Global Editions

امریکی کانگریس نےجینیاتی ایڈیٹنگ کے ذریعےبچوں کی تیاری پر پابندی عائد کر دی

امریکی کانگریس نے جین ایڈیٹنگ تکنیک کے ذریعے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بچوں کی تیاری پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی گزشتہ برس منظور ہونے والے ایک بل کے تحت عائد کی گئی ہے۔ امریکی کانگریس کی جانب سے عائد کی جانیوالی پابندی سے ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے لیکن اس جینیاتی تبدیلی کے لئے وضع کردہ تکنیک CRISPR کے استعمال سے کئی موروثی بیماریوں کا تدارک بھی ممکن ہےلیکن اس اہم پہلو پر متذکرہ بل میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ امریکی کانگریس سے منظور ہونے والے بل میں جین ایڈیٹنگ کی تکنیک CRISPR کے ذریعے انسانی تخم میں تبدیلی کے حوالے سے واضح زبان استعمال کی گئی ہے۔ قانون سازوں نے فیصلہ کیا کہ اس دائرے میں Mitochondrial replacement therapy کو بھی شامل کر لیا جائے۔ اس تھراپی کے ذریعے انسانی تخم کے خلیے کے نیوکلیس کو ایک دوسرے شخص کے تخم کے خلیے میں شامل کر دیا جاتا ہے تاکہ پیدا ہونے والے بچے موروثی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ Mitochondria دراصل اکثر تولیدی خلیوں میں پایا جانے والا جرثو مہ ہے جس میں تنفس اور توانائی کی پیدائش کے لیے خامرے موجود ہوتے ہیں۔ ان کا اپنا الگ ڈی این اے ہوتا ہے جو نیوکلئیس کے ڈی این اے سے مختلف ہو سکتا ہے۔ بچے ہمیشہ اپنی ماں کے mitochondrial جینیوم سےوراثتی طور پر حاصل کرتے ہیں۔تاہم کئی سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی تخم میں تبدیلی کے لئے اجازت طلب کرنا ابھی قبل از وقت اور غیرذمہ دارانہ اقدام ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً ایک ہزار سے چار ہزار بچے تولیدی عمل میں ہونے والی پیچیدگیوں اور موروثی بیماریوں کے حامل ہوتے ہیں اور اس وقت کوئی ایسا منظور شدہ طریقہء علاج دستیاب نہیں ہے جو ان بیماریوں کا علاج کر سکے۔ اوریگان ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کے سینٹر فار ایمبریونک سیل اینڈ جین تھراپی کے ڈائریکٹر شوخرات میٹالیپوف (Shoukhart Mitalipov) جو اس حوالے سے تحقیق کے لئے عالمی شہرت رکھتے ہیں ،انہوں نے حالیہ بل کی منظوری سے قبل بہت سے تجربات کئے۔ ان کے بندروں پر کئے جانیوالے تجربات بہت کامیاب رہے اور وہ ان تحقیق کاروں میں شامل ہیں جنہوں نے “Three Parent” اپروچ کے تحت انسانی جنین پر کامیاب تجربات کئے تاہم انہوں نے ان خلیوں کی پیوند کاری نہیں کی۔ امریکی کانگریس کی جانب سے عائد کی جانیوالی حالیہ پابندی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ قانون سازوں کو جنیٹک بڑھوتی اور جینیاتی خامیوں میں درستگی کے درمیان فرق رکھنا چاہیے تھا۔ اگر جینیاتی خامیوں کو درست کرنے کی اجازت مل جائے تو کئی طرح کی موروثی بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح فلپ یسکی (Philip Yeske) کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایسے بچوں کی پیدائش کا نہیں جنہیں جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے خامیوں سے پاک رکھا جائے بلکہ یہ ان بچوں کا بھی ہے جو کئی طرح کی جینیاتی خامیوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں ،جینیاتی خامیوں کو دور کرنے کے لئے مخصوص تکنیک کے استعمال کی اجازت ملنا چاہیے تھی تاکہ موروثی پیچیدگیوں کے حامل بچوں کو اس کا فائدہ پہنچے۔

تحریر: مائیک اوورکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors

*

Top