Global Editions

ہیلیم بھرے غباروں سے بنا روبوٹک آرم

کوئی ایسی شے جس کا رنگ چاندی جیسا ہو، وزن نہ ہونے کے برابر ہو کیا پانچویں منزل تک پہنچ سکتی ہے؟ یہ کوئی ایلومینیم سے بنی سیٹرھی نہیں بلکہ ایک روبوٹک آرم ہے۔ یہ روبوٹک آرم مختلف فیکٹریوں میں موجود روبوٹک آرمز جیسا نہیں ہے ۔ اس ڈیوائس کو ٹوکیو انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی سوزوموری لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے اور اس روبوٹک آرم کیلئے IEEE Spectrum نے ہیلیم سے بنے غباروں کی مدد لی ہے۔ اس روبوٹک آرم کو ہیلیم سے بھرے غباروں کی مدد سے بیس میٹر اونچائی تک پہنچایا جا سکتا ہے اور اس کا وزن صرف 1.2 کلوگرام ہے۔ اس نہایت ہلکے روبوٹک آرم میں مصنوعی پٹھے بھی استعمال کئے گئے ہیں اور یہ مصنوعی جوڑوں کی مدد سے سطح زمین سے بلند کیا جا سکتا ہے۔ Giacmetti آرم جو آرٹسٹ البرٹو Giacmetti کے نام سے منسوب ہے بالکل انسانی بازو سے مشابہہ ہے تاہم اس میں کئی بنیادی نقائص موجود ہیں۔ یہ وزن میں اتنا ہلکا ہے کہ ہوا بھی اسے آسانی سے ہلا سکتی ہے۔ اس نقص کی وجہ سے اس روبوٹک آرم سے زیادہ کام نہیں لیا جا سکتا تھا ۔ زیر تذکرہ روبوٹک آرم میں صرف ہیلیم گیس سے بھرے غباروں کی مدد لی گئی ہے تاہم اس روبوٹک آرم کو تیار کرنے والے تحقیق کاروں کا یہ ماننا ہے کہ یہ روبوٹک آرم وزن میں نہایت ہلکا اور آسانی کے ساتھ پیک بھی کیا جا سکتا ہے اور اسے آسانی کے ساتھ ریسرچ اور معائنے کے کاموں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس روبوٹک آرم کو اس صورتحال میں استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں کسی ٹرانسپورٹ یا بھاری ڈیوائس کا پہنچنا مشکل ہے۔ یہ روبوٹک آرم ان ڈرونز سے بھی بہتر ہے جو معائنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں کیونکہ ان میں بیٹری کے بہت سے مسائل ہیں اور بیٹری کے ضیاع کی صورت میں وہ زیادہ دیر تک معائنے کے قابل نہیں رہ پاتے۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top