Global Editions

نگرانی، مگر کس کی؟

NEC
ماضی میں کئی ممالک میں بحرانوں کے دوران پبلک ہیلتھ اور تحفظ کے لیے ہنگامی قوانین متعارف کیے گئے ہیں، لیکن ان سے عوام کے بجائے حکومت کو زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔

ایک وقت تھا جب 2020ء کی دہائی کو پاکستان میں ”ڈیجیٹل انقلاب کی ابتداء“ کا نام دیا جارہا تھا۔ دسمبر 2019ء میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے ٹیکنالوجی کی مدد سے عوام کے فلاح و بہبود کے لیے ”ڈیجیٹل پاکستان“ مہم کے آغاز کا اعلان کیا۔ اس بات کو دو مہینے ہی گزرے تھے کہ حکومت پر کرونا وائرس نامی ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا۔

26 فروری کو پاکستان میں covid-19 کا پہلا کیس سامنے آیا۔ کچھ روز بعد 11 مارچ کو عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کو وبا قرار دے دیا۔ اپریل کا مہینہ اختتام پذیر ہونے تک دنیا بھر میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور دو لاکھ سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس وقت پاکستان میں covid-19 کے شکار افراد کی تعداد 17،000 سے زائد تھی اور 404 افراد کی موت واقع ہوچکی تھی۔ اس کے علاوہ، ملک پھر میں ٹیسٹنگ ناکافی ہونے کے متعلق بھی اطلاعات موصول ہورہی تھیں۔ اس پیش رفت کی وجہ سے پاکستان میں ڈیجیٹلائزیشن کی مہم میں covid-19 کو فوقیت دینے کی ضرورت پیش آئی۔

حکومت پاکستان نے کرونا وائرس کے متعلق غیرمستند معلومات کا مقابلہ کرنے اور عوام کے سوالات کے جوابات فراہم کرنے کے لیے واٹس ایپ پر کرونا وائرس کی ہیلپ لائن قائم کی۔ اس کے علاوہ، حکومت نے کئی ایپس بھی متعارف کیں، جن میں صحافیوں کو مواد فراہم کرنے والی مارکوم (Marcom) کی ایپ ”Covid19 Care for Media“ شامل ہے۔

دنیا بھر میں بذریہ فون ٹریکنگ کی جا رہی ہے۔ ابو سرخیل

شروع میں وزيراعظم عمران خان covid-19 کے حوالے سے زيادہ سنجیدہ نظر نہيں آئے، لیکن آگے چل کر وہ بھی اس وائرس کے مقابلے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی اہمیت کے متعلق بات کرنے لگے۔ 23 اپریل کو ملک بھر میں براڈکاسٹ ہونے والے ٹیلی تھان کے دوران عمران خان نے کہا کہ حکومت کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے ”مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے والی ہے۔“ ملک بھر میں covid-19 کے کیسز کی نگرانی کے لیے ایک ”ٹریک اینڈ ٹریس“ (track and trace) سسٹم کا بھی اعلان کیا گیا، اور کہا جارہا ہے کہ یہ وہی پلیٹ فارم ہے جسے انٹر سروسز اینٹیلی جینس (Inter-Services Intelligence – ISI) کے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس وبا کے خاتمے کے حوالے سے ٹیکنالوجی کا کردار بہت اہم ہوگا۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے زور پکڑنے کی ابتدائی وجوہات میں ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی اور ہیلتھ کیئر سسٹم کی ناکامی شامل تھیں۔ ایران سے تفتان کے ذریعے پاکستان لوٹنے والے زائرین کو کٹس کی تعداد ناکافی ہونے کے باعث ٹیسٹ نہيں کیا گیا اور انہيں بنیادی ہیلتھ کیئر سہولیات سے محروم قرنطینہ کے مرکز بھیج دیا گيا۔ اس لاپرواہی کے نتیجے میں تفتان پاکستان میں کرونا وائرس کے لیے مرکز بن گیا (پاکستان میں کرونا وائرس کے دو مراکز ہیں، جن میں سے ایک تفتان اور دوسرا مارچ میں رائیونڈ میں منعقد ہونے والی تبلیغی جماعت کا اجتماع ہے)۔

