Global Editions

امریکی کیپٹل بلڈنگ پر حملے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس پر پابندی عائد

ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی واشنگٹن میں واقع کیپیٹل کی عمارت پر دھاوا بولنے کے لیے پولیس کی باڑ پار کر رہے ہيں۔ کریڈٹ : اے پی
ایک مشیر کے مطابق: “ڈونلڈ ٹرمپ کے مستقل جھوٹ بولنے کی عادت موت اور تباہی کی وجہ بن رہی ہے۔ ان کا منہ بہت پہلے ہی بند کر دینا چاہیے تھا۔”

منگل کے روز شدت پسندوں نے واشنگٹن میں واقع کیپیٹل کی عمارت پر حملہ کردیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا چینلز پر ایک مختصر ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے وہی من گھڑت کہانی دہرائی جو وہ کئی مہینوں سے سنا رہے ہیں: ”ہم انتخابات ہارے نہيں، ہمیں جیت سے محروم رکھا گیا۔ آپ لوگ سب اپنے اپنے گھر چلے جائيں۔ ہم آپ سے بہت پیار کرتے ہيں۔ میں جانتا ہوں آپ پر کیا گزر رہی ہے، لیکن براہ مہربانی خاموشی سے گھر چلے جائيں۔“

شروع میں تو ٹوئٹر نے اس ویڈیو کی پہنچ محدود رکھی۔ تاہم بعد میں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دوسری ٹویٹ میں احتجاجیوں کے اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”ان محب الوطن امریکیوں کے ساتھ عرصہ دراز سے بہت زیادتیاں ہوئی ہیں،“ تو ٹوئٹر نے اس ٹویٹ کے ساتھ ان کا ویڈیو پیغام بھی حذف کردیا۔ ٹوئٹر نے مزید اعلان کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ کم از کم 12 گھنٹوں کے لیے بلاک رہے گا۔ ٹوئٹر سے پہلے فیس بک اور یوٹیوب نے اپنے قواعد کی خلاف ورزی کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ کی ویڈیو حذف کر دی تھی۔

فیس بک کے نائب صدر برائے انٹيگرٹی (Integrity) گائے روزن (Guy Rosen) نے اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ان کی کمپنی نے یہ فیصلہ ”ایک ہنگامی صورتحال“ کے پیش نظر کیا تھا۔ انہوں نے مزيد لکھا کہ ”ہم اپنی سمجھ کے مطابق مناسب اقدام کر رہے ہيں۔ ہم نے ان کی پوسٹس اس وجہ سے حذف کیں کیونکہ ہمارا خیال ہے کہ اس سے تشدد کا خطرہ کم ہوگا۔“ انہوں نے بعد میں فیس بک کی نئی ہنگامی پالیسی کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ”یہ پلیٹ فارم اب ایسے تمام مشمولات کو جن میں امریکی کیپیٹول کے ہنگاموں کی حمایت کی جائے گی، فعال طور پر حذف کر دے گا۔ ہم اپنی کمیونٹی کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے والی تمام پوسٹس کی پہنچ کو بھی محدود کرنے کے لیے ہنگامی اقدام کر رہے ہيں۔“

ٹوئٹر کے بعد، فیس بک اور انسٹاگرام نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر 24 گھنٹوں کے لیے پابندی عائد کردی۔

