Global Editions

ڈونر کے جنیاتی طور پر تبدیل شدہ ٹی سیلز کی مدد سے دو بچوں میں کینسر کا علاج

لندن میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے Leukemia کا شکار دو بچوں ایک ڈونر کی جانب سے جنیاتی طور پر تبدیل شدہ مدافعتی خلیوں کی پیوندکاری سے صحت یاب کرنے کا دعوی کیا ہے۔ جنیاتی طور پر تبدیل شدہ خلیوں سے کینسر کے علاج کے لئے یہ تجربہ لندن کے Great Ormond Street Hospital میں کیا گیا جہاں سیلولر تھراپی کی کم خرچ ٹیکنالوجی کی مدد سے کینسر کا علاج کیا گیا اس تکنیک کے تحت کسی ڈونر کے ٹی سیلز کو جنیاتی طور پر تبدیل کر کے مزید طاقتور بنایا جاتا ہے اور پھر اسے مختصر سے نوٹس پر بھی مریض کے جسم میں داخل کیا جا سکتا ہے تاکہ مریض کے جسم میں موجود کینسر کے خلیوں سے مدافعت ممکن ہو سکے۔ ٹی سیلز کو جنیاتی طور پر تبدیل کرنے سے یہ خلیے کینسر کے خلیوں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں اور انہیں ختم کر دیتے ہیں۔ ان دونوں برطانوی بچوں کی عمریں گیارہ سے سولہ ماہ کے تھیں اور انہیں خون کے سرطان کی وجہ سے مختلف تھراپیز دی جا رہی تھیں جن کے مثبت اثرات مرتب نہیں ہو رہے تھے۔ اس کیس کی Science Translational Medicine میں شائع ہونی والی تفصیلات کے مطابق فزیشن اور جین تھراپی ایکسپرٹ وسیم قاسم نے لندن کے ہسپتال میں ہونے والے اس تجربے کی سربراہی کی اور بتایا جا رہا ہے کہ دونوں بچوں کے مرض میں نمایاں تخفیف دیکھنے میں آئی ہے۔ اپنی طرز کے اس پہلے تجربے نے برطانوی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا رکھی ہے اور اس حوالے سے بعض تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس ڈاکٹر وسیم اور ان کی ٹیم نے بچوں کو کیموتھراپی بھی دی ہے اور وہ یہ بتانے میں ناکام رہے ہیں کہ سیل ٹریٹمنٹ نے کس حد تک بچوں کو صحت یاب کیا۔ فلاڈیفیا کے چلڈرن ہسپتال کے شعبہ کینسر امیونوتھراپی کے سربراہ سٹیفن گراپ (Stephan Grupp) کا کہنا ہے کہ لندن میں ہونے والے تجربے سے بہتری کے اشارے تو ضرور ملے ہیں تاہم حتمی شواہد دستیاب نہیں ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کاوش یقینناً قابل قدر ہے تاہم اس کے نتائج اور تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

تحریر: انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors

*

Top