ابتدائی طبی امداد کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی

اس سال کے شروع ہوتے ہی چین کے شہر ووہان سے کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے متعلق اطلاعات موصول ہونا شروع ہوئيں۔ اس کے بعد متعدد ممالک متاثرہ افراد کی تعداد کم کرنے کے لیے جدید اور پرانی دونوں قسم کی طبی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے لگے، جن میں درجہ حرارت کی پیمائش کے لیے بنیادی قسم کے آلات سے لے کر پیچیدہ روبوٹکس، سب ہی کچھ شامل تھا۔

مثال کے طور پر، ووہان میں کرونا وائرس کے علاج کے لیے بنائے گئے ہسپتال میں انسانی عملے کے بجائے صرف اور صرف روبوٹس بھرتی کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، چین میں مختلف اقسام کی طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے بیدو (Baidu) کی اپولو (Apollo) نامی خودکار گاڑیاں اور ڈرونز کا استعمال کیا جارہا ہے۔

Mohammed Mohammed/Xinhua کووڈ-19 کے درجہ حرارت کی پیمائش کے لئے استعمال ہونے والی گن۔

لیکن covid-19 مزید پھیلتا گیا اور آخرکار عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی وبا قرار دے دیا۔ اس وقت یہ بات واضح ہوئی کے ”دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑے عالمی بحران“ کے لیے علاج معالجے سے زيادہ پیچیدہ ٹیکنالوجی کی ضرورت پیش آئے گی۔

اور یہ ٹیکنالوجی تھی بگ ڈیٹا۔

دسمبر 2019ء میں کینیڈا میں واقع ہیلتھ مانیٹرنگ کے پلیٹ فارم بلو ڈاٹ (BlueDot) اور بوسٹن کے ہیلتھ میپ (HealthMap) نے مصنوعی ذہانت کے الگارتھمز کی بنیاد پر  covid-19 کے پھیلاؤ کے متعلق دنیا کو خبردار کرنے کی کئی کوششیں کی۔ تاہم، ان کی تنبیہات کو نظرانداز کردیا گيا اور مارچ تک یہ بات واضح ہوگئی کہ مصنوعی ذہانت سے اس وبا کو روکا تو نہيں جاسکتا، البتہ اس کے اثرات کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔

دنیا بھر میں covid-19 کے شکار افراد کی تعداد تیزی سے بڑھتی گئی، اور ڈیٹا سائنسدان ماضی میں گوگل فلو ٹرینڈز (Google Flu Trends) کی ناکامی کی مثالیں پیش کرتے رہ گئے۔ یہ بات جلد سامنے آگئی کہ 2020ء کے بیشتر حصے میں بگ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کا اصل فائدہ نگرانی کی شکل میں سامنے آئے گا۔

مارچ تک یہ وبا اس قدر پھیل چکی تھی کہ کئی ممالک میں لاک ڈاؤنز نافذ کرنا ضروری ہوگیا، جس کے بعد ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور covid-19 سے متاثرہ علاقہ جات کی نشاندہی کی بھی ضرورت پیش آئی۔ اس کے لیے دنیا بھر میں پوزیشننگ ٹیکنالوجیز، سیٹلائٹ مانیٹرنگ، چہرے کی شناخت، اور موبائل ٹریکنگ جیسی ٹیکنالوجیز کو استعمال کیا جارہا ہے۔

