Global Editions

ایپ کے ذریعے نشہ آوری کا علاج

شکاگو کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی اسمارٹ فون کے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے منشیات کے استعمال کی پیشگوئی اور دوبارہ استعمال کی روک تھام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

میری جب پچھلے موسم سرما میں ٹاشا ہیڈسٹروم (Tasha Hedstrom) سے بات ہوئی تھی، اس وقت اسے نشہ آوری سے نجات حاصل کئے ہوئے 61 روز ہوچکے تھے۔ 15 سالوں سے منشیات کی عادی ہیڈسٹروم اب وویٹرول (Vivitrol) نامی دوا کھارہی ہیں، جس سے نہ صرف نشہ آور منشیات کے مسرت بخش اثرات میں کمی آتی ہے، بلکہ ان کی طلب بھی کم ہوجاتی ہے۔ وہ ہفتے میں  تین روز عدالت کے تحت ضروری پروگرام میں شرکت کرتی ہیں، اور ٹریگر ہیلتھ (Triggr Health) نامی ایپ کے ذریعے اپنی پیش رفت پر نظر بھی رکھتی ہیں۔

ہیڈسٹروم کہتی ہیں کہ انہیں نارکوٹکس انونیمس (Narcotics Anonymous) جیسے پئیر سپورٹ (peer support) پر مشتمل پروگراموں سے کبھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ وہ کہتی ہیں، "مجھے وہاں کا ماحول نہیں پسند آیا۔ مجھے لگتا ہے کہ لوگ منشیات کے استعمال کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔ مجھے بار بار لوگوں کو اپنے بارے میں بتانا اچھا نہیں لگتا ہے۔"

ٹریگر مدد تک رسائی کا ایک مختلف طریقہ ہے۔ وہ کتنے دن منشیات سے دور رہی ہیں، اس کی نگرانی کے علاوہ یہ ایپ ان کا ریکوری کے کوچ کے ساتھ بھی رابطہ قائم رکھتا ہے، جو دن بھر ٹیکسٹ اور ایپ کے میسیج کے ذریعے ان سے بات کرتے رہتے ہیں۔ اگر وہ ایک روز تک ٹریگر سے رابطہ نہیں کرتی، تو وہ خود اس سے رابطہ کرلیتے ہیں۔ عام طور پر وہ اس کے اہداف کے بارے میں بات کرتے ہیں، لیکن حال ہی میں انہوں نے انہیں ایک غیرمتوقع مشکل سے نکالا۔ ایک انجان شخص ان کے گاڑی کا پیچھا کرنے لگا، اور پھر اس کے برابر گاڑی پارک کرکے اسے منشیات فروخت کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ ہیڈسٹروم نے اسی وقت ٹریگر کو میسیج بھیجا۔ وہ کہتی ہیں، "بات صرف نشے کی نہیں ہے۔ ہم دوستوں کی طرح ہیں۔ آپ کے پاس بیک اپ سپورٹ ہونا بہت ضروری ہے۔"

2015 میں، امریکہ میں 33،000 افراد منشیات کی زیادتی کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈرگ ابیوس (National Institute on Drug Abuse) کے مطابق یہ تعداد 2005 کی تعداد سے دو گنا زیادہ ہے۔ ہر سال نشہ آوری کی وجہ سے 50،000 سے زیادہ افراد ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں، اور ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اس میں $15 بلین کی لاگت آتی ہے۔ کلینک اور دیگر علاج کے اخراجات میں مزید کئی بلین ڈالر لگ جاتے ہیں۔

امریکی ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اور ہیومن سروسز (U.S. Department of Health and Human Services) کے شعبے Substance Abuse and Mental Health Services Administration کے 2013 میں حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق کل ملا کر 23 ملین امریکی منشیات یا شراب کا بے جا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ان میں سے 20 فیصد افراد کو ہی علاج نصیب ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ مقبول علاج Alcoholics Anonymous یا Narcotics Anonymous کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے، اور یہ کئی افراد کے لئے موثر بھی ثابت ہوا ہے، لیکن ایک سروے کے مطابق ان پروگراموں میں شرکت کرنے والے 75 فیصد افراد پہلے سال ہی میں منشیات یا شراب کا دوبارہ استعمال شروع کردیتے ہيں۔ یونیورسٹی آف پینسلوینیا میں نفسیات کے پروفیسر اور نشہ آوری کے ماہر جیمز آر مک کے (James R. McKay) کہتے ہیں کہاس طرح کے پروگراموں سے ہر کسی کو فائدہ نہيں ہوتا ہے۔

