Global Editions

پیرووسکائٹ پر مشتمل شمسی سیلز کو زیادہ قابل استعمال بنانے کی کھوج۔

مائیکل سیلیبا (Michael Saliba)

عمر: 34 سال

ادارہ: سوئیس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی

90 فیصد فوٹووولٹائکس میں کرسٹلائن سیلیکون کے پینلز استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن یہ پینلز مہنگے بھی ثابت ہوتے ہیں اور سورج کی روشنی کو بجلی میں موثر طور پر تبدیل بھی نہیں کرپاتے ہیں۔ لہٰذا چند سال قبل لوزان میں واقع سوئیس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Swiss Federal Institute of Technology) کے ریسرچر مائیکل سیلیبا نے ایک نئے قسم کے شمسی سیلز میں پیرووسکائٹس (perovskites) نامی مواد کے استعمال کے متعلق تحقیق شروع کردی۔ 2009ء میں دنیا کے سب سے پہلے پیرووسکائٹ استعمال کرنے والے شمسی سیلز سامنے آئے، اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ دوسری ٹیکنالوجیوں سے سستے اور زيادہ آسان استعمال ثابت ہوں گے، لیکن یہ سیلز زیادہ موثر نہیں ثابت ہوسکے اور سورج کی صرف 4 فیصد روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہے۔

سیلیبا ان معلوم شدہ پیرووسکائٹس میں مثبت چارج رکھنے والے آئنز کو شامل کرکے ان سیلز کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں کامیاب ثابت رہے۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں شمسی سیلز کی اثراندازی بڑھ کر 21 فیصد ہوگئی ہے، اور یہ آگے چل کر اس سے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سیلز کی بنیاد رکھیں۔

تحریر: رس جسکیلیئن (Russ Juskalian)

Read in English

Authors
Top