Global Editions

اقوام متحدہ سعودی شہریوں کی جانب سے جیف بیزوس کے فون کی مبینہ ہیکنگ کی تفتیش کا مطالبہ کررہا ہے

اس پیچیدہ صورتحال کو دیکھ کر یہی لگ رہا ہے کہ سعودی ولی عہد جیف بیزوس کو ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کررہے ہيں۔

اقوام متحدہ سے وابستہ انسانی حقوق کے ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے واٹس ایپ سے ویڈيو موصول ہونے کے بعد جیف بیزوس کے فون کی ہیکنگ کے متعلق رپورٹس کی تفتیش کرنی چاہیے۔

بیزوس ای کامرس ویب سائٹ ایمزان کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ہونے کے علاوہ واشنگٹن پوسٹ کے بھی مالک ہيں۔ 2018ء میں اس اخبار کے صحافی جمال خشوگی کو سعودی حکومت کی تنقید کے وجہ سے قتل کردیا گيا تھا۔ جب اگلے سال جیف بیزوس کے فون کی مبینہ ہیکنگ کی رپورٹس سامنے آئيں، اس وقت اطلاعات کے مطابق محمد بن سلمان خشوگی کے قتل کی تفتیش کررہے تھے۔

ایک فورینزک تجزيے کے مطابق بیزوس کے فون کو محمد بن سلمان کی طرف سے واٹس ایپ پر بھیجی گئی ویڈيو موصول ہونے کے بعد ہیک ہونے کے ”متوسط تا اعلی درجے کے امکانات“ موجود تھے۔ یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد اقوام متحدہ سے وابستہ ماہرین نے یاددہانی کروائی کہ سعودی شاہی خاندان، خصوصی طور پر محمد بن سلمان، طویل عرصے سے ناقدین کی نگرانی کررہے ہيں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے غیرعدالتی قتل ایگنس کیلامارڈ (Agnes Callamard) اور خصوصی نمائندہ برائے اظہار خیال ڈیوڈ کے (David Kaye) نے ایک مشترکہ بیان میں بتایا کہ ”ہمیں جو معلومات موصول ہوئی ہيں، اس کے مطابق ممکن ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کی سعودی عرب کے متعلق خبروں کو متاثر کرنے یا دبانے کی غرض سے جیف بیزوس کی نگرانی میں سعودی ولی عہد کا ہاتھ ہے۔ امریکی اور دیگر متعلقہ حکام کو فوری طور پر جیف بیزوس اور دیگر افراد کے فون کی مبینہ ہیکنگ کے علاوہ، محمد بن سلمان کی ممکنہ مخالفین کو نشانہ بنانے کی مستقل اور دیرینہ کوششوں کی تفتیش کرنے کی ضرورت ہے۔“

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق 4 اپریل 2018 کو بیزوس نے ایک عشائیے کے دوران سعودی ولی عہد کو اپنا فون نمبر دیا، اور یکم مئی کو محمد بن سلمان نے انہيں بذریعہ واٹس ایپ ایک ویڈيو فائل بھیجی۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے بتایا کہ ”بعد میں یقینی طور پر ثابت ہوگیا کہ اس ویڈيو کے ڈاؤن لوڈر کے باعث جیف بیزوس کے فون میں نقصان دہ کوڈ نصب ہوگیا۔“ ایک مہینے کے اندر اندر، خشوگی سے روابط رکھنے والے متعدد انحرافیوں، انسانی حقوق کے کارکنان اور دیگر افراد کے فونز ہیک ہوگئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ان ہیکس کے پیچھے سپائی ویئر بنانے والی معروف اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ (NSO Group) کا ہاتھ تھا۔

تاہم این ایس او گروپ نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ”ہماری ٹیکنالوجی کو اس مقصد کے لیے نہيں استعمال کیا گيا۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارا سافٹ ویئر کس طرح کام کرتا ہے، اور ہمیں یہ بات بھی اچھے سے معلوم ہے کہ ہماری ٹیکنالوجی کو امریکی فون نمبرز پر استعمال نہيں کیا جاسکتا۔“

2 اکتوبر 2018ء کو خشوگی کو واشنگٹن پوسٹ میں سعودی شاہی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنانے کے باعث استنبول میں واقع سعودی ایمبسی میں قتل کردیا گيا۔ اس واقعے کے بعد سعودی شہریوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس پر ایمزان کو بائیکاٹ کرنے کے مطالبوں کی بھرمار شروع ہوگئی۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی حکام اسی نگرانی کے ذریعے جیف بیزوس کی نجی زندگی پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ ان کی اپنی بیوی سے بے وفائی کی اطلاعات منظرعام پر آنے سے کئی ماہ قبل، جیف بیزوس کے فون پر سعودی ولی عہد کے واٹس ایپ اکاؤنٹ سے ایک خاتون کی تصویر بھیجی گئی جن کی شکل اس عورت سے مشابہت رکھتی تھی جن کے ساتھ ان کے ناجائز تعلقات تھے۔