نئی ٹیکنالوجیوں کے ذریعے ہمارے جیب میں موجود کمپیوٹر کو استعمال کرنے والے مزید اختیارات سامنے آئے ہیں ۔ ہیلتھ کئیر کے لئے 165،000 اسمارٹ فون ایپس موجود ہیں، جن میں سے سب سے بڑی تعداد دماغی صحت کے ایپس ہی کی ہے۔ ابھی فی الحال یہ ایپس صرف قریبی AA میٹنگ، ہپنوسس کے گائيڈ، اور آن لائین پئیر سپورٹ گروپس کے متعلق رہنمائی کی فراہمی تک محدود ہیں۔

ٹریگر اس کے علاوہ بہت کچھ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ کمپنی اسمارٹ فونز سے حاصل کردہ ڈیٹا کے ذریعے نہ صرف لوگوں کو منشیات کے استعمال کی جانب دھکیلنے والے دباؤ سے نبٹنے میں مدد فراہم کرتی ہے، بلکہ منشیات کا دوبارہ استعمال شروع کرنے کی پیش گوئی کرکے انہیں مدد فراہم کرنے کا بھی ادارہ رکھتی ہے۔ ٹریگر اسکرین کے ساتھ رابطے، ٹیکسٹ کرنے کے طریقہ کار، کال لاگز، نیند کی ہسٹری اور لوکیشن استعمال کرکے پیش گوئی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سب کو شرکت کنندگان کے پلیٹ فارم کے عملے کے ساتھ روابط کے ذریعے حاصل کردہ معلومات، جیسے کہ پسندیدہ منشیات، منشیات کا سابقہ استعمال، اور "طلب" جیسے الفاظ کے استعمال کے ساتھ الگوریتھم میں ڈالا جاتا ہے۔ اس سسٹم کو دیگر ٹیکسٹ اور ای میل تک رسائی حاصل ہے، لیکن نجی ٹیکسٹ یا کالوں کے سیاق و سباق تک نہیں ہے۔ یہ مشین لرننگ کے ذریعے پیٹرن تلاش کرکے منشیات کے دوبارہ استعمال کی پیش گوئی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب یہ امکان خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے تو ریکوری ٹیم کا ایک ممبر یا تو خود مداخلت کرتا ہے یا صارف کی بیرونی کئیر ٹیم کو مطلع کرتا ہے۔

کمپنی اور اس کے کلائنٹ اس کی قیمت کے بارے میں کچھ نہیں کہہ رہے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ٹریگر چند پائیلٹ پراجیکٹ مفت یا نہایت کم قیمت میں پیش کررہا ہے۔ ہیڈسٹروم نے ایپ کو مفت ڈاؤن لوڈ کیا تھا، لیکن اب اس کے لئے ماہانہ فیس ادا کررہی ہیں، جو ان کے مطابق دن کے دو ڈالر سے بھی کم ہے۔ ٹریگر کا پیسے کمانے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ایپ استعمال کرنے والوں کو نشہ آوری سے وابستہ طبی اخراجات کی ادائیگی کرنے والی بیمہ کمپنیوں اور حکومتی اداروں کے ڈسکاؤنٹ میں سے حصہ لے۔ 30 روزہ ابتدائی علاج کے اخراجات $17,000 تک ہوسکتے ہیں، اور ایمرجنسی روم میں داخلے اور دیگر اخراجات بڑی تیزی سے بڑھنا شروع ہوجاتے ہیں۔