اسلام آباد میں سی ٹی وی کیمروں کی مرمت کی جا رہی ہے۔ اردو پوائنٹ

مثال کے طور پر، روس میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے لیے 170،000 کیمروں پر مشتمل سسٹم کی مدد سے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا گیا۔ اسی طرح سپین میں نیشنل سائنٹیفک ریسرچ کاؤنسل (Scientific Research Council) ملک بھر سے حاصل کردہ موبائل ڈیٹا، کمپیوٹر  سائنس، اور ڈیٹا ٹیکنالوجیز کی مدد سے سماجی دوری پر کڑی نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤنز کے خاتمے کے تعین کے لیے الگارتھمز تیار کررہا ہے۔ جنوبی کوریا میں لاک ڈاؤنز کے بہتر انتظام کے لیے کریڈٹ کارڈ ٹرانزیکشنز، جی پی ایس لوکیشنز، سی سی ٹی وی فوٹیج، چہرے کے سکینز، درجہ حرارت کے مانیٹرز اور طبی ریکارڈز سے فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ اسرائیل میں شہریوں کو اپنے محلوں کے متعلق مطلع کرنے کے لیے کانٹیکٹ ٹریسنگ (contact tracing) الگارتھمز کے ذریعے ٹیکسٹ میسیجز بھیجے جارہے ہيں۔

ایک طرف تو ترقی یافتہ ممالک میں کئی مختلف اقسام کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کامیاب ثابت ہورہی ہيں، لیکن دوسری طرف ترقی پذیر ممالک میں دستیاب وسائل کے متعلق کئی سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود بھی، مصنوعی دٹیکنالوجیز سے پاکستان جیسے ممالک کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

بیسٹ پریکٹس اے آئی (Best Practice AI) کے شریک بانی اور پارٹنر سائمن گرینمین (Simon Greenman) کا خیال ہے کہ بگ ڈيٹا اور مصنوعی ڈیٹا پاکستان میں کرونا وائرس کے خاتمے کے سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہيں۔

وہ کہتے ہیں کہ ”علامت کی چیکنگ کے لیے چیٹ بوٹس دستیاب ہیں جن کی مدد سے مریضوں کی علامات کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد تجاویز حاصل کی جاسکتی ہيں۔ جن ہسپتالوں میں ڈاکٹروں یا وینٹی لیٹرز کی کمی ہوں، وہاں مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔“

گرین مین مزید بتاتے ہيں کہ مصنوعی ذہانت میں انسانوں کی طرح چیزیں دیکھنے کی صلاحیت موجود ہے، جس سے نہ صرف امراض کی تشخیص کرنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ ڈاکٹروں کا بوجھ بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”مصنوعی ذہانت کی دیکھنے کی صلاحیت بہت اچھی ہے، وہ انسانوں کی طرح دستاویزات اور ٹیسٹس کے نتائج کی جانچ پڑتال کرسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، سی ٹی سکین سے ڈاکٹروں کو تجزیے اور تشخیص میں مدد مل سکتی ہے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے زیادہ سنگین علامات رکھنے والے مریضوں کی نشاندہی بھی ممکن ہے۔ اس کے علاوہ، یہ سسٹمز مریضوں سے معلومات حاصل کرکے خود سے بھی ان کی تشخیص کرسکتے ہيں۔“

گرینمین وسائل کی تقسیم، منصوبہ بندی اور پیشگوئی میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت سے انکار نہيں کرتے، لیکن ساتھ ہی ان کا خیال ہے کہ بگ ڈیٹا تک رسائی کے دوران جمہوری طریقہ اپنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق عوام اپنی حکومتوں پر صرف اسی صورت میں بھروسہ کرے گی اگر مصنوعی ذہانت کے بنیادی اخلاقیات کا خیال رکھا جائے گا۔

گرینمین کہتے ہیں کہ ”یورپی ضابطہ کار حکام رضاکارانہ بنیاد پر ڈیٹا کے حصول کی تجویز دیتے ہيں، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ طریقہ کار کس حد تک موثر ثابت ہوگا؟ ڈیٹا کی رضاکارانہ فراہمی کا خیال تو بہت اچھا ہے، لیکن اس کا موثر ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر اچھی گورننس سے کام نہ لیا جائے گا اور حدود کا تعین نہ کیا جائے، تو عوام حکومت پر بھروسہ نہيں کرسکے گی۔“

