Global Editions

ناسا چاند پر جا کر کیا کرنا چاہتا ہے؟

ناسا کے خلاباز چاند پر چل رہے ہيں۔
ناسا ایسے انکشافات کرنا چاہتا ہے جو آج تک کسی نے نہیں کیے۔ اس تحریر میں ہم آپ کو بتائيں گے کہ چاند پر بھیجی جانے والی خلائی مہموں کے پیچھے کیا مقصد ہے۔

توقع کی جارہی ہے کہ ناسا 2024ء کے بعد دوبارہ چاند پر جا کر انسانی تاریخ کی سب سے پہلی خلائی بستی کی بنیاد رکھنا شروع کرے گا۔ اس کے علاوہ، ناسا مریخ پر خلائی مہمیں بھیجنے کی بھی تیاری کر رہا ہے۔ امریکہ کی اب تک کی آخری خلائی مہم 1970ء کی دہائی کی اپولو (Apollo) مہم تھی، اور اب ناسا ایک بار پھر چاند پر جا کر خلاء کے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہ رہا ہے۔ 7 دسمبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ناسا چاند کے متعلق کیا جاننا چاہتا ہے، اور خلاباز اس سلسلے میں کس طرح معاون ثابت ہوسکتے ہيں۔

آرٹیمس سوم (Artemis III) نامی اس نئی مہم میں ایک بار پھر چاند پر خلاباز (بشمول چاند پر قدم رکھنے والی پہلی خاتون خلاباز) بھیجے جائيں گے۔ اگر یہ مہم کامیاب ہوجائے تو ناسا کے لیے یہ جاننا ممکن ہوگا کہ قمری پانی اور برف جیسے وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانوں کو چاند پر کس طرح آباد کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، انہيں مستقبل میں مریخ پر بھیجی جانے والی مہموں کے سلسلے میں بھی معاونت ملے گی۔ ناسا کو یہ بھی معلوم کرنے کا موقع ملے گا کہ چاند کس طرح سے بنا اور اس میں وقت کے ساتھ کیا تبدیلیاں آئيں؟ یہ معلومات زمین اور نظام شمسی کی تاریخ سمجھنے میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔

زلزلہ شناسی

چاند پر روبوٹس کے بجائے انسان بھیجنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے لیے چاند کی سطح پر سائنسی تجربات کرنا ممکن ہوتا ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ انسان چاند پر ایسے آلات نصب کرسکتے ہيں جو طویل عرصے تک ڈیٹا حاصل کرتے رہتے ہیں۔ ناسا کی رپورٹ کے مطابق ”آرٹیمیس سوم کی شکل میں ناسا کو چاند کے ماحول اور ساخت کی پیمائش کے لیے آلات کا جال بچھانے کا بہت اچھا موقع ملا ہے، جسے گنوانا بے وقوفی ہوگی۔ “

ناسا کو سب سے زیادہ دلچسپی چاند پر ہونے والے زلزلوں میں ہے۔ چار دہائی پہلے چاند پر بھیجی جانے والی اپولو مہم سے یہ بات سامنے آئی کہ چاند کی سطح ساکن نہيں ہے۔ یہاں وقفے وقفے سے زلزلے آتے رہتے ہيں، جو چاند کو ہلا کر رکھ دیتے ہيں۔ سائنسدانوں کو شک ہے کہ ان زلزلوں کی وجہ چاند کی ساختمانی تختیاں (tectonic plates) نہيں بلکہ زمین کی کشش ثقل کے ساتھ تصادم ہے، لیکن ان کے پاس اس تھیوری کی تصدیق یا تردید کے لیے ڈيٹا موجود نہيں ہے۔

اپولو کے آلات کو 1977ء میں بند کردیا گيا تھا، لیکن آرٹیمس کی مہم کی بدولت ناسا کو چاند پر زلزلہ شناسی کے نئے آلات کا جال بچھانے کا موقع ملے گا۔ اس سے ان کے لیے چاند کے حساس زلزلوں کی نشاندہی کرنا اور ان کی وجوہات کا تعین کرنا ممکن ہوگا۔

پانی کا مطالعہ

ہمیں یہ بات پہلے سے معلوم ہے کہ چاند پر وافر مقدار میں پانی موجود ہے۔ اگر چاند پر مستقبل میں کبھی کوئی بستی آباد ہوئی تو اس پانی کی مدد سے آکسیجین، پینے کا پانی اور زمین پر واپسی کے راکٹس کا ایندھن تیار کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔ اس پانی تک رسائی ہماری توقعات سے کہیں زيادہ آسان بھی ہے۔

آرٹیمس سوم کی بدولت ہمیں پہلی بار چاند کے پانی کا مطالعہ کرنے کا موقع ملے گا۔ اس کے نتیجے میں ہم یہ جان سکیں گے کہ چاند پر پانی کس حالت میں موجود ہے، اس کا آبی چکر کیا ہے، وہ چاند پر کہاں کہاں موجود ہے، اور اسے کن مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس مطالعے سے یہ بھی معلوم کیا جاسکے گا کہ یہ پانی کتنی گہرائی پر موجود ہے، اور اس کی کیمیائی خصوصیات کیا ہيں۔

