Global Editions

کلر زدہ زمین سے مویشیوں کیلئےچارہ تیار۔۔۔ پاکستانی سائنسدان کا کارنامہ

زمین نمکیات کا ایک اہم جزو ہے۔ کرہ ارض کا تقریباً تین چوتھائی رقبہ سمندر پر مشتمل ہے اور خشکی کا بیشتر علاقہ بھی سمندری نمکین پانیوں کے درمیان ہی ہے۔ اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہماری زمین کا ایک بہت بڑا رقبہ اس شوریدگی کا شکار ہے۔ اگر ہم کاشت کاری کے لئے نئی زمینیں تیار کریں تو اس کے سنگین ماحولیاتی نتائج برآمد ہونگے اور ان زمینوں پر کاشتکاری کے لئے پانی کا حصول بھی مشکل دکھائی دیتاہے۔اسی تناظر میں ایک پاکستانی سائنسدان نے بنجر اور کلر زدہ زمین کو سرسبز و شاداب بنانے کا نہایت سادہ اور آسان راستہ تلاش کر لیا ہے اور اس سرسبز و شاداب علاقے کو مویشیوں کے لئے چارے کے حصول کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے جڑی بوٹیاں اگانے اور بائیو فیول کی تیاری کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کراچی یونیورسٹی کے Institute of Halophytes Utilization کے تحقیق کاروں نے کلرزدہ زمین پر اگنے والے ایک خودرو پودے کا مسلسل بارہ برسوں تک مشاہدہ کیا۔ اس مقصد کے لئے تحقیق کاروں نے سندھ اور بلوچستان کے کلرزدہ علاقوں کے دورے بھی کئے اور مقامی طور پر اگنے والی گھاس جو مویشیوں کے چارے کے لئے استعمال ہوتی تھی کو اپنے مزید تجربات کے لئے منتخب کر لیا۔Panicum turgidum نامی یہ گھاس ریگستانی گھاس کے طور پر بھی مشہور ہے اور سائنسدانوں نے اس گھاس کو تجرباتی طور پر اگانے کا فیصلہ کیا اور پھر اس گھاس کو ایک کلر زدہ قطعہ اراضی پر اگانے کےلئے اس کو زمین میں بویا گیا تاہم اس کے لئے تحقیق کاروں نے جو طریقہ اختیار کیا اس کے تحت اس قطعہ اراضی کے کناروں پر کلرزدہ علاقوں میں پائی جانیوالی ایک اور شور پودے کی کاشت کی گئی تاکہ یہ پودا زمین میں موجود نمک کو جذب کر لے اور زمین میں نمک کی مقدار کم سے کم اس حد تک لائی جائے کہ جہاں P. turgidum گھاس اگائی جا سکے۔ تحقیق کاروں نے اس مقصد کے لئے شور پودوں سے کم سے کم پچاس انچ کے فاصلے پر اس ریگستانی گھاس کو بویا اور اس عمل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ S. fruticosa کو معاون فصل کے طور پر کلرزدہ زمین سے نمک کو جذب کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں بنیادی فصل یعنی مویشیوں کے لئے چارہ تیار کیا جا سکتا ہے۔

شور پودا۔۔۔۔۔۔ میدان سے فارم تک
تحقیق کاروں نے تجربات کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے بلوچستان کے علاقے حب کا انتخاب کیا اور وہاں پر ایک مویشی فارم کے اندر اس چارے کو اگایا۔ اس چارے کو دوبارہ کلر زدہ زمین پر اگایا گیا اور فصل کے لئے درکار پانی کے لئے قدرتی طورپر ہونے والی بارش اور سیلابی پانی کا استعمال کیا گیا۔گرمیوں میں بارشوں کے موسم میں چارے کی یہ فصل 25 سے 30 دن کے اندر تیار ہو گئی اور جسے مویشی فارم میں موجود مویشیوں جن میں گائے، بکرے، بھیڑیں شامل تھیں ان کو یہ چارہ کھانے کے لئے دیا گیا، پھر اس چارے کے مویشیوں پر ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ چارہ نہ صرف زود ہضم ہے بلکہ یہ مویشیوں کی افزائش کے لئے بہت مفید ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ چارہ فارمز میں مویشیوں کے لئے استعمال ہونے والے چارے کے مقابلے میں نہایت کم قیمت ہے۔ اس چارے کے حوالے ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ یہ گھاس سال میں بارہ سے چودہ مرتبہ اگائی جا سکتی ہے۔Panicum turgidum روایتی طور پر استعمال ہونے والے چارے کا بہترین متبادل ثابت ہوا اور جن مویشیوں نے اس نئے چارے کو استعمال کیا تھا جب انہیں حلال کیا گیا تو ان کے گوشت کا بھی جائزہ لیا گیا اور یہ ثابت ہوا کہ گوشت کی کوالٹی بھی بہت عمدہ تھی۔ اس حوالے سے ISHU کی ڈائریکٹر بلقیس گل کا کہنا تھا کہ مویشی فارم کے مالک نے خود اس امر کا اعتراف کیا کہ مویشیوں کے گوشت میں چربی کی شرح نہایت کم تھی۔اس طریقہ کاشت کاری کو پہلی مرتبہ معروف جریدے ’’سائنس‘‘ میں ایڈیٹر کے انتخاب کے طور پر سال 2009 ءمیں شائع کیا گیا، اور ISHU کو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے شور پودوں کی افزائش اور تحقیق کے متعلق چئیر کے طور ڈکلئیر کیا اور اس وقت یہ اپنی نوعیت کی پہلی چئیر تھی جسے اس مقصد کے لئے تخلیق کیا گیا تھا۔پاکستان میں کلرزدہ زمینیں ایک بہت بڑا مسئلہ ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے کل رقبے میں سے تقریباً ساٹھ لاکھ ہیکٹر اراضی کلرزدہ ہے اور جسے اب اس تحقیق کے نتیجے میں سرسبز و شاداب بنایا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے بلقیس گل کا کہنا تھا کہ اب ہم چاہتے ہیں کہ اس طریقہ کاشت کو تجارتی بنیادوں پر استعمال کیا جائے کیونکہ ہم نے کئی پاکستانی علاقوں میں مویشیوں کو پلاسٹک کے بیگ بھی کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔پاکستانی تحقیق کاروں نے شور پودوں کی ایک اور قسم جو Desmostachya bipinnata کے نام سے جانی جاتی ہے،اس کی لائیو سٹاک کے لئے قابل ذکر خوراک کے طور پر بھی نشاندہی کی ہے۔

