرتے ہیں جبکہ الیکٹورل کالج صدر کو بطور سربراہ ریاست منتخب کرتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں خواتین کیلئے 60 نشستیں اور غیر مسلموں کیلئے 10 نشستیں مخصوص ہیں جبکہ اس کے کُل ارکان کی تعداد 342ہے۔ قومی اسمبلی میں نشستیں ہر صوبے ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) اور وفاقی دارالحکومت کی نشستیں آبادی کی بنیاد پر تقسیم کی گئی ہیں جبکہ 272ارکان براہ راست منتخب ہو کر آتے ہیں۔ وکی پیڈیا کے صوبائی اسمبلیوں کی سرکاری ویب سائٹ میں کوئی بھی اس کی کل نشستوں کے اعدادوشمار فراہم نہیں کرتی جبکہ پنجاب اسمبلی میں خواتین کے لئے 66اور غیرمسلموں کیلئے 8نشستیں مخصوص ہیں جبکہ اس کی کُل نشستیں 371ہیں ۔ خیبر پختونخواہ اسمبلی میں کُل نشستیں 124ہیں جن میں سے 22خواتین اور تین غیرمسلموں کیلئے مخصوص ہیں۔ سندھ اسمبلی کی کُل نشستیں 168ہیں جن میں سے 29نشستیں خواتین اور 9نشستیں غیر مسلموں کیلئے مخصوص ہیں ۔بلوچستان اسمبلی کی کُل 65نشستیں ہیں جن میں سے 11خواتین اور 3غیر مسلموں کیلئے مخصوص ہیں۔ الیکشن کمیشن کےمطابق عام انتخابات 2013ء میں مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ 55.02رہا جبکہ صوبائی اسمبلیوں کا ووٹر ٹرن آؤٹ 55.26رہا۔ عام انتخابات 2013ء میں کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 86,189,802تھے۔

پاکستان کیلئے ضابطہ کار

مرتضیٰ حیدر رائرسن یونیورسٹی ٹورانٹو کے ٹیڈ راجرز سکول آف مینجمنٹ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور “گیٹنگ سٹارٹڈ ود ڈیٹا سائنس: میکنگ سینس آف ڈیٹا وتھ اینالائیٹکس” کتاب کے مصنف بھی ہیں۔ حیدر کہتے ہیں کہ پاکستان میں عوامی سطح پر اچھا ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔ یہاں پر صارفین اور پبلک ریسرچ سروے کی بہت کمی ہے۔ سیاسی جماعتیں ڈیٹا کی بجائے افرادی قوت پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ پارٹیاں سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے پتھر کے زمانے میں رہ رہی ہیں اور اسی حالت میں رہنا پسند کرتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو سب سے پہلے اپنے ارکان کا تفصیلی ڈیٹا جمع کرنا چاہئے، اندرونی سطح پر انتخابات کروانے چاہئیںاور تب انہیں اندازہ کرنا چاہئے کہ سیاسی طور پر وہ کہاں کھڑی ہیں۔

حیدر کہتے ہیںکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں 2011ء میں آخری مردم شماری ہوئی تھی۔ ہمارا آبادی کا تخمینہ 18سال پرانا ہے۔ پاکستان میں اونچی شرح پیدائش، آبادی کی بڑے پیمانے پر دیہات سے شہروں کو منتقلی اور نقل مکانی نے ان18سالوں میں پاکستان کی مقامی آبادی کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔ لہٰذا قومی نمائندگی کیلئے کی گئی مردم شماری کو بھاری بھر کم اور بہت مشکل چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حیدر کے مطابق پاکستان کی بہتری کیلئے بگ ڈیٹا سے کام لینے کیلئے ہمیں مردم شماری کی ضرورت ہے۔ اس دوران حکومت کو نادرا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے حاصل کردہ ڈیٹا کو عوامی استعمال کیلئے جاری کردینا چاہئے۔ اس سے ترقی کی منصوبہ بندی اور انتخابی حکمت عملیوں کو مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔

تحریر: خالد خٹک (Khalid Khattak)
تعارف : خالد خٹک نیوز انٹرنیشنل میں کام کرتے ہیں۔ حال ہی میں انہوںڈیٹا جرنلزم شروع کیا ہے ۔ انہوں نے پاکستان میں پہلی ڈیٹا جرنلزم پر ویب سائیٹ ’’ڈیٹا سٹوریز ڈاٹ پی کے (datastories.pk)کا آغاز کیا ہے۔

Read in English

Authors

*

Top