”اب بہت ہوگیا ہے“

ٹوئٹر کی پابندیوں کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت تک ٹویٹ نہیں کر سکيں گے جب تک وہ تین ٹویٹس حدف نہ کردیں جنہیں ٹوئٹر نے فلیگ کیا ہے۔ صدر ٹرمپ 2020ء میں پہلے کرونا وائرس اور پھر امریکی انتخابات کے متعلق سازشی تھیوریز پھیلاتے رہے، اور ٹوئٹر ان کے خلاف اقدام کرتا رہا۔ یہ نئی پابندی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ نہ تو پوری طرح معطل ہوا ہے اور نہ ہی انہیں مستقل طور پر بلاک کیا گيا ہے۔ ٹرمپ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے صدر رہ چکے ہيں، اور ان کی باتیں، چاہے وہ کتنی عجیب و غریب کیوں نہ ہوں، عوام اور میڈیا کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔ انہیں مکمل طور پر بلاک کرنا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مفاد میں نہيں ہے، اور ان کی باتوں کو کافی حد تک درگزر کیا جاتا رہے گا۔ تاہم ٹوئٹر کے سابق اور موجودہ ملازمین سمیت متعدد ماہرین کا خیال ہے کہ اب پانی سر سے اوپر چلا گيا ہے، اور صرف ان کا اکاؤنٹ بلاک کرنے سے کچھ نہيں ہوگا۔

ٹوئٹر کی سابقہ ملازم لورا گومیز (Laura Gómez) کافی عرصے سے ٹوئٹر کے سی ای او جیک ڈورسی (Jack Dorsey) سے ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ مستقل طور پر معطل کرنے کی درخواست کر رہی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ ایک دن مسلح بغاوت کا اعلان کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیں گے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”صرف ویڈیو حذف کرنے سے کیا ہوگا؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ جس آدمی کو آپریشن کی ضرورت تھی، آپ صرف اس کی ہلکی پھلکی مرہم پٹی کرکے اسے گھر بھیج دیں۔“

یونیورسٹی آف ورجینیا میں لاء کی پروفیسر ڈینیئل سٹرون (Danielle Citron) کی بھی یہی رائے ہے۔ سٹرون 2009ء سے ٹوئٹر کو نفرت انگیز مواد اور ہراس کے متعلق پالیسیاں تیار کرنے کے حوالے سے مشاورت فراہم کر رہی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ صورتحال ناگزیر تھی۔ وہ کہتی ہيں کہ ”میں ٹوئٹر کے ساتھ بہت عرصے سے کام کر رہی ہوں۔ انہيں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ ایک دن یہی کچھ ہونے والا ہے۔ میں انہيں بہت عرصے سے انتباہ کر رہی تھی۔ اب واقعی بہت ہوگیا ہے۔“

وہ مزيد کہتی ہیں کہ اگر ٹوئٹر اپنی اندرونی پالیسیوں کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹس کو تحفظ فراہم کر رہا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ ٹوئٹر کی یہ پالیسیاں عوام کے مفاد کے لیے بنائی گئی ہيں، اور عوام کے لیے بہتر یہی ہوگا کہ ٹرمپ کی ٹویٹس ہمیشہ کے لیے حذف کردی جائيں۔

سٹرون کے مطابق ٹوئٹر کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ اس نے صدر ٹرمپ کی ٹویٹس کے حوالے سے تنگ نظری سے کام لیا اور صرف ان ٹوئیٹس پر توجہ دی جو کمپنی کے قواعد کے خلاف تھیں۔ اسے ان کے دوسرے چینلز پر کی جانے والی باتوں کو بھی خاطر میں لانا چاہیے تھا۔

وہ کہتی ہیں ”یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ ٹرمپ عوام سے خطاب کرتے ہيں، ٹوئیٹس کرتے ہيں۔ انہوں نے صدارتی انتخابات سے پہلے اور بعد میں بھی بہت کچھ کہا۔ آج جو ہو رہا ہے، وہ صرف ایک ٹویٹ کا نہیں بلکہ پچھلے چند ہفتوں کے دوران کہی جانے والی تمام باتوں کا مجموعی نتیجہ ہے۔ وہ لوگوں کو تشدد پر اکسا رہے ہيں، اور ان کی مستقل جھوٹ بولنے کی عادت موت اور تباہی کی وجہ بن رہی ہے۔ ان کا منہ بہت پہلے ہی بند کر دینا چاہیے تھا۔“