ٹریگر کے سرمایہ دار ڈرائیو کیپیٹل (Drive Capital) نامی وینچر کیپیٹل کمپنی کے پارٹنر کرس اولسن (Chris Olsen) کہتے ہیں کہ ایک تخمینے کے مطابق اوہائیو میڈیکئیڈ (Ohio Medicaid) ہیپاٹائٹس سی سے وابستہ انفیکشن پر ہر سال $5 بلین ڈالر تک خرچ کرتے ہیں، اور اس کا منشیات کے استعمال کے ساتھ کافی گہرا تعلق ہے۔ اولسن کہتے ہیں "اگر یہ خرچہ کم ہوجائے تو آگے چل کر پیسے کمانے کا طریقہ ممکن ہوسکتا ہے۔" ایپ کے صارفین میں نیو جرسی میں صدر دفتر رکھنے والے نشہ آوری کے علاج کے مراکز کے اسپراؤٹ ہیلتھ گروپ (Sprout Health) کے ری ہیب کے مریض بھی شامل ہیں۔ اسپراؤٹ کے سی ای او ایرل میسٹر الڈاما (Arel Meister-Aldama) کہتے ہیں کہ پہلے اوسطا 45 روز تک پروگرام میں شرکت کرنے کے بعد کمیونٹی میں دوبارہ ضم ہونے والے افراد کو تقریبات میں مدعو کیا جاتا تھا، اور فون کے کال کے ذریعے ان پر نظر رکھی جاتی تھی، لیکن ان کی مکمل نگرانی کرنا کافی مشکل تھا۔ اب جب بھی کسی مریض کا پٹری سے اترنے کا خطرہ ہو تو اسپراؤٹ کے کونسلر کو ٹریگر کی طرف سے الرٹ موصول ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ میسٹر الڈاما کہتے ہیں کہ "بعض دفعہ غلطیاں بھی ہوجاتی ہیں، لیکن اکثر ہم لوگوں کو اس وقت پکڑنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جب وہ ڈرگ ڈیلر کے پاس جارہے ہوتے ہيں یا شراب خانے کے باہر بیٹھ کر اندر جانے کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں۔"

ٹریگر استعمال کرنے کے بعد اسپراؤٹ میں دوبارہ داخلوں میں اضافہ ہوگیا ہے، لیکن فی مریض اخراجات میں کمی آچکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کونسلر مریضوں کو ابتدائی مراحل میں مدد فراہم کرنے لگے ہیں، جس سے ایمرجنسی علاج کے اخراجات بچ جاتے ہیں۔ میسٹر الڈاما کہتے ہیں کہ ٹریگر سے حاصل کردہ ڈیٹا کی وجہ سے ہر مریض کے علاج کے اخراجات کا بہتر طور پر اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ آگے چل کر وہ خدمات کے مطابق چارج کرنے کے بجائے ہر مریض سے یکساں فیس چارج کرنے میں کامیاب رہیں گے۔

اسمارٹ فون کی مقبولیت اور مشین لرننگ کی حالیہ پیش رفت کے بغیر یہ پلاٹ فارم ناممکن تھا۔ اور اگر کالج کی ایک طالبہ کو تکلیف نہ ہوتی، اور اس کی والدہ وقت پر اقدام نہ کرتی، تو اس کا وجود ہی نہیں ہوتا۔

ماں کا پیار

ٹریگر کے شریک بانی اور سی ای او جان ہیسکیل (John Haskell) کو اپنی زندگی کے ایک مشکل دور کے بعد یہ ایپ بنانے اور کئیر کے ایک مکمل اور جامع نظام کی تیاری کا خیال آیا۔ اسٹان فورڈ میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران وہ ڈیپریشن کا شکار ہوگئے، اور پانچ سال پڑھنے کے بعد بھی انہیں ڈگری نہ مل سکی۔ اسٹان فورڈ میں ان کی ایک دوست ذہنی مریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ نشہ بھی کرتی تھی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ علاج چھوڑ کر خودکشی کرنے کے بارے میں سوچنے لگی۔ عین اسی وقت اس کی والدہ نے فون کرلیا۔ اس کال کے بعد اس کی سوچ زیادہ مثبت ہونے لگی۔ جب ہیسکیل نے اس کی والدہ سے پوچھا کہ انہوں نے عین اسی وقت ہی کیسے فون کیا، انہوں نے کہا "یہ میرا پیار تھا" ۔

ہیسکیل کو لگا کہ اسمارٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے ماں کے اس پیار کو ایپ کی شکل دینی چاہئیے۔ وہ کہتے ہیں “انہیں پتہ تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ لیکن اس تجربے کی سب سے دلچسپ بات اس کے سارے ڈیٹا کے پوائنٹ تھے۔ اور سب کو آپ کے فون سے ٹریک کیا جاسکتا ہے۔" مثال کے طور پر، ان کی دوست کو اسکریبل سے ملتا جلتا ورڈز ود فرینڈز (Words with Friends) نامی ایک آن لائن گیم بہت پسند تھا، لیکن اس نے کھیلنا چھوڑدیا تھا۔ وہ آدھی رات کو ٹیکسٹ پیغامات بھیج رہی ہوتی تھی، جس سے صاف واضح تھا کہ اسے رات کو نیند نہیں آرہی تھی۔ ہیسکیل کہتے ہیں، "ماں کا پیار صرف ڈیٹا ہی کی بات ہے۔ اسے اسکیل کیوں نہیں کیا جاسکتا ہے؟"

