Global Editions

کرونا وائرس ہمارے جسم کے مختلف حصوں کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟

کرونا وائرس کے باعث پھیلنا والا انفیکشن covid-19 بنیادی طور پر پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے، جس سے ان کے لیے سانس لینا محال ہوجاتا ہے اور ان کے جسم کے مختلف حصوں کو آکسیجن نہيں پہنچ پاتا۔ مریض جلد ہی نمونیا اور دیگر سانس کی بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں اور کمزور نظام مدافعت رکھنے والے افراد کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ لیکن کرونا وائرس ناک، گلے، اور پھیپھڑوں کے علاوہ جسم کے دوسرے حصوں کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟ چار مہینوں سے اس مرض کا مقابلہ کرنے کے بعد اب ڈاکٹروں کو مزید معلومات حاصل ہوچکی ہیں۔

خون: Covid-19 انفیکشنز کی وجہ سے خون جمنا شروع ہوسکتا ہے، جس سے آپ کے جسم کو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کی ایک مثال پھیپھڑوں میں خون جمنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے ”ہیپی ہائیپوکسیا “ (happy hypoxia) کی شکل میں نظر آتی ہے، جس میں جسم کا آکسیجن خطرناک حد تک کم ہونے کے باوجود بھی مریض کو بظاہر کسی قسم کی تکلیف نہيں ہوتی۔ دیگر کئی رپورٹس کے مطابق خون جمنے سے گردے، خون کی شریانیں، آنتیں، جگر، اور دماغ سمیت جسم کے کئی اعضاء متاثر ہوسکتے ہیں۔ نیدرلینڈز میں منعقد ہونے والے ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 38 فیصد شدید بیمار افراد خون جمنے سے وابستہ مسائل کا شکار ہوتے ہيں۔

دماغ: دماغ تک پہنچنے والی شریانوں میں خون جمنے کی وجہ سے مریض کو فالج کا حملہ ہوسکتا ہے۔ یہ صورتحال اکثر نوجوانوں میں پیش آتی ہے۔ تاہم کرونا وائرس دوسری اعصابی مسائل کی وجہ بن سکتا ہے، جن میں سونگھنے اور چکھنے کی حسوں کا خاتمہ سرفہرست ہیں۔ ایک مطالعے کے مطابق یہ علامات کرونا وائرس کے 65 فیصد مریضوں میں واضح ہوتی ہیں۔ بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ اعصابی نظام کے متاثر ہونے کی علامات ہيں۔ ووہان اور فرانس میں منعقد ہونے والے مطالعہ جات میں بھی ملتے جلتے نتائج سامنے آئے تھے۔

دل: شریانوں میں خون جمنے کے علاوہ covid-19 سے دل پر زیادہ زور بھی پڑتا ہے، اور اگر پھیپھڑے صحیح سے کام نہ کررہے ہوں تو آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے دل کے پٹھے کمزور پڑ جاتے ہيں۔ بعض مطالعوں کے مطابق کرونا وائرس دل کے ریشوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

گردے: وبا کی ابتداء کے دوران چین اور اٹلی میں شائع والی تحقیقوں کے مطابق کرونا وائرس کے باعث ہسپتال میں دم توڑنے والے 25 سے 27 فیصد مریض گردوں کی خرابی کا بھی شکار رہے۔ نمونیا کے شکار کئی covid-19 مریضوں کے بھی گردے خراب ہوچکے تھے۔ اس کی وجہ کی اب تک تصدیق نہيں ہوسکی ہے، لیکن ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ گردے خراب ہونے کی وجوہات میں شریانوں میں خون کا جمنا، جسم کی حد سے زيادہ سوزش، آکسیجن کی کمی، اور وائرس کا گردوں پر حملہ شامل ہیں۔

نظام مدافعت: انفیکشن کا شکار ہونے کی صورت میں ہمارا نظام مدافعت سائٹوکینز (cytokines) پیدا کرکے اس انفیکشن کو خود سے ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس سے ہمیں بخار ہوتا ہے۔ لیکن covid-19 کے مریضوں میں بعض دفعہ اتنے زیادہ سائٹوکینز پیدا ہوتے ہيں کہ وہ انفیکشن ختم ہونے کے بعد بھی جسم میں قائم رہتے ہيں، اور وہ صحت مند اعضاء پر حملہ آور ہونا شروع ہوجاتے ہيں۔ سائٹوکین کی حد سے زيادہ پیداوار سے دوسری علامات بھی مزيد شدت اختیار کرتی ہيں، جس کی وجہ سے اب تک اس صورتحال سے دوچار covid-19 مریضوں کی درست تعداد کا تعین نہيں ہوسکا ہے۔ تاہم کرونا وائرس کے باعث موت کا شکار ہونے والے افراد کے اجسام میں سائٹوکینز کی بہت بڑی تعداد پائی گئی ہے۔ اب تک اس کا بہترین علاج سائٹوکینز کی پیداوار کو کم کرنے والی ادویات ہيں۔ ایک مطالعے کے مطابق، خون کو  پتلا کرنے والی ادویات بھی اس سلسلے میں معاون ثابت ہوسکتی ہيں۔

تحریر: نیل وی پٹیل (Neel V. Patel)

Read in English

Authors

*

Top