Shutterstock لاک ڈون کی نگرانی کے لئے ڈرون کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایک طرف تو دنیا بھر میں متعدد ممالک بگ ڈیٹا کے استعمال کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہے ہيں اور دوسری طرف عالمی انسانی حقوق کے گروپس آزادانہ نگرانی، شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کررہے ہيں۔ جنوری میں جنوبی کوریا نے ڈیٹا کی پرائیوسی کے تین اہم قوانین میں ترامیم کیں۔ اس کے علاوہ، مارچ میں اسرائيل نے مصنوعی ذہانت کے الگارتھمز تیار کرنے کے لئے ضروری ڈیٹا تک رسائی کے لیے ہنگامی بنیاد پر چند قوانین متعارف کیے۔

متعدد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں کئی ممالک میں بحرانوں کے دوران پبلک ہیلتھ اور تحفظ کے لیے متعارف کردہ ہنگامی قوانین سے عوام کے بجائے حکومت کو زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔

سائبر قوانین کی تجزیہ کار اور میس سک اینڈ پارٹنرز (Macesic & Partners) کی پارٹنر آئیوانا مینوویلو (Ivana Manovelo) کہتی ہيں کہ اگر قانونی فریم ورکس، کنٹرول کے میکانزمز اور جانچ پڑتال کے پراسیسز تیار نہ کیے جائيں تو کئی ممالک میں covid-19 کے خاتمے کے بعد بھی عوام کی نگرانی جاری رہے گی۔

وہ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتی ہیں کہ ”کسی بھی قانونی فریم ورک کو اس وقت قابل قبول تسلیم کیا جاتا ہے اگر آئين کے تحت دستیاب حقوق پر پابندیاں عائد کرتے وقت ضرورت کی نوعیت کا خیال رکھا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام پابندیوں کو واضح طور پر بیان کرنا، صرف شدید صورتحال میں بروئے کار لانا، اور ضرورت ختم ہونے کے بعد ختم کردینا ضروری ہے۔ کچھ ممالک میں کرونا وائرس سے قبل بھی اس قسم کے خدشات موجود تھے، اور یہاں قانون کی تشکیل اور بھی زیادہ چیلنجنگ ثابت ہوگی۔“

مثال کے طور پر کرویئشا میں الیکٹرانک کمیونیکیشنز ایکٹ (Electronic Communications Act) کی ترامیم متعارف کرنے کی کوششوں کی بہت مخالفت کی گئی۔ اس کے برعکس تائیوان میں آئینی عدالت کمیونیکیبل ڈزیزز کنٹرول ایکٹ (Communicable Diseases Control Act) کے نام پر (جسے کئی لوگوں کے مطابق 2003ء میں پھیلنے والی SARS کی وبا کے نتیجے میں متعارف کیا گيا تھا) متعارف کیے جانے والے تمام اقدام منظور کررہی ہے۔

قانونی تجزیہ کار اعتراف کرتے ہيں کہ مصنوعی ذہانت اس قدر نئی ٹیکنالوجی ہے کہ اس وقت اس کے متعلق قوانین تشکیل دینا بہت مشکل ثابت ہورہا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بہت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے جس کی وجہ سے اس کے تمام فوائد و نقصانات اور ان کے قانونی مضمرات کا تعین کرنا بہت مشکل ہے۔

مانوویلو کہتی ہیں کہ ”مصنوعی  ذہانت اور بگ ڈيٹا کے جہاں کئی فوائد ہیں وہاں ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور پرائیوسی کے حوالے سے کئی نقصانات بھی ہیں، اور ایک محفوظ قانونی فریم ورک ان ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال کی گنجائش کم کرنے اور لوگوں کا اعتماد میں اضافہ کرنے کے سلسلے میں بہت معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک دفعہ یہ ہیلتھ کیئر کا بحران ختم ہوجائے، ان مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔“