چھ سال بعد ہیسکیل کا "ماں کا پیار" شکاگو کے ریور نارتھ کے علاقے میں ایک عمارت کی دوسری منزل پر دو لمبے سفید میز پر رکھی جانے والی مشین کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ ایک میز پر چند پروگرامر اور ڈیٹا کے سائنس دان اس ایپ اور اس کے پلیٹ فارم پر کام کررہے ہیں۔ یہ پروگرام ماضی میں گوگل جیسی بڑی کمپنیوں میں کام کرچکے ہیں۔ دیوار کی دوسری طرف، اسی طرح کی ایک سفید میز پر ریکوری کا گروپ بیٹھا ہے۔ یہ چار سے پانچ لوگوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے جو پلاٹ فارم کے شرکت کنندگان کے ساتھ کام کررہا ہے۔ ہر کوئی کمپیوٹر کی اسکرین کے آگے بیٹھا ہے۔

ٹیکنالوجسٹ شرکت کنندگان کے فون کے ساتھ ساتھ ریکوری کی ٹیم سے روابط کے ذریعے حاصل کردہ ڈیٹا کو استعمال کرکے غلط راستے پر چل پڑنے کی نشان دہی کے پیٹرن کی شناخت کرتے ہیں۔ ٹریگر دن میں چوبیس گھنٹے، ہفتے میں سات دن پلیٹ فارم پر موجود ہر کسی کی نگرانی کررہا ہوتا ہے۔ ریکوری ٹیم کا ایک ایک شخص 500 افراد کے لئے ذمہ دار ہے۔ ہر شرکت کنندہ کو ٹریگر کے الگوریتھم کے ذریعے 1 سے 10 کے پیمانے پر درجہ بند کیا جاتا ہے۔ 1 کا مطلب ہے کہ سب کچھ بالکل صحیح ہے۔ 10 کا مطلب ہے اس شخص کا پٹری سے اترنے کا بہت زیادہ امکان ہے، اور اس سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔

عملہ زیادہ تر ٹیکسٹ یا ایپ کے ذریعے ہی کلائنٹس سے رابطہ کرتے ہیں، جس میں کسی کے لہجے کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ اس وجہ سے یہ ٹیم الگوریتھم سے حاصل کردہ معلومات پر انحصار کرتی ہے۔

کیا آپ روبوٹ ہیں؟

ٹریگر کے مشین لرننگ کے نظام شرکت کنندگان کے ساتھ روابط اور ان کے اسمارٹ فون سے حاصل کردہ ڈیٹا کے ذریعے پلیٹ فارم کو بتدریج زیادہ اسمارٹ بنا رہے ہیں۔ یہ نظام کسی کلائنٹ کے معمول کے خلاف واقعات تلاش کرتا ہے۔ جیسے جیسے زیادہ لوگ نظام استعمال کرنے لگیں گے، اور زیادہ ڈیٹا حاصل کر کے اس کا مطالعہ کیا جائے گا، واپسی کی علامات کی شناخت کے امکانات بہتر ہوتے جائیں گے۔ ٹریگر ایک سال قبل 85 فیصد درستی رکھتا تھا، اور اب اگلے تین روز میں پٹری سے اترنے کے امکانات کی 92 فیصد تک کی درستگی کی پیشگوئی کرسکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس پیشگوئی کی وجہ سے کلائنٹ کے نتائج میں کافی بہتری نظر آنے لگی ہے۔

