Global Editions

امریکی صدر جو بائيڈن کرونا وائرس کی وبا کے حوالے سے کیا اقدام کرنے والے ہیں؟

اب نئی حکومت نے اقتدار سنبھال لیا ہے اور کام شروع ہوچکا ہے۔ کریڈٹ : اے پی
ہم یہاں جو بائيڈن کا سات نقاطی منصوبہ پیش کر رہے ہيں، جو 200 صفحوں پر مشتمل ایک دستاویز کا خلاصہ ہے۔ ان میں سے چند نقاط پر ایگزيکٹو آرڈر کے ذریعے عملدرآمد شروع ہوچکی ہے۔

نو منتخب امریکی صدر جو بائيڈن نے کہا ہے کہ وہ ”جنگی بنیاد“ پر covid-19 کی وبا کا مقابلہ کرنے والے ہیں، اور انہوں نے اس وعدے کو پورا کرنے کے لیے اقتدار سنبھالتے ہی ایک سات نقاطی منصوبہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سائنسی اصولوں پر عمل کریں گے اور شفافیت اور جوابدہی کو اپنی انتظامیہ کے ستون بنائیں گے۔ انہوں نے اس حوالے سے 200 صفحات پر مشتمل منصوبہ تیار کیا ہے، جن میں سے کچھ نقاط کی بذریعہ ایگزیکٹو آرڈر عملدرآمد شروع ہوچکی ہے۔ روزانہ ہزاروں امریکی covid-19 کے باعث موت کا شکار ہو رہے ہیں، اور وہاں شرح اموات چند ہی روز میں پانچ لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اس وبا کی روک تھام کے لیے فوری طور پر اقدام کیے جائيں۔

بائيڈن کا سات نقاطی منصوبہ کیا ہے؟

1)- ملک بھر میں ماسکس پہننا ضروری قرار دیا جائے گا۔ اس کے لیے وفاق ناظمین اور گورنرز کے ساتھ کام کرتے ہوئے مقامی سطح پر آرڈرز متعارف کرے گا، اور امریکیوں کو اپنے خاندان کے علاوہ دوسرے افراد کے ساتھ وقت گزارنے کی صورت میں ماسکس پہننے کی گزارش کی جائے گی۔

2)- تمام امریکی شہریوں کو مفت ٹیسٹنگ تک رسائی فراہم کی جائے گی۔ اس کے لیے ٹیسٹنگ سائٹس کی تعداد میں دو گنا اضافہ کیا جائے گا۔ گھر پر کیے جانے والے ٹیسٹس کا انتظام کیا جائے گا، ٹیسٹس کی تقسیم اور تیاری کے لیے پینڈیمک ٹیسٹنگ بورڈ (Pandemic Testing Board) قائم کیا جائے گا، اور کانٹیکٹ ٹریسنگ اور دیگر کاموں کے لیے ایک ادارہ قائم کیا جائے گا، جس سے 100،000 امریکیوں کو ملازمت کے مواقع بھی میسر ہوں گے۔

3)- ذاتی تحفظاتی سامان کی دستیابی سے وابستہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ حفاظتی سامان و آلات کی تخلیق پر زيادہ توجہ دی جائے گی، تاکہ آگے چل کر امریکہ کو دوسرے ممالک پر انحصار کرنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔

4)- سماجی دوری کے حوالے سے واضح اور حقائق پر مبنی رہنما اصول جاری کیے جائيں گے۔ سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول (Centers for Disease Control) کے لیے وائرس کی شدت کے مطابق کمیونٹیوں کو تعلیمی ادارے بند کرنے، گھر پر رہنے کے متعلق احکامات جاری کرنے، یا ریستوران وغیرہ بند کرنے کے متعلق ہدایات جاری کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ ریاستی اور مقامی حکومتوں، سکولوں، اور چھوٹے کاروباروں کو ان ہدایات پر عمل کرنے کے لیے فنڈنگ بھی فراہم کی جائے گی۔

5)- تمام امریکیوں کو علاج اور مفت ویکسینز تک رسائی فراہم کی جائے گی۔ ویکسین کی تخلیق اور تقسیم کے لیے 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی، ویکسینیشن مہموں میں سیاسی عمل دخل ختم کیا جائے گا، اور دوا ساز کمپنیوں کی طرف سے ممکنہ غیراخلاقی اقدام کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے گی۔

6)- ضعیف العمر اور نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے امریکیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ Covid-19 سے متاثر ہونے والی نسلی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، ایک نیشن وائڈ پینڈیمک ڈیش بورڈ (Nationwide Pandemic Dashboard) قائم کیا جائے گا تاکہ ریئل ٹائم ہر علاقے کی اپ ڈيٹس دیکھنا ممکن ہو۔

7)- مستقبل کی تیاری کی جائے گی۔ وائٹ ہاؤس نیشنل سیکورٹی کاؤنسل ڈائریکٹوریٹ فار گلوبل ہیلتھ سیکورٹی اینڈ بائیوڈيفینس (White House National Security Council Directorate for Global Health Security and Biodefense) کو بحال کیا جائے گا، عالمی ادارہ صحت میں دوبارہ شمولیت اختیار کی جائے گی، ٹریکنگ کا پروگرام متعارف کیا جائے گا، اور سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول کے اختیارات کا پیمانہ وسیع کیا جائے گا۔

یہ سب کس طرح عملدرآمد ہوگا؟

جو بائيڈن نے اقتدار سنبھالتے ہی متعدد ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے ہیں، جس سے ان کے منصوبوں کی عملدرآمد شروع ہوچکی ہے۔ اب امریکہ میں پبلک ٹرانسپورٹ پر ماسکس پہننا ضروری ہوگیا ہے، پینڈیمک ٹیسٹنگ بورڈ کی بنیاد رکھی جاچکی ہے، اور سکولوں اور کاروباروں کے لیے نئی ہدایات جاری کردی جائيں گی۔ تاہم جو بائيڈن کو ابھی بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس ان اقدام کے لیے 1.9 کھرب ڈالر کا پیکیج منظور کرنے کو تیار ہوگی؟

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

Read in English

Authors

*

Top