Global Editions

مرکزی بینکس بٹ کوئن سے کیا سبق حاصل کرسکتے ہيں؟

ماہرین نے ایک حالیہ پینل میں یہ بات اجاگر کی کہ دنیا کی سب سے پہلی کرپٹوکرنسی میں کچھ اہم اسباق پوشیدہ ہیں۔

پچھلے سال فیس بک نے اپنی کرپٹوکرنسی لبرا (Libra) کا پرپوزل جاری کیا، جس کے بعد مرکزی بینکس یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ انہيں اس کا مقابلہ کس طرح کرنا چاہیے؟ کچھ اپنی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرنے کے متعلق بھی سنجیدہ دکھائی دے رہے ہيں۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس تبدیلی کی بنیاد ایک دہائی قبل رکھ دی گئی تھی۔ بٹ کوئن کے ذریعے پہلی دفعہ کسی وسیلے کے بغیر کرنسی منتقل کرنا ممکن ہوا، اور اس سے روایتی مالی نظام کو خطرہ لاحق ہونے لگا۔ اس کے علاوہ، بٹ کوئن میں حملوں کے خلاف تحفظ بھی موجود ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس سے مالی نظام میں انقلاب لایا جاسکتا ہے۔

میں نے میساچوسیٹس کے شہر کیمبرج میں حال ہی میں منعقد ہونے والے ایم آئی ٹی بٹ کوئن ایکسپو میں مرکزی بینکنگ اور کرپٹوکرنسی سے واقفیت رکھنے والے چند ماہرین سے کافی تفصیل سے بات کی۔ ہم نے ڈيجٹل کرنسی کے نظام کی تیاری سے وابستہ مسائل کے متعلق بھی بات کی۔ ان تمام ماہرین کی متفقہ رائے یہی تھی کہ مرکزی بینکس بٹ کوئن کی ترقی سے سبق سیکھ سکتے ہيں

مضبوطی میں تحفظ ہے

اس وقت امریکی فیڈرل ریزرو کا ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرنے کا کوئی ارادہ نہيں ہے۔ تاہم بوسٹن فیڈ (Boston Fed) میں فن ٹیک ریسرچ کے ڈائریکٹر باب بینچ (Bob Bench) کا خیال ہے کہ اگر فيڈرل ریزرو کبھی اپنا ارادہ بدلے تو اس کی اولین ترجیح اس کرنسی کا تحفظ ہوگی۔ وہ کہتے ہيں کہ ”جیسے ہی یہ مرکزی کرنسی لانچ ہوگی، اس پر حملے شروع ہوجائيں گے۔“

بٹ کوئن میں شفافیت اور کرپٹوگرافی کے علاوہ مالی فوائد بھی شامل ہيں اور ایم آئی ٹی میڈیا لیب کے ڈیجیٹل کرنسی انیشیٹیو (Digital Currency Initiative) کے ریسرچ سائنسدان روبلیح علی کے مطابق یہی وہ خصوصیات ہیں جو مرکزی بینکس کی دلچسپی کا مرکز بنیں گی۔ وہ کہتے ہيں کہ ”یہ سسٹم ایک انتہائی خطرناک ماحول میں رہنے کے باوجود بھی تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ثابت ہوا ہے۔“ بٹ کوئن میں موجود تحفظ روایتی مالی نظاموں سے مختلف ہے۔ علی کہتے ہيں کہ ”کرپٹوکرنسی کے سسٹمز میں ڈیٹا کو پوشیدہ رکھنے کے بجائے سسٹم کو محفوظ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔“

پیچیدگیاں متعارف کرنے میں فائدہ کم، نقصان زيادہ ہے

علی کہتے ہیں کہ مرکزی بینکس کی جانب سے متعارف کی جانے والی کرنسیوں کو ”ڈیجیٹل کرنسیوں کی تیسری نسل“ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق ”پہلی نسل“ میں بٹ کوئن اور ”دوسری نسل“ میں اتھیریم سمیت دیگر سمارٹ کانٹریکٹ پر مشتمل پلیٹ فارمز شامل ہیں۔ مرکزی بینکس اپنی ڈیجیٹل کرنسیوں میں زیادہ پیچیدگیاں متعارف کرسکتے ہيں، لیکن علی کا کہنا ہے کہ انہيں ایسا کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ سسٹم میں جتنی زيادہ پیچیدگی ہوگی، ہیکرز کے لیے اسے تباہ کرنے کے اتنے ہی زیادہ مواقع دستیاب ہوں گے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”ہمیں تیسری نسل کو پہلی نسل یعنی بٹ کوئن سے بھی زیادہ غیرپیچیدہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں نئی خصوصیات متعارف کرنے کے بجائے انہيں کم کرنے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اگر ہمیں اس سسٹم کو محفوظ بنانا ہے تو ہمیں ان باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔“

