Global Editions

چھوٹے روبوٹ آنکھ کا حساس آپریشن کریں گے

ویسے تو انسانی جسم کے سبھی آپریشن توجہ مانگتے ہیں لیکن آنکھ کا آپریشن انتہائی حساس اور سرجن کی تمام تر ذہنی وجسمانی صلاحیتوں اور یکسوئی و احتیاط کا متقاضی ہوتا ہے۔ اس قسم کے آپریشنز میں اگر روبوٹس کی مدد حاصل ہو جائے تو کم تجربہ کار سرجنز کی کامیابی کے امکانات بے حد بڑھ جاتے ہیں۔ اسی لئے تحقیق کار یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ایسی مشینیں جو انسانی آنکھ میں مختصر اور حساس آپریشن کرنے کے قابل ہیں وہ مکمل طور پر نیا طریقہ کار اپنانے کی اہل ہیں۔گزشتہ سال ستمبرکو بڑا دلچسپ طبی آپریشن کیا گیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ میکلارن نے 70سالہ پریسٹ ولیم بیور کی آنکھ کے آپریشن کیلئے نہایت چھوٹا روبوٹ بازو استعمال کیا۔ ان کی آنکھ کے پردہ بصارت کی جھلی سکڑکر ناہموار ہو گئی تھی جس کی وجہ سے انہیں ایسے لگتا تھا جیسے وہ دنیا کو ایک آئینے کے ذریعے دیکھ رہے ہیں۔ جوائے سٹک اور کیمرہ استعمال کرتے ہوئے پروفیسر میکلارن نے پردہ بصارت کو اٹھانے سے پہلے روبوٹک ریٹینل ڈسسیکشن ڈیوائس (R2D2)کے بازو کو نہایت باریک بینی سے آنکھ کے داخل کیا اور پردہ درست کردیا۔ یاد رہے آنکھ کا پردہ ملی میٹر کے ہزارویں حصے سے زیادہ باریک ہوتا ہے۔انسانی آنکھ کا روبوٹ کے ذریعے یہ پہلا آپریشن تھا۔ ستمبر سے لے کر اب تک جان ریک کلف ہسپتال لندن میں روبوٹ کی مدد سے پانچ مزید آپریشن کئے گئے۔ پروفیسر میکلارن کہتے ہیں کہ روبوٹ کی مدد حاصل ہونے سے میرے کاموں میں بہت بہتری آئی ہے۔ میں اگر کہیں چلا بھی جائوں تو روبوٹ ہر چیز محفوظ طریقے سے اپنی جگہ پر رکھتا ہے۔گزشتہ دہائی سے روبوٹ کو سرجری میں استعمال کرنا عام سی بات ہو گئی ہے۔ امریکہ کا بنا ہوا روبوٹ "ڈاونشی" دل کی شریانوں کی مرمت کرتا ہے۔ یہ روبوٹ دنیا بھر میں 30لاکھ افراد کا آپریشن کرچکا ہے۔ روبوٹک سرجری سے نہ صرف سرجنز کو بہت زیادہ مدد ملتی ہے بلکہ مریض کو کوئی زخم لگنے یا انفیکشن کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق میڈیکل روبوٹک سسٹم کی مارکیٹ 2020ء تک 17 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ سرجیکل روبوٹ چھوٹے کام کرنے کیلئے بہت بڑے اور بھاری بھرکم ہیں۔ ڈاونشی ہی کی مثال لے لیں اس کا حجم ایک ہاتھی جتنا ہے۔ آر 2ڈی 2کو یونیورسٹی آف ائینڈ ہوون کی سرپرستی میں قائم ڈچ میڈیکل روبوٹک فرم پریسیز بی وی (Preceyes BV)نے بنایا ہے۔ یہ واحد فرم نہیں جو سرجیکل روبوٹ بناتی ہے۔ کیمبرج کنسلٹنٹس میں سرجیکل سسٹمز کے سربراہ کرس ویگنر نے سرجری کیلئے کم وزن اور چھوٹا روبوٹ بنانے میں ٹیم کی رہنمائی کی۔ اس روبوٹ کا بیرونی جسم ایک سوڈا کین جتنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آنکھ کے آپریشن کیلئے روبوٹ بنانا مشکل کام ہے جو 10ملی میٹر کے محیط پر مشتمل سرجری کرسکے۔ ایسے روبوٹ میں جو تاریں استعمال ہوتی ہیں وہ 110مائیکرون کے حجم پر مشتمل ہوتی ہیں یہ سائز ہمارے سر کے بال سے تھوڑا سا ہی موٹا ہوتا ہے۔ میکلارن کے اندازے کے مطابق آر 2ڈی 2روبوٹ کی لاگت ایک ملین ڈالر ہے۔ کیمبرن کنسلٹنٹس کو امید ہے کہ ان کا بنایا ہوا روبوٹ لاگت میں چھوٹے ہسپتالوں کیلئے قابل رسائی ہو گا اور اس سے کم تجربہ کار سرجنز کو بھی کامیاب سرجری میں مدد ملے گی۔

تحریر: سائمن پارکن (Simon Parkin)

Read in English

Authors
Top