Global Editions

یونی لیور کا نئی پاکستانی کمپنیوں کی تربیت گاہوں کے ساتھ اشتراک عمل

معروف کاروباری ادارے یونی لیور نے پاکستان میں نئی کمپنیوں کو تربیت اور معاونت فراہم کرنے والے اداروں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ اشتراک عمل کا اعلان کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والے اس ادارے کے ساتھ اشتراک عمل کے ذریعے نئی ٹیک کمپنیوں کو عالمی سطح پر کام کرنے کا تجربہ حاصل ہو گا۔

اس اشتراک عمل کے ذریعے نئی کمپنیوں کو صارفین تک گھریلو سامان کی فراہمی کے لئے مشہور عالمی ادارے کے ساتھ نہ صرف کام کرنے کا موقع میسر آ سکے گا بلکہ یونی لیور ان کمپنیوں کو ضروری تکنیکی معاونت اور تربیت بھی فراہم کریگا۔ اس اشتراک عمل کا مقصد پاکستان میں انٹرپئیوئر شپ ایکو سسٹم کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

اس حوالے سے یونی لیور پاکستان کے کارپوریٹ فنانس ڈائریکٹر نوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ یونی لیور پاکستان نئی کمپنیوں کو مستقبل کے لئے لانچ پیڈ فراہم کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ پاکستان میں انٹرپئیوئیر شپ کلچر کو پروان چڑھانے میں کردار ادا کر سکیں۔

اس مقصد کے لئے یونی لیور نے پاکستان کے معروف اداروں جن میں لمز، پلان ایکس، انویسٹ ٹو انوویٹ، پاشا، ٹیک انکیوبیٹر، 10XC، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (Nust) کراچی یونیورسٹی آف بزنس ایڈمنسٹریشن، غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجئیرنگ اینڈ سائنسز شامل ہیں کے ساتھ اشتراک عمل کے لئے رابطے کئے اور انہیں انٹرپئنوئرشپ کلچر کے فروغ کے لئے اپنے ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت دی۔ اس ضمن میں پلان ایکس، انویسٹمنٹ ٹو انوویٹ، کراچی یونیورسٹی، نسٹ، غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ، آئی بی اے، این ای ڈی یونیورسٹی اور 10XC پہلے ہی اس اشتراک عمل میں شرکت کا اعلان کر چکے ہیں۔

اس اشتراک عمل کے تحت ہر پارٹنر کو یونی لیور کی جانب سے بیس چیلنجز دئیے جائیں گے جو یونی لیور برانڈ اور پائیدار زندگی کے لئے ضروری ہیں۔ نئی کمپنیوں کو ان چیلنجز کے حوالے پائیدار حل تلاش کرنا ہونگےاور ان یونی لیور کے ساتھ مل کر اس حوالے سے کمرشل ریلیشن شپ کے حوالے سے شوٹ کرنا ہوگا۔ منتخب کمپنیوں کو یونی لیور کے ساتھ کام کرنے اور کمپنی کے مشیران کی جانب سے تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔

اس سلسلے میں پلان ایکس کی ڈائریکٹر حفصہ شورش کا کہنا ہے کہ یونی لیور کی جانب سے ایک پرجوش اورترقی پسند قدم اٹھایا گیا ہے اور اس کے ذریعے نئی کمپنیوں کو اپنی مہارت اور صلاحیتوں کے اظہار کے بہترین مواقع میسر آ سکیں گے اور وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہوئے بہترین حل پیش کر سکیں گی۔ حفصہ شورش کا کہنا تھا کہ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری کمپنیاں انٹرپرائز کی سطح پر پیش آنے والے مسائل کے حل اور تربیتی عمل کے ذریعے اپنی استعداد کار میں اضافے کے قابل ہو سکیں گے۔

تحریر: نشمیا سکھیرا (Nushmiya Sukhera)

Read in English

Authors
Top