Global Editions

سماجی دوری: ایک میٹر کے بجائے دو میٹر کا فاصلہ رکھیں

ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی لانے کے لیے ایک میٹر کے بجائے دو میٹر کا فاصلہ برقرار رکھنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے ریسرچرز نے 16 ممالک سے 172 مطالعہ جات کا تجزیہ کیا تھا۔ ایک دوسرے سے ایک میٹر سے کم فاصلہ برقرار رکھنے کی صورت میں وائرس کے پھیلاؤ کا امکان 13 فیصد ہے، لیکن جب یہ فاصلہ ایک میٹر سے تجاوز کر جائے تو یہ شرح کم ہو کر 3 فیصد ہوجاتی ہے۔ ان ریسرچرز کی ماڈلنگ کے مطابق ہر تین میٹر کی دوری کے بعد وائرس کے پھیلاؤ کا امکان آدھا ہوجاتا ہے۔

ماسکس سے بھی بہت فرق پڑتا ہے: ریسرچرز کو یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ چہرہ اور آنکھیں ڈھانپ کر رکھنے سے وائرس پھیلنے کا خطرہ کافی حد تک کم ہوسکتا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق، چہرے پر ماسک پہننے سے انفیکشن کا امکان 17 فیصد سے کم ہو کر تین فیصد ہوتا ہے اور آنکھوں کو محفوظ رکھنے سے یہ شرح 16 فیصد سے کم ہو کر چھ فیصد ہوجاتی ہے۔ تاہم اس مطالعے کے دوران ایکسپوژر کی معیاد کو خاطر میں نہیں لایا گیا تھا۔

یہ تحقیق اتنی اہم کیوں ہے؟ دنیا بھر کی حکومتیں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے بعد عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے  کے لئے کوشاں ہیں۔ اس تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کسی بھی حکمت عملی میں سماجی دوری کا کردار بہت اہم ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ، اس سے  کاروباروں، سنیما گھروں اور ریستورانوں وغیرہ کو بھی کرونا وائرس کے بچاؤ کے لیے تدابیر کرنے میں معاونت ملے گی۔

مختلف ممالک میں کیا ہو رہا ہے؟ مختلف ممالک میں سماجی دوری کے متعلق مختلف قسم کے مشورے دیے جارہے ہیں۔ مثال کے طور پر اس وقت برطانیہ میں دو میٹر کا فاصلہ برقرار رکھنے کی تجویز دی جا رہی ہے، لیکن اس فاصلے کو کم کرنے کے حوالے سے کافی بحث جاری ہے۔ امریکہ میں چھ فٹ یعنی 1.8 میٹرز جبکہ آسٹریلیا اور جرمنی میں ڈیڑھ میٹر اور فرانس میں ایک میٹر کا فاصلہ برقرار رکھنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک میٹر کا فاصلہ رکھنا ضروری ہے۔

Read in English

Authors

*

Top