زمین کی تاریخ

چاند کی حالت دیکھ کر ہمارے لیے یہ جاننا ممکن ہوگا کہ زمین پر اربوں سال پہلے کیا ہوا تھا۔ زمین کے مقابلے میں چاند کہیں زيادہ سنسان ہے، اور یہاں کرہ ہوا کا بھی کوئی وجود نہيں ہے۔ اسی لیے چاند کی سطح پر شہابی پتھروں (meteorites) کے اثرات کا تعین کرنا زيادہ آسان ہے۔ چاند کی سطح کے گڑھوں کا مطالعہ کرکے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہيں کہ چاند جس زمین کے گرد چکر کاٹ رہا ہے، اس پر کیا ہوا تھا۔ کیا زمین پر زندگی کی بقاء کے لیے ضروری عناصر پہنچںے کی وجہ سیارچوں اور شہابی پتھروں کا ٹکراؤ تھا؟ سائنسدان امید کرتے ہيں کہ چاند کا مطالعہ اس سوال پر مزید روشنی ڈالے گا۔

آرٹیمس سوم کے لیے چاند کے ایک ایک گڑھے کا معائنہ کرنا ممکن نہيں ہوگا۔ تاہم اگر ہم چند گڑھوں کا بھی مطالعہ کرنے میں کامیاب ہو جائيں تو ہم یہ جان سکیں گے کہ اربوں سال پہلے چاند پر کس قسم کے پتھر آ گرے تھے۔ اس سے ہم اندازہ لگا سکيں گے کہ اس وقت نظام شمسی کے گرد کیا موجود تھا، اور زمین سے کس قسم کے شہابی پتھر ٹکرائے تھے۔

سورج کی تاریخ

چاند کے مطالعے کی بدولت سورج کی تاریخ بھی معلوم کی جاسکتی ہے۔ چاند پر کئی اربوں سال سے شمسی ہوائيں اور کرنیں پڑ رہی ہیں۔ قمری مٹی کے الیکٹرانک سپیکٹرم پر تحقیق کرکے سورج کی تپش کی تبدیلیوں کی نشاندہی ممکن ہوگی۔

زمین کا مشاہدہ

چاند پر کھڑے ہو کر زمین کا مشاہدہ کرنا بھی زیادہ آسان ہوگا۔ ہم اس وقت اس مقصد کے لیے سیٹلائٹس کا استعمال کر رہے ہيں، لیکن چاند سے زمین کا بہتر نظارہ مل سکتا ہے۔ ناسا کی رپورٹ کے مطابق، چاند سے زمین کی تصویروں کا ریزولوشن سیٹلائٹ امیجز سے کہیں زيادہ بہتر ہوگا، اور ان سے آسمانی بجلی، زمین سے منعکس ہونے والی روشنی، کرہ ہوا کی کیمیائی خصوصیات، اور سمندری سائنس سمیت متعدد چیزوں کے متعلق ہماری معلومات میں اضافہ ممکن ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم چاند سے حاصل کردہ تصویروں کی مدد سے ماحولیاتی تبدیلی کا بہتر طور پر مشاہدہ کرسکیں۔

چاند کی کشش ثقل کی بہتر سمجھ بوجھ

چاند کی کشش ثقل زمین کی کشش ثقل سے چھ گنا کم ہے۔ اس کے علاوہ، کرہ ہوا نہ ہونے کی وجہ سے چاند کے چاروں طرف فراغ (vacuum) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کے مقابلے میں چاند پر فزکس کے کئی تجربات کرنا زيادہ آسان ہوگا۔ مثال کے طور پر ہم یہ جان سکیں گے کہ خلاء میں آگ کس طرح پھیلتی ہے، جس سے مستقبل کے خلابازوں کو جانی تحفظ فراہم کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔

آرٹیمس سوم اس قسم کے تجربات نہيں کر پائے گا، لیکن اس سے مستقبل کی خلائی مہموں کی تفتیشات کی بنیاد ضرور رکھی جاسکتی ہے۔

قمری نمونوں کا حصول

ہم نے یہاں جتنے تجربات کی بات کی ہے، ان سب کو چاند پر مکمل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اسی لیے ضروری ہے کہ چاند سے نمونے حاصل کر کے انہيں زمین پر واپس لایا جائے تاکہ ان پر مزيد تحقیق کی جاسکے۔ اس وقت ہر کوئی قمری نمونوں کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے جاپان ایک سیارچے سے مواد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ ناسا نے بھی ایک سیارچے سے نمونے حاصل کیے ہیں اور آگے چل کر مریخ سے نمونے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کچھ روز پہلے ایک چینی سیٹلائٹ بھی چاند سے نمونے حاصل کر کے زمین لوٹی ہے۔

ناسا کی رپورٹ کے مطابق آرٹیمس سوم کے عملے کو چاند کے مختلف حصوں سے نمونے حاصل کرنے چاہیے۔ اس کے علاوہ، اپولو کی مہم سے زيادہ بڑی تعداد میں نمونے حاصل کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ان پر دل کھول کر تجربات کیے جاسکيں۔ ان تجربات کے نتیجے میں قمری نمونوں کی شکل مستقل طور پر بگڑنے کی صورت میں کم از کم یہ تسلی تو ہونی چاہیے کہ ہمارے پاس بڑی تعداد میں نمونے بچے ہوئے ہيں۔

تحریر: نیل وی پٹیل (Neel V. Patel)

تصویر: ناسا

Read in English

Authors

*

Top