Global Editions

ٹیکنالوجی کا استعمال اور سینما ٹکٹوں کا حصول

ٹیکنالوجی نے روزمرہ معمولات زندگی میں بھی نمایاں جدت پیدا کر دی ہے۔ آج کے دور کا انسان ٹیکنالوجی کے استعمال سے کچھ اس طرح مستفید ہو رہا ہے کہ اسے خود بھی اندازہ نہیں رہا کہ ٹیکنالوجی اس کی روزمرہ زندگی کے کس کس شعبے میں اثرانداز ہو رہی ہے یا اسے فائدہ پہنچا رہی ہے۔ آپ سینما ٹکٹوں سے لے کر دنیا کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک سفر کے لئے گھر بیٹھے یا کام کے دوران ہی ٹکٹوں کی بکنگ کرا سکتے ہیں اور اس کام کے لئے آپ کو بکنگ آفس تک جانے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے معلومات کا حصول ہو یا اپنے دوست احباب سے روابط مقصود ہوں یہ سب آپ اپنے سمارٹ فون کے ذریعے نہایت آسانی سے کر سکتے ہیں۔

ذرا غور کیجئے آپ تفریح کے لئے سینما ہاؤس جاتے ہیں تاہم تفریح فلم کے آغاز سے پہلے اس وقت ہی شروع ہو جاتی ہے جب سینما ہاؤس میں اپنے لئے مختص نشست پر براجمان ہوتے ہیں اس کے ساتھ ہی فلم بینی کی تفریح کے لئے چند اور لوازمات بھی ضروری ہیں اور وہ ہیں پاپ کارن اور من پسند کولڈ ڈرنک۔ لیکن یہ سب تو اس صورت میں ہو گا جب آپ کو تھوڑی سے مشقت اٹھانا پڑے گی سینما ہاؤس کا رخ کرنے سے قبل آپکو یہ معلوم کرنا ہو گا کہ کس سینما گھر میں کون سی فلم کی نمائش جاری ہے اور آپ کون سے فلم دیکھنا چاہتے ہیں، اس کے بعد ٹکٹ خریدنے کا مرحلہ درپیش ہو گا اور پھر سینما گھر میں پسند کی نشست، پاپ کارن اور کولڈ ڈرنک لینے کے مراحل سے نمٹنے کے بعد ہی آپ فلم سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

اب ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی ترقی کے بعد یہ تمام مراحل اب چٹکی بجاتے ہی طے ہو سکتے ہیں۔ یعنی آپ آن لائن ٹکٹ حاصل کریں قریبی سینما ہاؤس میں جائیں اور فلم سے لطف اندوز ہوں، اور آپ کو یہ سہولیات فیضان اسلم کی بنائی گئی ایک کمپنی جس کا نام ہے بک می ڈاٹ پی کے (bookme.pk) سے حاصل ہو سکتی ہیں۔ فیضان اسلم نے 2013 ءمیں اپنی یہ دوسری کمپنی لانچ کی تھی اور اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ عوام الناس کو سفر یا تفریح کے لئے قطاروں میں کھڑا نہ ہونا پڑے اور عوام الناس بڑی سہولت کے ساتھ بس کی ٹکٹ حاصل کر کے منزل کی جانب سفر کر سکیں یا تفریح کے لئے کسی سینما گھر کا رُخ کر سکیں۔ تاہم آج یہ کمپنی ایک بہت بڑے Application Programming Interface نیٹ ورک کی شکل اختیار چکی ہے اور پاکستان کی بڑی ٹیلی کام کمپنیاں اس کی فراہم کردہ سہولیات سے فائدہ اٹھا رہی ہیں ان سہولیات کی سب سے بڑی مثال ایزی پیسہ ہے جس کے ذریعے نہایت آسانی سے پیسے ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل کئے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اب 14 بنک بھی اس پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اب جلد ہی ملک میں وینڈنگ مشینیں (یعنی وہ مشینیں جن میں سکے ڈالنے سے پسند کی اشیاء مثلاً ٹٓافیاں، چیونگ گم، کولڈ ڈرنکس وغیرہ خودبخود باہر نکل آتی ہیں) نصب کی جا رہی ہیں۔

اپنے سفر کے بارے میں اسلم کا کہنا ہے کہ میں نے سال 2009 ءمیں اپنے آبائی شہر ساہیوال میں سافٹ وئیر سروس کمپنی قائم کی تاہم 2013 ء میں ایک بڑے کلائنٹ کے دیوالیہ ہونے کے سبب ہمارا کاروبار بری طرح متاثر ہوا۔کچھ عرصہ بعد اسلم کو تفریح کے لئے سینما گھر جانے کا اتفاق ہوا جہاں اسے طویل قطار میں کھڑے ہو کر ٹکٹ خریدنا پڑی اس واقعے نے اسے احساس دلایا کہ ایک ایسی کمپنی قائم کی جانی چاہیے جو وقت کے اس غیر ضروری ضیاع کو روکنے اور عوام الناس کو سہولیات فراہم کرنے کا باعث بنے۔
یہ تقریباً وہی وقت تھا جب ملک کے سب سے بڑے startup incubators پلان نائن نے اپنے تیسرے سیشن کے لئے درخواستیں طلب کی تھیں۔ اسلم نے بھی درخواست دی اور اس کی درخواست کو منظور کر لیا گیا۔ اپنے اس تجربے کے بارے میں اسلم کا کہنا تھا کہ میں اپنی پوری ٹیم کو ساتھ لیکر لاہور میں ارفا ٹاور چلا آیا۔ یہاں ہمیں چوبیس گھنٹے تک کام کرنے اور رہنے کی سہولت دستیاب تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا پلان نائن کے پروگرام میں شرکت کرنے کے لئے لاہور آنا اور یہاں ٹریننگ لینا میرے اور میرے کاروبار کی ترقی کے لئے بہت مفید ثابت ہوا کیونکہ یہاں ہمیں بہت تجربہ حاصل ہوا۔
اسلم کا مزید کہنا تھا کہ چھ ماہ پلان نائن میں گزارنے کے بعد مجھے مزید چھ ماہ پلان ایکس میں گزارنے کا موقع ملا جہاں مجھے اپنی کمپنی کو اگلے مرحلے کے لئے تیار کرنے کے لئے مفید رہنمائی حاصل ہوئی۔ آج میری کمپنی کی نہ صرف پاکستان بلکہ ملک سے باہر بھی کئی برانچیں کام کر رہی ہیں، کمپنی کو میانمار لے کر جانا ہمارے اعتماد میں بے پناہ اضافے کا سبب بنا۔

اسلم کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ مختلف ممالک میں کام کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے اور اب ہمیں روکنے والا کوئی نہیں۔ 2015 ء میں بک می ڈاٹ پی کے نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر فنڈنگ حاصل کی، جنوری میں ایک ترک کمپنی نے پچاس ہزار ڈالرز کی فنڈنگ کی جبکہ جون میں ایک مقامی سرمایہ کار نے اڑھائی لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی۔ اب اسلم اپنے تجربات سے بہت خوش ہے اور ان کا ماننا ہے کہ ملکی سرمایہ کاروں کو نئی کمپنیوں کی مزید حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔

تحریر: نمائندہ ایم آئی ٹی (MITTRP Correspondent)

Read in English

Authors
Top