ڈیٹا کی بے ترتیبی کو دیکھتے ہوئے ٹریگر کے ڈیٹا سائنٹسٹ جان سینٹیر (John Santerre) نے سوچا کہ مشین لرننگ اس مسئلے کا حل ہوسکتی ہے۔ بعض دفعہ دوبارہ غلط راستے پر نکل جانے کا تعلق منشیات یا شراب سے نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ لوگ اپنی زندگی کی پریشانیوں کی وجہ سے بھی دوبارہ اس راہ پر نکل جاتے ہیں۔ اگر کلائنٹ کے معمول کے خلاف چھوٹی سی بھی بات ہو جائے، تو اگلے چند دن میں شراب یا منشنیات کے استعمال کا سلسلہ دوبارہ  شروع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ٹریگر کو یہ بھی جاننے کی ضرورت نہیں ہے کہ ٹیکسٹ کہاں سے آیا اور اس میں کیا لکھا ہے۔ اس کے لئے معمول کی تبدیلی ہی کافی ہے۔

ٹریگر لوگوں کو طلب کو نظر انداز میں مدد کرنے کے لئے ڈیٹا جمع کررہا ہے، اور اس نے ایسا نظام بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے جو کم سے کم انسانی مداخلت کے ساتھ ہر شرکت کنندہ کی منفرد صورت حال کے مطابق خدمت فراہم کرے۔ الگورتھم کے ذریعے یہ تو پتہ لگ جاتا ہے کہ کسی کے پٹری سے اترنے کا کیا امکان ہے، لیکن اس کی روک تھام ایک خودکار ایپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ ہیسکیل کہتے ہیں کہ وہ جس حد تک ممکن ہو، اس میں انسانی ہاتھ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کلائنٹ پھر بھی پوچھتے ہیں کہ کیا ریکوری کوچ روبوٹ ہیں۔ ٹاشا ہیڈسٹروم نے بھی پوچھا تھا، اور اس کے جواب میں ٹریگر نے اس سے بھی یہی سوال کیا تھا۔ الگورتھم کے مطابق، کچھ شرکت کنندگان کے لئے مزاحیہ جوابات مفید ثابت ہوتے ہیں۔

یہ کوچ مختلف مسائل کے جواب میں بھیجے جانے والے پیغامات کی جانچ کرتے ہیں۔ جو جوابات موثر ثابت ہوئے ہیں، انجنئیرنگ ٹیم کو ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ جب بعد میں اس قسم کی دوسری کال آتی ہے تو سسٹم یہ جوابات پیش کردیتا ہے۔ مداخلت کرنے کا وقت اس وقت ہوتا ہے جب ٹریگر متعین کرتا ہے کہ کسی شخص کا پٹری سے اترنے کا خطرہ ہے، اور یہی سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اس عمل میں انسانی عمل دخل تو ہے، لیکن جب کسی کو خطرہ ہو تو ریکوری ٹیم کو اس کلائنٹ سے بات کرنے کا سب سے موثر طریقہ کار اور پیغامات کے بارے میں خودکار طور پر مطلع کردیا جاتا ہے۔

اگر اسمارٹ فون نہ ہو؟

ہیسکیل کمیونٹی کی خدمات کرنے والی تنظیموں سے تعلقات بھی قائم کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں، جس کے سلسلے میں وہ جنوری میں ساؤتھ مڈل سیکس آپرچونٹی کونسل (South Middlesex Opportunity Council) (SMOC) کے کونسلر کو میساچوسیٹس کے شہر فریمنگ ہیم میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران اس ایپ کے بارے میں بتارہے تھے۔ SMOC نے حال ہی میں ایمرجنسی روم میں داخل ہونے والے منشیات کے عادی افراد سے تعلقات قائم کرنے کے لئے ٹریگر لانچ کیا تھا۔ نارتھ ایسٹ، مڈویسٹ اور ایپالیچیا کی طرح فریمنگ ہیم میں بھی منشیات کے استعمال میں اضافہ ہورہا ہے۔ اب اوسطا ہر ماہ میں 10 اوورڈوز کے کیس سامنے آتے ہیں۔

کمرے میں موجود چند کونسلر کو یہ پریشانی تھی کہ تمام کلائنٹ کے پاس اسمارٹ فون نہیں ہیں۔ دوسروں نے کہا کہ اس ایپ کو اس وقت الرٹ بھیجنا چاہئیے جب کسی کلائنٹ نے کسی ڈیلر سے رابطہ کیا ہو یا دوبارہ منشیات کا استعمال شروع کیا ہو۔ ٹریگر میں ابھی یہ سہولت دستیاب نہیں ہے۔ ہیسکیل نے ہر سوال کا جواب دیا، لیکن اس پریزنٹیشن کے دیڑھ ماہ بعد، گرانٹ چلانے والی کریسٹن فریسر (Krystin Fraser) کہتی ہیں کہ سائن اپ کرنے والے آٹھ لوگوں میں سے صرف ایک ہی نے ٹریگر ڈاؤن لوڈ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے چند کے پاس اسمارٹ فون نہیں ہے، جبکہ چند افراد کسی اور کی نگرانی نہیں چاہتے تھے۔ اگلے ماہ، مزید 13 افراد نے ایپ کے لئے سائن اپ کیا۔

فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمینیسٹریشن (Food and Drug Administration) زیادہ تر ہیلتھ ایپس پر نظر نہیں رکھتی ہے، اور کمپنی نے اب تک اپنے پلیٹ فارم کے کلینیکل ٹرائل شائع نہیں کئے ہیں، اور نہ ہی اسے ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ ٹریگر استعمال کرنے والوں کے طویل المیعاد نتائج پر نظر رکھ رہی ہے، اور اس فیصلے کی وجہ سے کمپنی کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے واقعی بہت بڑا کام کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں کئی ایپ موجود ہیں۔ پوسٹن میں واقع بیتھ اسرائیل ڈیکنیس میڈیکل سنٹر (Beth Israel Deaconess Medical Center) میں ڈیجیٹل نفسیات کے پروگرام کے ڈائریکٹر جان ٹورس (John Torous) کہتے ہیں کہ ذہنی صحت کے لئے بہت ایپس موجود ہیں، جن میں سے بیشتر کافی مشکوک ہیں۔ ٹورس شیزوفرینا کے شکار افراد کی نگرانی کے لئے فون کے ڈیٹا کی ایک تحقیق میں شرکت کررہے ہیں۔ شیزوفرینا نشہ آوری سے کافی مختلف ہے، لیکن اس کی چند علامات، جیسے کہ نیند میں خلل اندازی، کافی ملتی جلتی ہیں۔ ٹورس کہتے ہیں کہ لوگ اب تک یہ نہیں سمجھ پا‏ئے ہیں کہ اس ڈیٹا کے ساتھ کام کرنا کس قدر مشکل ہے۔ "ہم 10 سال سے اسمارٹ فون استعمال کررہے ہیں، لیکن اب تک ذہنی ہیلتھ کئیر میں کسی قسم کا انقلاب نہیں لا سکے ہیں۔ اگر یہ اتنا آسان ہوتا تو یہ 10 سال کے اندر اندر بن چکا ہوتا۔ لوگ بہت پیچیدہ ہیں۔ ہم یہ سارا ڈیٹا جمع کرسکتے ہیں، لیکن اس کا کس طرح سے تجزیہ کیا جائے؟"

ہارورڈ کے ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ (T.H. Chan School of Public Health) میں بائیو اسٹیٹک کے پروفیسر اور شیزوفرینیا کی تحقیق میں ٹورس کے ساتھ کام کرنے والے جوکا پیکا اونیلا (Jukka-Pekka Onnela) زیادہ پر امید ہیں۔ اونیلا کے مطابق جیسے جیسے لوگ اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لئے فون کا زيادہ استعمال زیادہ کرنے لگيں گے، ان آلات کا ڈیٹا زیادہ طاقت ور ہوتا جائے گا۔ یہ خصوصی طور پر اس صورت حال میں ہوتا ہے جب کوئی شخص اپنے اطراف سے متاثر ہوتا ہے، اور نفسیاتی بیماری کے شکار افراد اپنے ماحول سے کافی حد تک متاثر ہوتے ہیں۔

جب کوئی بھی شخص جاگ رہا ہوتا ہے، تو اس کے فون کی اسکرین گھنٹے میں 20 بار آن ہوتی ہے۔ اونیلا کو معلوم ہوا ہے کہ اس سے نیند کے پیٹرن کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جو نفسیاتی بیماریوں کو سمجھنے اور اس کے علاج کے لئے بہت ضروری ہے۔

اونیلا کہتے ہیں کہ "ماضی میں یہ پیمائش لیب یا ڈاکٹر کے دفتر تک ہی محدود تھی۔ ہم ان علامات کو اس ماحول سے باہر، لوگوں کی حقیقی زندگیوں سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔"

تحریر: نینیٹ برنز (Nanette Byrnes)

Read in English

Authors
Top