Global Editions

آسٹریلیا کے جنگلات کی آگ کہاں تک پھیل چکی ہے؟

جنوب مشرقی آسٹریلیا کی سیٹلائٹ تصویروں کی مدد سے باآسانی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ یہ آگ کہاں کہاں لگی ہوئی ہے۔

پس منظر: پچھلے چند ماہ سے آسٹریلیا کے جنگلات میں کئی دہائیوں کی سب سے خطرناک آگ بھڑک رہی ہے، جو خشک اور گرم ہوا اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث پھیلتی ہی جارہی ہے۔ اب تک 1.5 کروڑ ایکڑ زمین اس آگ کی نذر ہوچکی ہے۔ 2018ء میں جب کیلیفورنیا میں اس قسم کی آگ پھیلنا شروع ہوئی تھی تو محض 20 لاکھ ایکڑ زمین تباہ ہوئی تھی۔ لیکن آسٹریلیا میں لگنے والی آگ کا پیمانہ جانچنے کے لیے ناسا کی یہ تصویر ملاحظہ کریں جس میں مشرقی ساحل میں دھواں اٹھتا ہوا نظر آرہا ہے۔

ان کا کس طرح استعمال کیا جاتا ہے؟ عام طور پر دور دراز علاقہ جات میں جنگلات میں لگنے والی آگ کی نشاندہی کے لیے سیٹلائٹس ہی سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ یہ آلات کیمروں، موسمیات، اور انفراریڈ سینسرز کی مدد سے آگ کی شدت اور مقام اور پیدا ہونے والے دھوئيں کی سمت کا تعین کرتے ہيں۔ ناسا کے پاس زمین کی نگرانی کرنے کے لیے کئی سیٹلائٹس موجود ہیں اور جیوسٹیشنری (یعنی زمین کی رفتار پر گردش کرنے والے) آلات ہر پانچ سے 15 منٹ کے وقفے سے تصویریں فراہم کرتے رہتے ہیں۔ یہ سیٹلائٹس ہر خطے کے اوپر سے گزرتے ہوئے بیک وقت ایک کلومیٹر تک کے ”سنیپ شاٹس“ کھینچتی ہیں۔ اس کے بعد ایک الگارتھم کے ذریعے انفراریڈ ڈیٹا کی مدد سے ہر کلومیٹر کا تجزیہ کرکے تعین کیا جاتا ہے کہ آگ کہاں کہاں لگی ہے۔ یہ ڈیٹا دنیا بھر کے آگ بجھانے کے لیے ذمہ دار حکام کو بھیجا جاتا ہے جو اس کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اپنے عملیات کو بہتر بناتے ہيں بلکہ آگ بجھ جانے کے بعد اس کے پیمانے اور نقصانات کا تجزیہ بھی کرتے ہيں۔

خود دیکھیں: اس تصویر سے معلوم ہوتا ہے کہ دسمبر سے کونسے علاقہ جات آگ سے متاثر ہوئے ہیں۔ اسے فوٹوگرافر اینتھنی ہیرسی (Anthony Hearsey) نے ناسا کی فائر انفارمیشن فار ریسورس مینیجمنٹ سسٹم (Fire Information for Resource Management System – FIRMS) کا ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے تیار کیا تھا اور اس میں 5 جنوری 2020ء تک کا ڈیٹا شامل ہے۔ FIRMS ناسا کی دو سیٹلائٹس سے تصویر کھینچنے کے بعد تین گھنٹوں کے اندر اندر ان اداروں کو ڈیٹا جاری کردیتا ہے جنہیں اس کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟ پچھلے چند روز میں مشرق جنوبی آسٹریلیا میں بارش اور ٹھنڈ کی وجہ سے صورتحال عارضی طور پر بہتر تو ہوئی ہے، لیکن ابھی خطرہ پوری طرح ٹلا نہيں ہے۔ آگ بجھنے کے نتیجے میں خطرناک ہاتھ تک دھواں اٹھنا شروع ہوگا اور ہفتے کے اختتام تک گرمی دوبارہ شروع ہونے کا بھی امکان ہے۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

تصویر: ناسا

Read in English

Authors

*

Top