China Daily ووہان کے ہسپتال میں روبوٹ کا استعمال۔

پاکستان میں حقوق کے گروپس اس وبا کے خاتمے کے بعد شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق کے لیے جد و جہد دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہيں، لیکن ان کی لڑائی covid-19 کے پہلے سے جاری ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے پہلے کیس کی اطلاع فروری 2020ء میں موصول ہوئی۔ تاہم انسانی حقوق کے گروپس اور ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کا کچھ شہریوں کے آن لائن تحفظ کے لیے متعارف کیے جانے والے نئے قوانین کے خلاف احتجاج اس سے پہلے سے جاری تھا۔ جب کرونا وائرس وبا کی شکل اختیار کررہا تھا، اس وقت پاکستانی حکومت نے ”سوشل میڈیا کے نئے قواعد“ کی منظوری دے دی، جس کا مقصد ان کارکنان کے مطابق آزادی اظہار خیال کو مزید محدود کرنا تھا۔

اس سے پہلے 2016ء میں متعارف ہونے والے پاکستان کے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (Prevention of Electronic Crimes Act) کو صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ نہ رکھنے کے سبب کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، سائبر قوانین کے عملدرآمد اور شہریوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کے متعلق کئی خدشات بھی سامنے آچکے ہيں۔

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (Digital Rights Foundation) کی بانی نگہت داد کو بھی اس بات کا ڈر ہے کہ covid-19 پر نظر رکھنے کے لیے متعارف کردہ اقدام اس وبا کے خاتمے کے بعد بھی جاری رہیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر ان اقدام کو اس وقت نہ روکا گیا تو آگے چل کر ان کی سختی میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

Creative Common روس میں چہرے کی شناخت کے لئے استعمال کے جانے والی ٹیکنالوجی۔

انسانی حقوق کے گروپس کافی عرصے سے حکومت کو اپنی پابندیوں کو محدود کرنے کی تلقین کررہے ہیں۔ لیکن اب وہ کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے منصوبے تیار کرنے کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔ وہ وقت دور نہيں ہے جب مصنوعی ذہانت کو ہیلتھ کیئر اور عوامی تحفظ کے لیے استعمال کیا جانے لگے گا اور داد کا خیال ہے کہ اس سے پہلے اس پیش رفت سے متاثر ہونے والے تمام فریقین کی رائے جاننا بہت ضروری ہے۔

وہ کہتی ہيں کہ ”اس سے پہلے کہ کوئی بھی حکومت پالیسی سازی کے لیے مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجی اپنائے، اسے خصوصی طور پر سول سوسائٹی اور اقلیتوں کے خدشات جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پالیسیوں کی تشکیل کے دوران ہر ایک کو ساتھ لے کر چلنے سے سب سے زيادہ متاثرہ افراد کو بہترین تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔“

اس کے علاوہ، حقوق کے کارکنان ہیلتھ کیئر کے شعبے میں بگ ڈیٹا متعارف کرنے سے پہلے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے قوانین کا بھی مطالبہ کررہے ہيں تاکہ ہر کسی کو اپنے صحت کے متعلق معلومات پر مکمل اختیار حاصل ہوسکے۔

اپریل میں ریوٹرز (Rewterz) کی انیٹیلی جینس ٹیم کی ایک رپورٹ سامنے آئے جس کے مطابق 11.5 کروڑ پاکستانیوں کا ذاتی ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت کیا جارہا ہے، جس کے بعد ڈیٹا کے تحفظ کے متعلق خدشات میں اضافہ ہوگیا۔ ان دعووں کے متعلق کوئی ثبوت تو نہيں مل سکا، لیکن وفاقی حکام چوکنا ضرور ہوگئے۔

