Global Editions

کراؤڈسورسنگ کے ذریعے کمپیوٹر وژن کے سسٹمز کو بہتر بنانے کی کوششیں

اولگا رساکووسکی (Olga Russakovsky)
عمر: 31 سال
ادارہ: پرنسٹن یونیورسٹی

پرنسٹن یونیورسٹی (Princeton University) کی اسسٹنٹ پروفیسر اولگا رساکووسکی کے مطابق کسی بھی ماحول کو نیویگیٹ کرنے کے لیے اسے دیکھنا بہت ضروری ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ایسے سسٹمز بنانے کی کوشش کررہی ہیں جو اپنے سامنے کے منظر کو اچھے سے دیکھ اور سمجھ سکتے ہیں۔

چند سال پہلے تک مشینیں صرف 20 اشیاء کی نشاندہی کرسکتی تھیں۔ رساکووسکی نے تصویروں میں دکھائے جانے والے اشیاء کی نشاندہی کے لیے کراؤڈسورسنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے جس کی مدد سے مصنوعی ذہانت کے سسٹمز اب 200 اشیاء تک کی درست نشاندہی کرسکتے ہیں۔

رساکووسکی امید کرتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ایک دن ایسے روبوٹس یا سمارٹ کیمرے ممکن ہوسکیں گے جو ضعیف العمر افراد کو اپنے روزمرہ کا کام کرنے یا خودکار گاڑیوں کو درست طور پر راستے پر رکھی گئی چیزوں یا راہگیروں کی درست نشاندہی کرنے میں معاون ثابت ہوسکیں گے۔ وہ کہتی ہیں “ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے، لیکن اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ اس وقت وژن کی ٹیکنالوجی اتنی اچھی نہیں ہے۔”

رساکووسکی نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں خواتین کی کمی کو دیکھتے ہوئے AI4ALL نامی تنظیم شروع کی، جس کا نصب العین مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والے افراد میں ڈائیورسٹی کا فروغ ہے۔ وہ امید کرتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور خواتین کے علاوہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہونے لگیں گے۔ وہ کہتی ہیں “اس وقت ہمیں صرف ایک ہی شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ نظر آتے ہیں، اور میرے خیال میں اس سے ہمیں آگے چل کر بہت نقصان ہوگا۔”

ان کا کہنا ہے کہ اگر روبوٹکس کو ہماری زندگی کا اہم حصہ بننا ہے، تو اس میں مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی رائے حاصل کرنا ضروری ہے، تاکہ وہ بہتر طور پر ہر قسم کے افراد کی ضروریات پوری کرسکیں۔

رساکووسکی نے خود تو روبوٹکس کے شعبے میں شمولیت کا روایتی طریقہ کار اپنایا، انھوں نے سٹان فورڈ یونیورسٹی میں میتھیمیٹکس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سٹان فورڈ ہی سے کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، اور اس کے بعد کارنیگی میلن سے اپنا پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کیا۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت میں دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی اشد ضرورت ہے۔ “بائیولوجسٹس شاید کوڈنگ نہ کرسکیں، لیکن ہمیں ان کی رائے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہمیں ماہرین نفسیات کی بھی ضرورت ہے۔ اس ڈائیورسٹی سے اس شعبے میں جدت پسندی متعارف ہوسکے گی، اور کئی نقطہ نظر سے فائدہ اٹھا کر مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل ممکن ہوسکیں گے۔”

تحریر: ایریکا بیراس (Erika Beras)

Read in English

Authors

*

Top