گومیز ماضی میں ٹوئٹر کی لوکلائیزیشن ٹیم کی سربراہی کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق انہوں نے ٹوئٹر کو 2010ء میں کہا تھا کہ سیاستدان اپنے غلط ایجنڈا کے لیے اس سائٹ کا استعمال کریں گے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”وینیزویلا کے صدر ہیوگو شاویز (Hugo Chavez) نے ٹوئٹر پر 2010ء میں اپنا اکاؤنٹ بنایا تھا۔ میں نے اس وقت ٹوئٹر کی سینیئر انتظامیہ سے پوچھا تھا کہ کیا ہمیں ایسے سیاسی لیڈران کے لیے الگ پالیسیاں بنانی چاہیے؟“

ٹوئٹر نے سیاستدانوں کے لیے علیحدہ پالیسیاں بنانے سے انکار کردیا۔

2017ء میں گومیز صدر ٹرمپ کے پوسٹس دیکھ کر پریشانی میں مبتلا ہوگئيں۔ ٹوئٹر نے گومیز کے خدشات کو نظرانداز کرتے ہوئے ٹرمپ کے خلاف کوئی اقدام نہيں کیے۔ آخرکار گومیز نے ڈورسی سے پوچھ ہی ڈالا کہ ان کا ضمیر انہيں ملامت کیسے نہيں کرتا۔ وہ کہتی ہیں کہ ”میں نے ان سے پوچھا کہ انہيں رات کو نیند کیسے آجاتی ہے؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ انہيں بہت اچھی نیند آتی ہے۔“

بات یہیں ختم نہيں ہوجائے گی

گومیز اس بات پر زور دیتی ہيں انہیں اعتراض صدر ٹرمپ پر نہيں بلکہ اس بات پر ہے کہ ٹوئٹر اپنی ہی پالیسیوں کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔ وہ کہتی ہيں کہ ”کسی عام صارف یا ٹوئٹر پر فعال کسی دوسرے سیاستدان کو اتنی ڈھیل نہيں دی جاتی۔“

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ کسی ایک پوسٹ پر پابندی عائد کرنے سے بات دبنے کے بجائے مزيد پھیلتی ہے۔ ٹوئٹر نے ماضی میں ٹرمپ کی جن ٹویٹس کو فلیگ کیا، وہ وائرل ہوئيں۔ ان کی ایک ٹويٹ کو پایندیوں کے باوجود 10 لاکھ سے زیادہ لائیکس اور ری ٹویٹس ملے۔ اسی طرح جو بائڈن کے بیٹے ہنٹر بائڈن (Hunter Biden) کے متعلق پوسٹس کو دبانے کی کوششیں بھی ناکام رہیں۔

دوسرے پلیٹ فارمز پر بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ جب صدر ٹرمپ نے کانگریس پر دھاوا بولنے والوں کے لیے ویڈیو پیغام جاری کیا تو فیس بک نے اس پوسٹ کو حذف کر دیا، لیکن دوسرے صارفین اور میڈیا اس ویڈیو کو مزید پھیلاتے رہے۔

گومیز کے مطابق اب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے پاس صدر ٹرمپ کو معطل کرنے کے لیے بہت ثبوت جمع ہوگیا ہے، اور اگر وہ اب قدم نہيں اٹھاتے تو ”بہت برا ہوگا۔“ وہ کہتی ہيں کہ ”ان کی ایک ویڈیو کی وجہ سے اتنا سب کچھ ہوگیا۔ آپ خود سوچیں، اگر وہ ٹویٹ کرتے رہيں تو اور کیا کیا ہوسکتا ہے۔“

ایسوسی ایٹڈ پریس (Associated Press) کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی 15 ریاستی دارالحکومتوں کے دفاتر کے سامنے بھی مسلح افراد کے احتجاجات ہوئے۔

تحریر: ایبی اوہلہائزر (Abby Ohlheiser)، آئیلین گوؤ (Eileen Guo)

Read in English

Authors

*

Top