Global Editions

یوکرائن کے پاور گرڈ پر ہیکرز کا حملہ

روسی ہیکرز نے یوکرائن کے پاور گرڈ پر حملہ کر کے یوکرائن کی افواج سے متعلق اہم معلومات چرا لیں۔ سیکورٹی کے امور سے متعلق تحقیق کاروں کا ماننا ہے کہ یہ حملہ Fancy Bear نامی ہیکرز کے گروپ کی جانب سے کیا گیا ہے اور یہ وہی گروپ ہے جس نے سال رواں میں مبینہ طور پر ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے ای میل سرور سے ای میلز ڈیٹا چرایا تھا۔ یوکرائن میں ہونے والے اس سائبر حملے میں بھی اسی کوڈ سے ملتے جلتے کوڈ استعمال کئے گئے ہیں جو امریکی انتخابات کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کے ای میل سرور سے ڈیٹا چرانے کے لئے استعمال کئے گئے تھے۔ تاہم اس مرتبہ ہیکرز نے افواج سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے اس طریقہ کو استعمال کیا۔ خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ معلومات یوکرائن کے توپخانے کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اس وقت روس کے حمایتی علیحدگی پسند مشرقی یوکرائن میں علیحدگی پسندانہ تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مزید برآں معلوم ہوا ہے کہ ہیکرز کے ایک گروپ نے یوکرائن کے پاور ہائوس میں نصب کمپیوٹر تک رسائی حاصل کی اور کیو شہر کی برقی رو معطل کر دی۔ ہیکرز نے اس دوران ای میل کے ذریعے Malware ملازمین کو ارسال کیا اور اس طرح ان کی لوگ ان معلومات حاصل کرتے ہوئے پاور سٹیشن کو مکمل طور پر بند کر دیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں دو سو میگاواٹ پیداواری صلاحیت کا حامل پاور سٹیشن کو بند کر دیا گیا جس کے نتیجے میں کیو شہر کی بیس فیصد سے زائد آبادی بجلی سے محروم ہو گئی۔ واضح رہے کہ اس طرح کا ہی ایک سائبر حملہ گزشتہ برس دسمبر میں یوکرائن کے علاقے Ivano-Frankivsk میں بھی کیا گیا تھا۔ تاہم موجودہ حملہ کسی بھی پاور سٹیشن پر ہونے والا سب سے بڑا سائبر حملہ ہے۔ اس حوالے سے Wired نے رواں برس کے آغاز میں کہا تھا کہ امریکہ کے بہت سے علاقوں میں موجود پاور سٹیشن کسی بھی موثر سائبر حملے کے مقابلے کے بہت کمزور ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں یہ پاور سٹیشن ری بوٹ ہونے کے لئے بہت زیادہ وقت طلب کرینگے۔ یہ خطرہ بہت حد تک حقیقی ہے اور اس موقع پر اس امر کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یوکرائن میں ہونے والے اس سائبر حملے کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ امریکی صدارتی انتخابات کے دوران روسی ہیکرز کی مداخلت کے حوالے سے پہلے ہی کئی طبقات خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors

*

Top