Global Editions

یہ کمپنی تمام سمارٹ فونز میں چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف کرنے کی کوشش کررہی ہے

ہم شاید آئی فون ایکس نہ خرید سکيں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے ہم چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ ہمارے پاس ورڈز ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں، لیکن ہم سب کا چہرہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آگے چل کر جیسے جیسے سمارٹ فونز پر بائیومیٹرکز زيادہ عام ہونے لگیں گے، آپ کی شناخت کے لیے آپ کے چہرے کے استعمال میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

کچھ کمپنیاں، جن میں ایپل بھی شامل ہے، چہرے کی شناخت کے لیے اپنے فونز میں چہرے کی تھری ڈی میپنگ کے لیے انفراریڈ کیمرے سے آراستہ سنسرز نصب کررہی ہیں، اور اس وجہ سے یہ ٹیکنالوجی صرف مہنگے فونز تک ہی محدود ہے۔ لیکن اب لاس ویگس میں واقع ایک چھوٹی سی سٹارٹ اپ کمپنی سمارٹ فونز میں صرف ایک سافٹ ویئر کی مدد سے چہرے کی تھری ڈی شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

فیس ٹیک (FaceTec) نامی اس کمپنی کی ٹیکنالوجی، جس کا نام زوم (Zoom) ہے، ایپل سے مختلف تکنیک استعمال کرتی ہے۔ جب آپ اپنا چہرہ فون کے قریب لے جاتے ہیں، یہ سافٹ وئیر چہرے کے بگاڑ (distortion) کو نوٹ کرنے کے بعد کسی ایپ کے استعمال کے دوران پیدا ہونے والے بگاڑ کا تجزیہ کرکے اس کا آپ کے فون میں پہلے سے موجود تصویروں کے ساتھ موازنہ کرتا ہے۔

ریسرچرز کئی سالوں سے پاس ورڈ کے متبادل تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اور اب سمارٹ فونز میں چہرے کی شناخت کے علاوہ انگلیوں کے نشانات اور آئرس سکیننگ کی ٹیکنالوجیز نظر آنے لگے ہیں، لیکن یہ زيادہ کامیاب ثابت نہیں ہوسکے ہیں۔ تاہم چہرے کی پہچان کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے اور نومبر میں دستیاب ہونے والے مہنگے ترین آئی فون میں چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف کرنے سے فیس ٹیک جیسی کمپنیوں کو مارکیٹ میں قدم جمانے میں کافی مدد ملے گی۔

فیس ٹیک کے سی ای او کیون ایلن ٹسی (Kevin Alan Tussy) کہتے ہیں کہ فیس ٹیک چار سال سے چہرے کے ذریعے تصدیق پر کام کررہی ہے، اور وہ امید کرتے ہیں کہ بینکس اور ادائيگی کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنیاں اسے اپنے ایپس میں استعمال کرنے لگیں گی (اس وقت یہ ٹیکنالوجی چھوٹے سائز کی کمپنیوں، تعلیمی اداروں، اور غیرتجارتی کمپنیوں کو مفت دستیاب ہے)۔ اس وقت چند بینکس اس سافٹ ویئر کی پائلٹ ٹیسٹنگ کررہے ہیں، اور ڈیولپرز کو بھی فیس ٹیک کے سافٹ ویئر فراہم کیے گئے ہیں۔

اینڈروائڈ اور آئی او ایس کے لیے زوم لاگ ان (Zoom Login) نامی ڈیمو ایپ بھی دستیاب ہے، جس میں صرف شمولیت اور تصدیق کے مراحل کا مظاہرہ پیش کیا گيا ہے۔ سائن اپ کرنے کے لیے آپ کو فون کو پہلے اپنے چہرے سے ایک فٹ کے فاصلے پر اور پھر صرف چند انچ کے فاصلے پر پکڑ رکھ کر چند سیلفیاں کھینچنے کی ضرورت ہے۔ لاگ ان کرنے کے لیے، یہ مراحل دہرائيں۔ اس سافٹ ویئر نے اندھیرے میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جب میں نے اسے ایک گھپ اندھیرے کمرے میں استعمال کرنے کی کوشش کی، تو ڈسپلے کے کناروں پر دکھائی جانے والی سفید روشنی جتنی دیر برقرار رہی، وہ میرے چہرے کو ایپ میں لاگ ان کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔

ٹسی کہتے ہين کہ یہ سافٹ وئیر پہلے چند ویڈيو فریمز جمع کرتا ہے اور پھر دیکھتا ہے کہ کیمرے کے لینس کو قریب لے جانے سے آپ کی ناک اور دوسرے فیچرز میں کس حد تک تبدیلی نظر آتی ہے۔ ٹسی کے مطابق یہ سافٹ ویئر آپ کے فون پر موجود آپ کے چہرے کی تصویروں کا تجزیہ کرتا ہے، اور اسے کم قیمت سمارٹ فونز پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کارنیگی میلن یونیورسٹی (Carnegie Mellon University) میں سائی لیب بائیومیٹرکس سنٹر (CyLab Biometrics Center) کے ڈائریکٹر ماریوس سیویڈز (Marios Savvides) کہتے ہیں کہ فیس ٹیک کا طریقہ کار کافی کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ اور فون کو صرف تصویریں دکھا کر غیرمجاز رسائی حاصل کرنے کی کوششوں سے بھی بچا جاسکتا ہے۔ لیکن اس وقت یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی تھری ڈی ماسک پہننے والوں کی ہینڈسیٹ تک رسائی روکنے میں کامیاب ہوگی یا نہیں؟ ایپل کے مطابق فیس آئی دی کو اس قسم کے ماسکس پہنچاننے کی تربیت فراہم کی گئی ہے۔

ٹسی کا دعویٰ ہے کہ ان کی کمپنی نے جس مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے، اس کی ماسکس یا پتلے پہچاننے کی کارکردگی بہت اچھی ہے۔ زوم کی درستی کا انحصار اس کی کنفیگریشن پر ہے، اور غلط شناخت کا امکان 50،000 میں سے ایک (ایپل کے مطابق اس کی ٹچ آئی فنگرپرنٹ سنسر کی درستی کی بھی یہی شرح ہے) سے شروع ہو کر دس لاکھ میں سے ایک (ایپل کے مطابق فیس آئی ڈی کو دھوکا دینے کا بھی یہی امکان ہے) تک ہے۔

سیکیوروسس (Securosis) نامی سیکورٹی ریسرچ کمپنی کے تجزيہ کار اور سی ای او رچ موگل (Rich Mogull) کے مطابق، اگر زوم کو ایپل کی طرح کی سکیننگ کی ٹیکنالوجی متعارف کرنی ہے تو انھیں ہارڈویئر کی بھی ضرورت پڑے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ فیس ٹیکنالوجی کام تو کرے گی اور وہ دو ڈائمینشنل چہرے کی پہچان سے زيادہ محفوظ بھی ثابت ہوگی، لیکن اگر اس وقت اس سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ وہ دوسرے طریقوں کی طرح قابل استعمال یا محفوظ ثابت ہو۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top