شور پودوں سے علاج

ISHU کی تحقیقی کاوش کو کئی ممالک کے ساتھ شئیر بھی کیا گیا جن میں صومالیہ اور مصر بھی شامل ہیں اور ان دو ممالک نے اس حوالے سے انسٹیٹیوٹ کے ساتھ اشتراک عمل کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے طویل عرصہ تک شورپودوں پر تحقیق کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ان پودوں کی مدد سے غذائی استعمال کے لئے تیل، ادویات اور بائیو فیول تیار کیا جا سکتا ہے۔مثال کے طور پر ہالوفائیٹ یعنی شورپودا Suaeda fruticosa بیکنگ پائوڈر میں استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے پتے مختلف بیکٹیریا، کینسر کے علاج کے لئے خصوصیات کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ عمل تکسید کو روکنے والے عامل کے طور پر بھی کام کر سکتے ہیں جو خصوصاً کھلی ہوا میں رکھی ہوئی اشیاء کے تحفظ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس پودے کا درخت ازخود بائیو فیول کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح شور پودے کی ایک قسم Suaeda monoica زخموں کے مرہم کی تیاری اور ہیپاٹائٹس کے علاج کے لئے روایتی ادویات کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔اسی طرح شور پودے بلوچستان اور بلتستان کے علاقوں میں روایتی طور پر مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ISHU کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر ایم اجمل خان کی سربراہی میں ٹیم نے ان علاقوں سے مقامی عمائدین کے تعاون سے شورپودوں کی ایسی اقسام جمع کی ہیں جو مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔اسی طرح پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی شورپودوں کی ایسی اقسام بھی موجود ہیں جو خوردنی تیل کے طور پر بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کے تحقیق کاروں نے شورپودوں کی ایسی اقسام کے مختلف بیجوں کا جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ان بیجوں میں تیل کی مقدار کا تناسب 22 سے 25 فیصد تک ہے اور اس تیل میں غیر سیر شدہ Fatty Acids یعنی وہ چربیلے تیزاب جنہیں جسم خود تیار نہیں کر سکتا اسکے صحت مند رہنے کے لیے خوراک میں ان کی موجودگی لازمی ہے بھی موجود ہوتے ہیں اور ان بیجوں سے حاصل ہونے والے تیل میں ان کی شرح 65 سے 74 فیصد تک ہوتی ہے۔اسی طرح ایک اور تجزیے سے یہ امر سامنے آیا کہ شور پودوں کی کئی اقسام کو بائیو فیول کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ شور پودوں کی یہ اقسام عام ہیں تاہم یہ انسانی خوراک کا جزو نہیں۔

اس بحث کے آخر میں صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ شور پودوں کی کاشت ان علاقوں کی ترقی اور وہاں سے غربت میں کمی کے لئے اہم ہے جہاں روایتی طور پر کاشت کاری کے لئے سازگار مواقع میسر نہیں یا وہ اراضی کلرزدہ ہے۔ یہ پودے نہ صرف زمین میں موجود نمکیات کو جذب کرتے ہیں بلکہ علاقے کے ماحولیاتی اثرات کو بھی بہتر بنانے کا سبب بنتے ہیں۔

تحریر: سہیل یوسف (Sohail Yusuf)

Read in English

Authors

*

Top