سینیٹ سٹینڈنگ کمیٹی آن انٹیریئر (Senate Standing Committee) کے چیئرمین رحمان ملک نے فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (Federal Investigation Agency)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (Pakistan Telecommunication Authority)، اور نیشنل ڈیٹابیس اینڈ ریجسٹریشن اتھارٹی (National Database and Registration Authority) کو تفتیش کی ذمہ داری سونپ دی۔ اس کے علاوہ، سندھ ہائی کورٹ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وزارت داخلہ کے سیکریٹریوں کے علاوہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشنز اتھارٹی اور نادرا کے چیئرپرسنز کو بھی نوٹسز جاری کر دیے ہيں۔

اس پیش رفت کے بعد حکومت نے ڈیٹا تحفظ کے لیے اتھارٹی کی تشکیل اور 2020ء کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے قانون کے متعلق مشاورت حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ آن لائن ڈیٹا کے تحفظ کے لیے قوانین کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ تعلیم کے حصول اور کاروبار چلانے سمیت کئی آن لائن سرگرمیوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ڈیٹا کے تحفظ کے قانون اس وجہ سے بھی زیادہ ضروری ہوگئے ہيں کیونکہ کرونا وائرس کے باعث پاکستان میں آن لائن ہیلتھ کیئر کی سہولیات کے استعمال میں بہت زیادہ اضافہ نظر آیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران doctHERs، ٹیلی پولی کلینک (Tele Polyclinic)، فائنڈ مائی ڈاکٹر (Find My Doctor)، امن ٹیلی ہیلتھ (Aman TeleHealth) اور رنگ آ ڈاکٹر (Ring a Doctor) جیسے کئی ادارے بذریعہ انٹرنیٹ مختلف امراض کا علاج فراہم کررہے ہيں۔

نگہت داد کہتی ہيں کہ ”پاکستان میں انٹرنیٹ کے متعلق معلومات زیادہ عام نہيں ہیں اور ڈیٹا کے عدم تحفظ کا خطرہ اور بھی زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ڈیٹا کے تحفظ کے قوانین کی تشکیل کے دوران اس بدلتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس قانون اور اس کے عملدرآمد کے لیے ایک خودمختار ادارہ بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، کلیدی اور غیرکلیدی ڈیٹا کی واضح تعریفیں بھی ضروری ہیں۔“

پاکستان کی کووڈ-19 کی واٹس ایپ ہیلپ لائن۔ ابو سرخیل

ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی آمریت

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آمرانہ حکومتیں covid-19 کو بہانہ بنا کر اپنے شہریوں کی نگرانی میں اضافہ کرنا شروع کردیں گے۔

ہنگری اور سربیا جیسے یورپی ممالک میں اس وبا کے دوران عوام کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے نئے قوانین متعارف کیے گئے ہيں۔ ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان (Viktor Orbán) نے اپنے اختیارات میں اضافے کے لیے قانون پاس کیا ہے اور سربیا میں اب ہر جگہ فوجی نظر آرہے ہيں۔

اس کے علاوہ روس اور چند عرب ممالک میں ہر ایک سے گھر سے باہر نکلنے کی وجہ معلوم کی جاتی ہے اور ان کی بذریعہ سمارٹ فون ہمہ وقت ٹریکنگ کی جاتی ہے۔ بحرین میں کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے الیکٹرانک ٹیگز متعارف کیے گئے ہيں۔

لندن کی یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر کے سکول آف سوشل سائنسز کے سربراہ دبییش آنند کے مطابق آمرانہ حکومتوں کو کامیاب بنانے کے لیے ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہيں کہ ”کرونا وائرس کی وجہ سے غیرجمہوری اور آمرانہ حکومتوں کو اپنے شہریوں کی نگرانی کا بہانہ مل گیا ہے۔ نئی ٹیکنالوجیز پر تجربات کے دوران پرائیویسی اور ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے اور پسماندہ کمیونٹیوں اور افراد کے مسائل  ‘ہم سب ایک ساتھ ہیں’ جیسے بیانات تلے دبائے جارہے ہيں۔“

