Global Editions

یہ روبوٹ الجھن کی صورت میں مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے

روبوٹ اور انسانوں کے روابط کے دوران غلط فہمیوں سے بچا نہیں جاسکتا ہے۔ ایک روبوٹ ان سے نبٹنا سیکھ رہا ہے۔

عام طور پر روبوٹس پریشان نہیں ہوتے، لیکن الجھن کی ماڈلنگ کرکے ان کے ساتھ زیادہ موثر طور پر کام کیا جاسکتا ہے۔

براؤن یونیورسٹی میں ریسرچرز کی ایک ٹیم انسانوں اور روبوٹس کے ایک ساتھ زیادہ قدرتی اور موثر طور پر کام کرنے کے طریقہ کار پر کام کررہی ہے۔ انہوں نے ایک ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو اپنی الجھن کی پیمائش کرکے حسب ضرورت مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ کام اس لئے بہت اہم ہے کیونکہ روزمرہ کے معاملات میں الجھن پیدا ہونا بہت آسان ہے۔ لہٰذا کسی روبوٹ کو ہر ممکنہ حد تک قدرتی بنانے کا مطلب ہے اس الجھن سے نبٹنے کے طریقہ کار ڈھونڈ نکالنا۔ یہ روبوٹ ہر کمانڈ کی پیمائش کرکے بتاتا ہے کہ وہ کس حد تک اس پر عمل کرسکتا ہے۔ اور جب اسے سمجھ نہ آئے تو وہ مدد مانگتا ہے۔

ماضی میں براؤن یونیورسٹی کی کوششوں کے بعد روبوٹ اسپیچ اور ہاتھ کے اشاروں سے دیے جانے والے کمانڈ سمجھنے لگے تھے۔

ریسرچرز نے ثابت کیا ہے کہ یہ محض وائس کمانڈز سے زیادہ موثر ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی روبوٹ سے کوئی چیز مانگے، لیکن سامنے دو چیزیں ہوں، روبوٹ اب غلط چیز اٹھانے کے بجائے اشارہ کرکے پوچھے گا کہ کیا اٹھانا ہے۔

براؤن یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر اور پراجیکٹ کی لیڈ ریسرچر سٹیفنی ٹیلیکس (Stefanie Tellex) کے مطابق یہ دو افراد کی گفتگو کی نقالی کی جانب تازہ ترین اقدام ہیں۔

ٹیلیکس کہتی ہیں، "جب دو انسان ایک دوسرے سے بات کررہے ہوتے ہیں تو اسی دو طرفہ عمل کی وجہ سے ان کی مواصلت اس قدر موثر ہوتی ہے۔"

ٹیلیکس کے مطابق انسانوں اور روبوٹ کے روابط کے دوران غلط فہمیاں دور کرنا خاص طور پر ضروری ہے۔ وہ کہتی ہیں "ہمیں احساس ہوا کہ روبوٹس کچھ حد تک محدود ہیں۔ انہیں انسانوں کی طرح نظر نہیں آتا، انہیں انسانوں کی طرح سنائی نہیں دیتا، اور انہیں انسانوں کی طرح سمجھ نہیں آتا ہے۔ لیکن سمجھ بوجھ میں مزید کئی غلطیوں کے باوجود، وہ اس فیڈبیک کے عمل کے ذریعے چیزوں کو بہتر بنانے کے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا پارہے تھے۔"

ریسرچرز نے روبوٹ کی ٹیسٹنگ کے لئے رضاکاروں سے روبوٹ کو آسان کام متعین کرنے کی درخواست کی، لیکن انہیں اسے استعمال کرنے کے متعلق تفصیلی ہدایات نہیں فراہم کی گئيں۔

یہ اس حد تک کامیاب ثابت ہوا کہ ٹیسٹ کرنے والے افراد کو محسوس ہونے لگا کہ روبوٹ کی صلاحیتیں حقیقت سے کہیں زیادہ ہیں، اور وہ یہ سمجھنے لگے تھے کہ شاید روبوٹ ان کی نظروں کو ٹریک کررہا تھا، یا اس کی زبان کی صلاحیتیں بہت تیز تھیں۔

انسانوں اور روبوٹس کے درمیان روابط میں مہارت رکھنے والے کلیئرمونٹ، کیلی فارنیا کی ہاروے مڈ کالج (Harvey Mudd College) کے اسسٹنٹ پروفیسر جم بوئیرکوئیل (Jim Boerkoel) کے مطابق غلط فہمیاں پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔

بویئر کوئیل کہتے ہیں "جیسا کہ ہم نے اس ایپلی کیشن میں دیکھا، مدد مانگنا اُن کاموں کی کارکردگی اثراندازی کے لئے بہت ضروری ہے جن میں انسان اور روبوٹس ایک ساتھ کام کرتے ہیں، لیکن اس سے روبوٹک نظام پر اعتماد اور اس کی شفافیت کو بھی فائدہ ہوگا۔ مثال کے طور پر، مدد مانگنے سے انسانوں کو روبوٹ کے ارادے معلوم ہوں گے اور انہیں اندازہ ہوگا کہ ان کی صلاحیتیں کس حد تک محدود ہیں۔"

تحریر: سائن بریوسٹر(Signe Brewster)

Read in English

Authors
Top