Global Editions

ٹوئیٹر اپنے مکالموں کی "صحت" کی پیمائش کرنا چاہتے ہيں

کسی سوشل نیٹ ورک کے درجہ حرارت کی پیمائش کس قسم کے تھرمامیٹر سے کی جاسکتی ہے؟

ٹوئٹر کو چیک اپ کی اشد ضرورت ہے۔ کئی سالوں سے بدتمیزی اورجارحیت کا مظاہرہ کرنے والے افراد، جعلی خبریں اور دیگر مسائل حل کرنے میں ناکام ہونے کے بعد، یہ کمپنی اب اپنے پلیٹ فارم پر ہونے والے مکالموں کی "صحت" کی پیمائش کے لیے تجاویز حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کا مقصد ٹوئیٹر کے صارفین کے درمیان بات چیت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پیمائش کے معیارات تیار کرکے ان کی مدد سے انجنیئرز کو ٹوئیٹر کو ایک محفوظ جگہ بنانے کے لیے ڈیٹا کی فراہمی ہے۔

“صحت مند" بات چیت سے کیا مراد ہے؟ ٹوئیٹر نے ایم آئی ٹی کی میڈيا لیب کے ساتھ کام کرنے والی ریسرچ کی غیرمنافع بخش کمپنی کورٹیکو (Cortico) کے تیار کردہ عوامی زندگی کی صحت کے چار اصولوں کی طرف اشارہ کرکے لوگوں کو اس بارے میں سوچنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان اصولوں میں اس قسم کی باتوں کا تعین شامل ہے کہ کیا ایک ہی مسئلے پر بات کرنے والے افراد ایک جیسے حقائق کا استعمال کررہے ہیں، اور وہ کس حد تک دوسروں کی بات سننے کی صلاحیت رکھتے ہيں۔ (کورٹیکو کے شریک بانی اور ایم آئی ٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیب رائے (Deb Roy) کے مطابق ان کے ادارے کا ٹوئیٹر کے ساتھ کوئی رسمی معاہدہ نہيں ہوا ہے، اور ممکن ہے کہ وہ اپنی پیمائشیں خود تیار کرے۔)

سب سے پہلے تو یہ مسئلہ کھڑا ہوتا ہے کہ کورٹیکو کے اصول امریکہ میں رہائش پذیر ٹوئیٹر کے صارفین پر ریسرچ کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہے۔ امریکہ میں ٹوئیٹر استعمال کرنے والوں کی تعداد سب سے زيادہ ہے، لیکن وہ پوری دنیا میں پائے جانے والے صارفین کا صرف بیس فیصد ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ٹوئیٹر کو اپنے عالمی نیٹ ورک کی صحت کی پیمائش کرنا ہے، تو کورٹیکو کے چار پیمائشی معیار کافی نہيں ہوں گے۔

رائے کہتے ہيں "ہوسکتا ہے کہ ایسے کچھ معیارات موجود ہوں جن کا عالمی سطح پر اطلاق ممکن ہو، لیکن دوسری طرف کچھ معیارات کا اطلاق ممکن نہيں ہے۔ یہ بات اب تک واضح نہيں ہے کہ ملک کے لحاظ سے حصے کرنا صحیح رہے گا یا نہيں۔"

دوسرے مسئلے کا تعلق ان الفاظ سے ہے جن کے مختلف صورتحالوں میں مختلف معنی نکالے جاسکتے ہيں۔ یہ ٹوئیٹر کے لیے خصوصی طور پر اس وجہ سے مسئلہ ہوسکتا ہے کیونکہ ایک مختصر سے ٹوئیٹ میں سیاق و سباق کا اندازہ لگانے کی زیادہ گنجائش نہيں ہے، اور نہ ہی طنز و مزاح کا اندازہ لگانا ممکن ہے۔

اس کے علاوہ، اگر کسی لفظ کے معانی پر اتفاق ہو بھی جائے، تو ممکن ہے کہ ایک ہی زبان بولنے والے مختلف افراد پر ایک ہی لفظ کے جذباتی اثرات بالکل مختلف ہوں۔ آن لائن ہراس کے متعلق تحقیق کرنے کے دوران یونیورسٹی آف میری لینڈ کے سوشل انٹیلی جینس لیب کی جینیفر گولڈبیک (Jennifer Goldbeck) کو یہ معلوم ہوا کہ انگریزی زبان کی ایک مخصوص گالی برطانیہ میں کم اور امریکہ میں زیادہ توہین آمیز سمجھی جاتی ہے۔ وہ کہتی ہيں "اگر مختلف ثقافتوں کی بات کی جائے تو آپ خود سمجھ سکتے ہيں کہ کتنی مشکلات پیش آئيں گی۔"

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے، ٹوئیٹر، بلکہ تعاون فراہم کرنے کی خواہشمند کسی بھی کمپنی کو گفتگو کی صحت کی پیمائش کے متعلق کہاں سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئیے؟ کسی کے پاس ایک حتمی تشخیصی جانچ تو نہيں ہے، لیکن مجھے چند تجاویز ضرور ملی ہيں۔

آنٹاریو میں رائرسن یونیورسٹی میں سوشل میڈیا لیب کے ڈائریکٹر اناٹولی گرزڈ (Anatoliy Gruzd) خبروں کے شیئرنگ کی سائٹ ریڈٹ (Reddit) کا مطالعہ کررہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹوئيٹر ریڈیٹ کی کمیونٹیز سے، جنہيں سب ریڈٹس کہا جاتا ہے، سبق حاصل کرسکتے ہیں۔ ریڈٹ میں انسانی ماڈریٹر مکالموں کی نگرانی کرتے ہيں اور گروپ کے لیے کونسی چیزيں قابل قبول ہیں؟ کمیونٹی خود اس کے متعلق رہنما اصول تیار کرتی ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ یہ طور طریقے متعین کرنے کے بعد ہی سیاق و سباق کا بہتر طور پر اندازہ لگایا جاسکے گا، اور کسی قسم کے پیمائش کے معیاروں کا زيادہ فائدہ ہوگا۔

یونیورسٹی آف سائودرن کیلی فورنیا میں سوشل میڈیا کی پروفیسر کیرن کوویکس نارتھ (Karen Kovacs North) سمجھتی ہیں کہ ٹوئیٹر جو بھی طریقہ کار اپنائے گا اس میں کمیونٹیز کے لحاظ سے ردوبدل کی جائے گی کیونکہ وہ طریقہ کار تمام ثقافتوں کے لیے موزوں نہيں ہوں گے۔

اس کے علاوہ، گولڈبیک سمجھتی ہیں کہ ایسی چند باتیں ہیں جو مختلف ثقافتوں میں ایک ہی جیسی ہوں گی، جیسے کہ کوئی بھی مکالمہ کس حد تک متوازن یا جذباتی ہے۔ تاہم، وہ اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ مختلف ثقافتوں کے درمیان ہونے والے مکالموں میں مختلف پیمائشی معیارات رکھنے کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق یہ کام مشکل تو ہے، لیکن ٹوئیٹر کے لیے بہت ضروری ہے۔ صارفین کے لیے محفوظ جگہ کی فراہمی میں ہی ٹوئیٹر کا فائدہ ہوگا، کیونکہ ان کی آمدنی کا انحصار سائٹ پر دیے جانے والے اشتہارات پر ہوتا ہے۔ وہ کہتی ہیں "اگر وہاں نسل پرستی عام ہوجائے اور دوسروں کے خلاف زہراگلا جارہا ہو، تو اشتہار ڈالنے کا امکان بھی کم ہوجائے گا۔"

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top