آنند کا خیال ہے کہ حکومتیں اسانیت کا مظاہرہ کرنے اور افواج کے لیے مختص کردہ رقم ہیلتھ کیئر کی فراہمی کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اقلیتوں کو اس وائرس کا ذمہ دار ٹھہرائيں گی۔ وہ مزید کہتے ہيں کہ وائرس کی روک تھام کے بہانے سے انسانی حقوق کی تحریکوں، احتجاجوں اور ریلیوں کو دبانے کی کوشش کی جائے گی۔

چین کی covid-19 پر قابو پانے کی کوششوں کو عدم شفافیت کے باعث خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ چینی حکومت نے اس مرض کے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہے اور نیو یارک ٹائمز، وال سٹریٹ جرنل اور واشنگٹن پوسٹ سمیت کئی بڑے اخباروں سے وابستہ بیرون ملک صحافیوں کو جلاوطن کردیا۔

آنند کہتے ہيں کہ ”کرونا وائرس کے ابتدائی پھیلاؤ میں چین کے سیاسی نظام کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ اس قسم کے آمرانہ نظام اس قدر سخت ہوتے ہیں کہ نچلے اور درمیانے درجوں پر کام کرنے والے افراد مسائل کو چھپانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ چین نے اس مرض کو دو ماہ تک پوشیدہ رکھا اور اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔“

وہ مزید کہتے ہيں کہ ”اس سب کے باوجود بھی چین کے کرونا وائرس پر قابو پانے کو ایک مثال بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں ڈاکٹروں کے کمال کے علاوہ شہریوں کی مکمل نگرانی کا بہت بڑا ہاتھ تھا، جو کسی بھی جمہوری ملک کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔“

پاکستان میں بھی چین کی کامیابی کو بہت سراہا جارہا ہے اور وزیراعظم عمران خان بار بار چین کو پاکستان کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ اس وقت 62 ارب ڈالر کی مالیت رکھنے والے سی پیک پراجیکٹ کی وجہ سے پاکستان اور چین کے درمیان بہت گہرا تعلق قائم ہوچکا ہے اور رپورٹس کے مطابق پاکستان کی ڈیجیٹل پالیسیاں بھی چین کے نقش قدم پر چل رہی ہيں۔

اس کے نتیجے میں ڈیجٹل نگرانی اور آن لائن سینسرشپ میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے جنہيں آن لائن حقوق کے کارکنان نے پچھلی دہائی کے دوران خاصی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ پچھلے چند سالوں کے دوران آزادی اظہار خیال میں اتنی تیزی سے کمی ہوئی ہے کہ پاکستان Reporters Sans Frontières کی آزادی صحافت کی رینگنگ میں 180 میں سے 145ویں پوزیشن پر آپہنچا ہے، جبکہ دو سال قبل پاکستان 151ویں پوزیشن پر کھڑا تھا۔

ڈیجیٹل حقوق کے کارکنان اور سیاسی تجزیہ کار کے مطابق پاکستان میں آزادی اظہار خیال میں کمی اور ڈیٹا کے تحفظ اور سائبر سیکورٹی کے انتہائی سخت قوانین کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہاں covid-19 کے خاتمے کے بعد بھی شہریوں کی نگرانی جاری رہنے کا امکان موجود ہے۔ اس میں ”ٹریک اینڈ ٹریس“ (track and trace) سسٹم سمیت کرونا وائرس کے دوران تیار کردہ ٹیکنالوجی کا بہت بڑا ہاتھ ہوگا۔


مصنف لاہور میں رہائش پذیر صحافی ہیں۔

تحریر: کنور خلدون شاہد

مترجم: صوفیہ ضمیر

Authors

*

Top