اقوام متحدہ کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ ”اس دوران، جیف بیزوس کو سعودی مملکت کا مبینہ مخالف تصور کیا جارہا تھا، اور انہيں سوشل میڈیا پر خاصی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مالک ہونے کے ناتے، جیف بیزوس اور ایمزان کے خلاف خفیہ آن لائن محاذ کھڑا کیا گیا۔“

دو مہینے بعد، نیشنل انکوائرر (National Enquirer) نامی اخبار نے جیف بیزوس کے ناجائز تعلقات کے متعلق خبر شائع کردی۔ جواب ميں بیزوس نے کہا کہ وہ معلوم کریں گے کہ اس اخبار کو ان کے ذاتی ٹیکسٹ میسیجز تک کس طرح رسائی حاصل ہوئی۔

انہوں نے ایک تحریر میں لکھا کہ ”واشنگٹن پوسٹ کی کوریج دیکھنے والے چند طاقتور افراد اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجائيں گے کہ میں ان کے خلاف ہوں۔“

سعودی ولی عہد کے فون سے بیزوس کو بھیجی جانے والی ویڈیو فائل کی نوعیت کا تعین نہيں ہوسکا ہے، لیکن یہ بات طے ہے کہ اس کی موصولی کے بعد بیزوس کے فون سے وافر مقدار میں ڈیٹا کی برآمدی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ تاہم فارینزک تجزیے میں کسی بھی قسم کے نقصان دہ کوڈ کا کوئی ثبوت نہيں ملا۔

اس وقت میل ویئر کی تفصیلات سمیت مبینہ ہیکنگ کی کوشش کے متعلق مکمل معلومات حاصل نہيں ہوسکی ہيں۔ بیزوس کی درخواست  پر ایف ٹی آئی کنسلٹنگ (FTI Consulting) کی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آنے والی رپورٹ میں حتمی ثبوت موجود نہيں ہے اور نہ ہی اس میں زیراستعمال سپائی ویئر کا نام بتایا گيا ہے۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق یہ تفتیش ایف بی آئی کے سائبر ڈیویژن کے سابق چیف آف سٹاف اور نیشنل سیکورٹی کونسل کے ممبر اینتھنی فیرانٹ (Anthony Ferrante) کی زیرنگرانی مکمل کی گئی تھی۔

اس تجزیے میں یہ ضرور کہا گیا تھا کہ اس بات کے امکانات ”بہت زيادہ ہيں“ کہ یہ میل ویئر یا تو این ایس گروپ نے یا سپائی ویئر بنانے والی اطالوی کمپنی، ہیکنگ ٹیم (Hacking Team)، (جس کا نام تبدیل کرکے میمینٹو لیبز ہوگیا ہے) کا بنایا ہوا ہے۔

اسرائیلی خبروں کے مطابق سعودی حکومت نے ماضی میں 5.5 کروڑ ڈالر کے عوض این ایس او گروپ کا پیگاسس (Pegasus) نامی میل ویئر خریدا تھا۔

تاہم این ایس او گروپ کے ایک نمائندے نے ان رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ بات درست نہيں ہے کہ این ایس او اس سرگرمی میں ملوث ہے۔ ہماری کمپنی الزام تراشوں کے خلاف قانونی کارروائی کے سلسلے میں وکلاء سے مشاورت کرے گی۔“

سعودی ایمبیسی نے ٹوئٹر پر ان رپورٹس کو ”مضحکہ خیز“ قرار دیتے ہوئے تفتیش کی ضرورت پر زور دیا۔ پچھلے سال بیزوس کے مشیر برائے سیکورٹی نے کھلے عام سعودی حکومت پر ان کے فون کو ہیک کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔

پچھلے سال ایف ٹی آئی کنسلٹنگ کی فارینزکس رپورٹ حاصل کرنے کے بعد بیزوس نے اقوام متحدہ کے ماہرین سے رابطہ کیا، جس کے نتیجے میں تفتیش کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے ایک بیان میں کہا کہ ”سعودی حکام نے ماضی میں مخالفین کو نشانہ بنایا ہے، اور یہ الزامات اسی بنیاد پر لگائے گئے ہيں۔“ انہوں نے سعودی حکومت کی ناقدین کے ٹوئٹر اکاؤنٹس کی جاسوسی کرنے والے سعودی شہری کا بھی حوالہ دیا جس کے خلاف حال ہی میں امریکہ میں قانونی کارروائی کی گئی تھی۔

تحریر: پیٹرک ہاؤل او نیل (Patrick Howell O’Neill)

Read in English

Authors

*

Top