Global Editions

لیتھیم آئن کی بیٹریوں کو بہتر بنانے کی کھوج

نام:(Gene Berdichevsky)جین برڈیشیوسکی
عمر:34 سال
ادارہ:سیلا نینوٹیکنالوجیز

ٹیسلا میں ملازمت کے دوران جین برڈیشیوسکی (Gene Berdichevsky) نے ان کے ایک ابتدائی مسئلے کو حل کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ کمپنی جو بجلی پر چلنے والی سپورٹس کی گاڑیاں بنارہی تھی، ان میں استعمال ہونے والی لیتھیم آئن کی بیٹریوں میں آگ لگنے کی شرح تخلیق کاروں کے دعوں سے کہیں زیادہ تھی۔ برڈیشیوسکی نے اس چیلنج کے حل کے لیے گرمائش کے منتقلی کے مواد، ٹھنڈا کرنے کے چینلز اور بیٹریوں کو اس طرح ترتیب کیا کہ اگر ان بیٹریوں میں آگ لگ بھی جائے تو وہ اپنے آپ ہی بجھ جائے۔

اب برڈیشیوسکی بہتر لیتھیم آئن کی بیٹریاں بنانے والی کمپنی سیلا نینوٹیکنالوجیز (Sila Nanotechnologies) کے شریک بانی ہیں۔ ان کی کمپنی سیلیکون استعمال کرنے والے ایسے نانوذرات تخلیق کرنے میں کامیاب ثابت ہوچکی ہے جن کے ذریعے اعلی گنجائش رکھنے والا انوڈ تیار کیا جاسکتا ہے۔ سیلیکون کی گنجائش لیتھیم آئن کی بیٹریوں میں استعمال ہونے والے مواد سے دس گنا زیادہ ہے، لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ چارج ہونے کے دوران پھول جاتا ہے، جس سے بیٹری کے خراب ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ سیلا کے ذرات میں اس کی گنجائش رکھی گئی ہے، جس کی وجہ سے بیٹریوں کی عمر میں اضافہ ممکن ہے۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors
Top