Global Editions

ٹوئٹر کے سابقہ ملازمین کو سعودی عرب کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے

واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر کے دو سابقہ ملازمین پر سعودی عرب کی حکومت کے ناقدین کی ذاتی معلومات کی رسائی اور اسے جمع کرکے سعودی حکام کو فراہم کرنے کا الزام ہے۔

یہ افراد کون تھے؟ علی الزبارہ (Ali Alzabarah) ایک سائٹ ریلائیبلٹی (reliability) انجنیئر تھے جنہوں نے اگست 2013ء میں ٹوئٹر میں ملازمت اختیار کی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی ذمہ داری بڑھتی گئی اور ایک وقت آیا جب کمپنی ان پر اتنا بھروسہ کرنے لگی کہ انہيں فون نمبروں اور آئی پی ایڈریسز جیسے حساس ڈیٹا تک رسائی مل گئی۔ ان پر 2015ء میں چند مہینوں کے دوران انحرافی کرنے والوں اور سیاسی کارکنان سمیت چھ ہزار سے زائد ٹوئٹر صارفین کے متعلق معلومات حاصل کرنے کا الزام ہے۔ دوسرے ملازم احمد ابوآمو (Ahmad Abouammo) میڈیا پارٹنرشپس مینیجر کے عہدے پر فائز تھے۔ ان پر تین صارفین کے اکاؤنٹس کے متعلق، جن میں سے ایک اکاؤنٹ پر سعودی شاہی خاندان پر کافی تنقید کی گئی تھی، معلومات جمع کرنے کا الزام ہے۔ فرد جرم کے مطابق سعودی حکومت نے ابوآمو کو اس مخبری کے عوض تین لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔

تیسرا شخص: عدالت کے دستاویزات کے مطابق ایک تیسرے شخص احمد المتیری (Ahmed Almutairi) پر سعودی افسران اور ٹوئٹر کے ملازمین کے درمیان رابطہ قائم کرنے کا بھی الزام عائد کیا گيا ہے۔ الزبارہ اور المتیری دونوں سعودی شہری ہيں (حکام کا خیال ہے کہ دونوں اس وقت سعودی عرب میں ہيں) جبکہ ابوآمو امریکی شہری ہیں اور انہيں حال میں ہی سیئٹل میں گرفتار کرلیا گيا ہے۔

سیاسی زاویہ: ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ وفاقی مستغیثوں نے کھلے عام سعودی عرب پر امریکہ میں ایجنٹس بٹھانے کا الزام لگایا ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق ان میں سے ایک شخص کے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ اچھے تعلقات بھی ہیں، جنہوں نے (سی آئی اے کے مطابق) پچھلے سال سعودی حکومت پر تنقید کرنے والے واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خشوگی کے قتل کے احکامات جاری کیے تھے۔

اندرونی خطرات: ٹیک کی کمپنیوں کے پاس اپنے صارفین اور ان کی روزمرہ کی عادات کے متعلق وافر مقدار میں معلومات موجود ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ملازمین کی جاسوسی بھی کی جاسکتی ہے۔ ٹوئٹر کا یہ کیس منہ بولتا ثبوت ہے کہ ان کمپنیوں کو کسی بھی طریقے سے جواب دہ نہيں ٹھہرایا جاتا ہے اور ہمارے پاس ان کے سیکورٹی کے اقدام کے متعلق زیادہ معلومات نہيں ہے۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں ایسے دوسرے کئی کیسز سامنے آئيں، لیکن سیلیکون ویلی کے خفیہ رویے کو دیکھتے ہوئے اس وقت یقین سے کچھ نہيں کہا جاسکتا۔ لیکن ان تینوں افراد کی کارروائی سے یہ بات تو طے ہے کہ غیرقانونی طور پر ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ہیکنگ کے علاوہ اور بھی کئی طریقے ہیں۔ کمپنی میں مخبر بٹھانے سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

تصویر: اے پی (AP)

Read in English

Authors

*

Top