Global Editions

بہتر پودے بنا کر دنیا کی بھوک ختم کی کوششیں کی جارہی ہیں

سا‎ئنسدان امید کرتے ہیں کہ پودوں کے میٹابولزم کو تبدیل کرکے دنیا میں قحط اور بھوک کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔

الینوائے کے ایک گرین ہاؤس میں دو ریسرچرز تجرباتی پودوں کے بیج بو رہے ہیں۔ وہ پہلے مٹی کو گیلا کرکے اسے گملوں میں ڈالتے ہیں، اور پھر شیشیوں سے تمباکو کے بیج نکال کر اس مٹی میں بوتے ہیں۔ اگلے چند ماہ میں ان پودوں کو ایک کھیت میں منتقل کردیا جائے گا، اور پھر سائنسدان یہ دیکھیں گے کہ کیا یہ پودے معمولی پودوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں یا نہیں؟ یہ سب 2050ء کی خوراک میں اضافے کے لیے بہت اہم قدم ہے۔

تمباکو کے یہ پودے دیگر بائیوٹیک کے پودوں کے مقابلے میں زیادہ بنیادی سطح پر انجنیئر کیے گئے ہیں۔ ان کے فوٹوسنتھسز (photosynthesis) کے طریقے کو تبدیل کر کے دھوپ کی روشنی اور کاربن ڈائی آکسائڈ کو زیادہ بہتر طور پر استعمال کرکے کاربوہائیڈریٹس پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر سائنسدان ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائيں تو زمین سے کم پانی اور کھاد استعمال کرتے ہوئے زیادہ غذا حاصل کی جاسکے گی۔

اس وقت دنیا کی خوراک میں اضافہ کرنے کی کی اشد ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق دنیا کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 2050ء تک زرعی پیداوار میں دو گنا اضافہ کرنا ہوگا۔ پودے کاربن ڈائی آکسائڈ سے نشونما حاصل کرتے ہیں، لیکن زیادہ گرمی سے زرعی پیداوار متاثر ہوجاتی ہے۔ کئی ممالک میں کلائمیٹ چینج کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافے اور خشک سالی تباہ کن ثابت ہونے والے ہیں۔ اربنا شیمپین میں یونیورسٹی آف الینوئے میں قائم کردہ بین الاقوامی سمپوزیم Realizing Increased Photosynthetic Efficiency (RIPE) پراجیکٹ کے ڈائریکٹر سٹیو لانگ (Steve Long) کہتے ہیں کہ اس کا سب سے گہرا اثر غرباء پر ہوگا۔

RIPE پراجیکٹ، جس کی فنڈنگ بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے کی ہے، تمباکو پر اس وجہ سے کام کررہے ہیں کہ اس فصل کو زیادہ آسانی سے جینیائی طور پر انجنیئر کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کا اصل مقصد ان فصلوں کی پیداوار کو بڑھانا ہے جن سے غذائیت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے لیے وہ پودوں کے میٹابولزم کو انقلابی طور پر بہتر بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

باوجود اس کے کہ 160 مراحل پر مشتمل فوٹوسنتھسز کے عمل پر کافی تحقیق کی جا چکی ہے، زرعی ماہرین اب تک اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں رہے ہیں۔ قدرتی فوٹوسنتھسز زیادہ موثر ثابت نہیں ہوتی ہے۔ سورج کی صرف پانچ فیصد توانائی کو ہی بائیوماس میں تبدیل کیا جاتا ہے، اور انسانوں کے لیے کھانے کی تیاری میں اس سے بھی کم توانائی استعمال ہوتی ہے۔ ماضی میں کھاد، کیڑے مار ادویات اور بریڈنگ (breeding) سے زرعی پیداوار میں اضافہ تو ہوا ہے، لیکن اب ان سے زیادہ فائدہ حاصل نہیں ہورہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ RIPE پودوں کے غیرموثر میٹابولزم کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

جینیات میں بہتری سے فصلوں کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے اربوں کی تعداد میں لوگوں کو خوراک مہیا کی جاسکتی ہے۔ پچھلے سال RIPE نے پہلی دفعہ ثابت کیا کہ فوٹوسنتھسز کو انجنیئر کرکے پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔ ریسرچرز روشنی پراسیس کرنے میں استعمال ہونے والے تین جینز کو زیادہ موثر بنا کر تمباکو کی پیداوار میں 20 فیصد اضافہ لانے میں کامیاب ہوگئے۔

RIPE کی ٹیم اب اسی طریقے سے دوسری فصلوں کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔ بزازیل کی امانڈا ڈی سوزا (Amanda De Souza) کساوا نامی فصل پر کام کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔

کساوا کی جینیائی انجنیئرنگ ایک نازک اور طویل مرحلہ ہے۔ ڈی سوزا نے کساوا پودے سے کساوا کے جینین حاصل کرنے کے بعد انھیں ایک پیٹری ڈش میں نشونما فراہم کرنے کی کوشش کی۔ اس نمونے میں ایسا بیکٹیریا متعارف کروایا گیا جس میں روشنی کو پراسیس کرنے کے جینز شامل تھے۔ جو خلیے جینز پکڑنے میں کامیاب ہوں گے، ان میں ایسے ہارمونز ڈالے جائيں گے جن کی وجہ سے ان میں جڑیں اور تنے پھوٹنے لگيں گے۔

کساوا میں اس تبدیلی میں آٹھ سے دس ماہ لگتے ہیں، لیکن دوسری فصلوں میں اس سے کم وقت لگنے کا امکان ہے۔

کچھ فاصلے پر رکھی ہوئی ایک الماری میں مصنوعی دھوپ کی روشنی میں چھوٹے کساوا کے پودے پروان چڑھ رہے ہیں۔ ان کی جڑوں میں غذائیت سے بھرپور جیل لگائی گئی ہے، جسے پودوں کو مٹی میں ڈالنے سے پہلے ہاتھ سے صاف کردیا جائے گا۔

RIPE کے کھیت ان لیبس سے صرف دس منٹ کی دوری پر ہیں۔ یہ قطعہ سویابین اور مکئی کے لیے زیادہ موزوں ہے، جس کا مطلب ہے کہ RIPE کے فیلڈ ٹرائل کے مینیجر ڈیوڈ ڈریگ (David Drag) کو کساوا اور چاول جیسے پودے اگانے کے لیے دماغ لڑانا ہوگا۔ انہوں نے نہایت افسوس کے ساتھ بتایا کہ 2015ء میں ان کی ٹیم کی کوششوں کے باوجود کئی فصلیں بارش سے تباہ ہوگئيں، اور ان کی ایک سال کی محنت ضائع ہوگئی۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زرعی سائنس کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلے، اسے قدرت کے آگے سر جھکانا ہی پڑتا ہے۔

تحریر: کیتھرین بورزیک (Katherine Bourzac)

Read in English

Authors
Top