Global Editions

اوبرکی بغیر ڈرائیور کےچلنے والی ٹیکسیوں کا دائرہ سان فرانسسکو تک پھیل گیا

اوبر نے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی ٹیکسی گاڑیوں کا دائرہ امریکی شہر سان فرانسسکو تک بڑھا دیا ہے۔ معروف کمپنی اوبر نے اعلان کیا ہے کہ اب سان فرانسسکو کے شہری بھی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے ذریعے سفر سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ اوبر نے اس ضمن میں اپنی تیار کردہ خودکار گاڑی والوو ایکس سی نائنٹی کو شاہراہ پر لانے کا اعلان کیا ہے جو لیزر شعاعوں پر مبنی ریڈار سسٹم اور سات حساس کیمروں سے مزین ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق کمپنی سان فرانسسکو میں پانچ گاڑیاں چلائے گی جن کی تعداد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ بھی کیا جائیگا۔ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی آمد سے ٹیکسی کا شعبہ ہزاروں افراد سے روزگار چھین سکتا ہے کیونکہ ان گاڑیوں کی موجودگی میں ڈرائیورز کی ضرورت ختم ہو جائیگی۔ یہ اہم اور بڑا انسانی مسئلہ بن سکتا ہے۔ دوسری جانب اوبر نے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی ٹیکسیوں کے پیٹس برگ میں تجربات کئے تھے اور شہریوں نے اس سروس کو بہت پسند کیا تھا۔ اوبر کی جانب سے خودکار ٹیکسیوں کے حوالے سے یہ تجربہ تین ماہ تک جاری رہا تھا۔ اوبر کی جانب سے تین ماہ تک جاری رہنے والے یہ تجربات خاصے کامیاب رہے جس کے بعد اوبر نے انکا دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کیا اور اوبر اب دیگر کمپنیوں سے اس میدان میں بازی لے جاتا ہوئی نظر آتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سنگاپور اور بوسٹن میں محدود پیمانےپر دوسری کمپنیاں بھی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کو آزما رہے ہیں۔ یہ بات بھی ہے کہ یہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی یہ گاڑیاں ابھی تک ٹیکنالوجی کے اعتبار سے مکمل قرار نہیں دی جاسکتیں۔ ایم آئی ٹی کے ول نائیٹ نے ان میں سے ایک گاڑی کی سواری کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس گاڑی نے مختلف اور پیچیدہ صورتحال میں نہایت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تاہم چند مواقع ایسے بھی آئے جب سٹئیرنگ وہیل کے پیچھے بیٹھے شخص کو گاڑی کا کنٹرول سنبھالنا پڑا۔ ایک موقع ایسا بھی آیا جب گاڑی ایک ٹرک سے ٹکرانے والی تھی ایک دوسرے موقع پر ایک گاڑی کی جانب سے اچانک مڑ جانے کے سبب گاڑی کو حادثہ پیش آنیوالا تھا۔ اوبر کی جانب سے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے ضمن میں ایک قانونی قباحت سامنے آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اوبر نے کیلی فورنیا کے محکمہ ٹرانسپورٹ سے سان فرانسسکو میں بغیر ڈرائیور کے گاڑی چلانے کے حوالے سے پرمٹ حاصل نہیں کیا ۔ اس حوالے سے اوبر کی جانب سے جاری کئے جانیوالے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں علم ہے کہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑی کے لئے درکار اجازت نامے کے حوالے سے ایک بحث جاری ہے کہ ہمیں گاڑی کے تجربے کے لئے اجازت نامہ حاصل کرنا چاہیے یا نہیں۔ اوبر انتظامیہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے اور ہم سجمھتے ہیں کہ اس حوالے سے ہمارا موقف ہے کہ اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہے تاہم اس تجربے کا انحصار ریاست کی انتظامیہ پر ہے کہ وہ ہمارے موقف سے متفق ہوتی ہے یا نہیں۔ واضح رہے کہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے حوالے سے کارساز اداروں اور ان کی ٹیکنالوجی تیار کرنے والی کمپنیوں کے درمیان دوڑ تیز ہو چکی ہے۔ گوگل کی کمپنی الفابیٹ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس نے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کو کمرشلائز کرنے کے لئے ایک نئی کمپنی بنائی ہے جس کا نام Waymo رکھا گیا ہے۔ اس خبر سے عمومی تاثر یہ ابھرا ہے کہ گوگل اس ریسرچ کو کمرشل کرنا چاہتی ہے اور ذرائع نے بوم برگ کو بتایا ہے کہ کمپنی اس ضمن میں Fiat Chrysler کے ساتھ اشتراک عمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے فیٹ کی یہ گاڑی نیم خودکار ہے۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top