پرائیوسی کی یقین دہانی آسان نہيں ہوگی

علی کا خیال ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرنے والے تمام سینٹرل بینکس ایک جیسا سسٹم استعمال کرنے کے بجائے بٹ کوئن جیسی کرپٹوکرنسیوں اور روایتی مرکزی سسٹمز کا امتزاج اپنانا بہتر سمجھیں گے۔

اس قسم کے بلاک چین سسٹمز کو ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجیز (distributed ledger technologies) کہا جاتا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے وابستہ ماہر معیشیات سونیا ڈیوڈوویچ (Sonja Davidovic) کے مطابق ان کی بدولت مرکزی بینکس کے لیے اپنی کرنسیوں میں کئی خصوصیات متعارف کرنا ممکن ہوگ۔ مثال کے طور پر، ان کے لیے معاشی صورتحال میں تبدیلیوں کے جواب میں آٹومیٹک طریقے سے اقدام کرنا یا زر کی رسد (money supply) کو زيادہ بہتر طریقے سے کنٹرول کرنا ممکن ہوگا۔ نیز، وہ اپنی معیشت پر زیادہ بہتر طریقے سے نظر رکھ سکيں گے۔ تاہم ڈيوڈوویچ کا کہنا ہے کہ اس کا سب سے بڑا مسئلہ پرائیوسی کا تحفظ ہوگا۔

بٹ کوئن کے سسٹم میں پرائیوسی کا تحفظ کافی پیچیدہ ثابت ہوسکتا ہے۔ صارفین اپنا اصلی نام ظاہر نہیں کرتے، لیکن بلاک چین (blockchain) یعنی بٹ کوئن کے پبلک اکاؤنٹگ لیجر کی مدد سے ان کی نشاندہی کرنا ممکن ہے۔ اب سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ بلاک چین پر مشتمل مرکزی بینک کی ڈيجیٹل کرنسی سسٹم میں ہر ٹرانزیکشن کے ڈیٹا کی پرائیوسی کس طرح برقرار رکھی جاسکتی ہے؟ اگر ہم اس قسم کے سسٹم میں بڑے مالی ٹرانزیکشنز کی گنجائش متعارف کرنا چاہتے ہيں تو ہمیں منی لانڈرنگ (money-laundering) کے قواعد و ضوابط کی تعمیل کے لیے صارفین کی شناخت کا طریقہ نکالنے کی ضرورت ہے۔ اور اگر صارفین کا شناختی ڈیٹا متعارف کرلیا جائے تو اسے چوری، دھوکادہی اور حکومت نگرانی سے محفوظ رکھنے کا مسئلہ بھی کھڑا ہوجائے گا۔

بلاک چین کے ٹرانزیکشن کے متعلق ڈیٹا پوشیدہ رکھنے کے لیے اعلی قسم کی کرپٹوگرافی استعمال کرنے والی کرنسیاں (جن میں زی کیش (Zcash) اور مونیرو (Monero) سرفہرست ہيں) سامنے آرہی ہيں۔ تاہم ڈیوڈوویچ کا کہنا ہے کہ اگر مرکزی بینکس اس قسم کے سسٹمز متعارف کريں گے تو لوگوں کے میٹاڈیٹا  کی بنیاد پر ان کی پروفائلنگ کرنا ممکن ہوگی۔ وہ کہتی ہيں کہ ”میرا خیال ہے کہ ہمیں اس مسئلے کے حل کے لیے ٹیکنالوجی کے علاوہ دوسری چیزوں کا سہارا لینا ہوگا۔“

تحریر: مائیک آرکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors

*

Top