Global Editions

دنیا کا سب سے تنگ فلوئيڈ کا چینل پانی اور گیسز کے فلٹریشن کو بدل کر رکھ سکتا ہے

نام:(Radha Boya) رادھا بویا
عمر: 32 سال
ادارہ: یونیورسٹی آف مینچیسٹر کا گریفین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ

رادھا بویا کے لیب میں آپ ایک خوردبین سے ایک غیرمحسوس چینل کو، جس کی گہرائی پانی کے ایک مالیکیول جتنی ہے، کاربن کی ایک پتلی سی شیٹ کے درمیان سے گزرتا ہوا دیکھ سکیں گے۔ بویا کہتی ہیں "میں ایسا فلوئیڈک چینل بنانا چاہتی تھی جو اس قدر تنگ ہو کہ اس سے پتلے چینلز بنانا ممکن ہی نہ ہو۔" اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے انتہائی پتلی نالیوں پر مشتمل سٹرکچر کھڑا کرنے کے لیے موزوں مواد کی کھوج شروع کی، اور بالآخر انھوں نے گریفین (graphene) نامی ایک ایٹم کی موٹائی رکھنے والے کاربن کا انتخاب کیا۔

بویا نے گریفین کی دو شیٹوں کو (جس میں سے ہر شیٹ کی موٹائی صرف 0.3 نینومیٹرز تھی) ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح رکھ دیا کہ دونوں کے درمیان صرف ایک پتلی سی جگہ رہ گئی۔ ان شیٹوں کے دونوں طرف انھوں نے گریفین کی متعدد ایک کے اوپر ایک رکھی گئی تہوں پر مشتمل گریفائٹ کے تہہ لگادی۔ اس طرح وہ گریفائٹ کے بلاک سے گزرتا ہوا چینل تخلیق کرنے میں کامیاب ہوگئيں جس کی گہرائی 0.3 نینومیٹرز اور چوڑائی 100 نینومیٹرز تھی۔ گریفین کی تہوں کی تعداد میں اضافہ کرکے چینل کی چوڑائی میں ردوبدل ممکن ہے۔

لیکن اس چینل کا آخر فائدہ کیا ہوسکتا ہے؟ پانی کے مالیکیول کو، جس کی چوڑائی 0.3 نینومیٹرز ہے، بغیر دباؤ کے اس چینل میں سے گزارنا ناممکن ہے۔ تاہم اگر گریفین کی ایک کے بجائے دو تہہ لگا کر چینل کی چوڑائی 0.6 نینومیٹر کردی جائے تو پانی کو ایک میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے گزارا جاسکتا ہے۔ بویا کہتی ہیں "گریفین کی سطح کچھ حد تک ہائيڈروفوبک (hydrophobic) ہے، جس کی وجہ سے پانی کے مالیکیولز دیواروں سے چپکتے نہیں ہیں۔" اس خصوصیت کی وجہ سے پانی بہ آسانی اس چینل سے گزرجاتا ہے۔

ان خالی جگہوں کے یکساں سائز کی وجہ سے انھیں فلٹریشن کے نظاموں کی درستی میں اضافہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بویا کے تجربات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ان کے چینلز کے ذریعے پانی سے نمک کے آئنز کو، اور گیس کے چھوٹے مالیکیولز سے بڑے غیرمستحکم آرگینک کمپاؤنڈز کو علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان چینلز کے سائز کے متواتر ہونے کی وجہ سے یہ ٹیکنالوجی زیادہ موثر فلٹریشن کے نظام کو ممکن بنا سکتی ہے۔

بویا اس وقت مملکت متحدہ میں یونیورسٹی آف مینچیسٹر (University of Manchester) کے گریفین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (Graphene Research Institute) میں کام کررہی ہیں، جسے 2015ء میں گریفین پر ریسرچ کو تجارتی شکل دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ گریفین کا انکشاف کرنے کی وجہ سے نوبل پرائز جیتنے والے سائنسدان آنڈرے گیم (Andre Geim) اور کوسٹیا نوووسیلوو (Kostya Novoselov) کے دفاتر کے قریب واقع بویا کے دفتر کو دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ یہ انسٹی ٹیوٹ خود کو "گریفین کا گڑھ" کیوں کہتا ہے۔

تحریر: جیمی کونڈلیف (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top