Global Editions

صنعتی روبوٹس میں انقلاب آنیوالا ہے

مصنوعی ذہانت میں تمام حالیہ پیش رفتوں کے باوجود صنعتی روبوٹس حیرت انگیز طور پر گونگے اور خطرناک ہیں۔ اس بات کا یقین ہے کہ وہ سخت کاموں کو درست طریقے سے اور بار بار انجام دے سکتے ہیں لیکن وہ اپنے ماحول میں مختلف تغرات کا جواب نہیں دے سکتے ہیں یا کچھ نئی صورتحال کو حل نہیں کر سکتے ہیں۔اس چیز سے روبوٹس کی کام کرنے کی جگہ پر افادیت محدود ہو جاتی ہے۔

نوائیڈا مشین لرننگ کا استعمال کرتے ہوئےاس مسئلہ کو حل کرنا چاہتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے لئے اہم سمجھی جانیوالے دنیا میں معروف کمپیوٹر چپس بنانے والے سیتل میں ایک نئی روبوٹک لیب کھول رہے ہیں جو انسانوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ یہ کوبوٹس کہلاتے ہیں جو کہ سمارٹ ہیں اور زیادہ قابل ہیں۔ان سب کی بنیاد آئی کیا(IKea) کچن پر ہے۔

کچن لیب کے اندر ایک سنگل روبوٹ ایک پہیوں والے پلیٹ فارم پر بیٹھتا ہے اور اپنے بازو سےپورا دن جار ، باکس اور بوتلیں اٹھاتا ہے اور انہیں دراز میں ڈالتا ہے۔لیب کے خالق اور واشنگٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈائیٹر فاکس( Dieter Fox )کا کہنا ہے ان کا ٹاسک یہ ہے کہ وہ روبوٹس کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ فیکٹری کے کام کو آسان بنائیں یا ہسپتالوں میں مدد کریں۔ فاکس کا کہنا ہے ، "میں یہ کسی بھی چیلنج کی نمائندگی کرنے کے لئے مثالی ڈومین کے طور پر دیکھتا ہوں۔"

کچن کے اندر ٹاسک مزید مشکل ہو رہے ہیں جن سے چیزوں کو تلاش کرنا اور چیزوں کے ساتھ کام کرنا ہے اور غیر معروف چیزوں کے ساتھ کام کرنا ہے۔ آخرکار اگر سب کچھ لیب میں ٹھیک چلتا ہے تو ایک روبوٹ کھانے کی تیاری کے پیچیدہ عمل میں بھی انسانوں کے ساتھ کام کریگا۔

آئی کیا کے کچن استعمال کرنے کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ دیگر روبوٹکس کی لیباٹریاں نوائیڈا کے کام کی نقل کریں گی اور اس کا اپنے ساتھ موازنہ کریں گی۔ نئے لیبارٹری میں تقریباً 50 روبوٹکس محققین شامل ہوں گے بشمول جز وقتی فیکلٹی اور انٹرن شپ کرنے والوں کے۔

گزشتہ چند سالوں میں مشین لرننگ میں پیش رفتوں سے ممکنہ طور پر صنعتی روبوٹس کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ری انفورسمنٹ لرننگ نے خاص طور پر مشکل چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ایک خاص روپ دھارا ہے۔اس میں ایک روبوٹ کونیورل نیٹ ورک کے ساتھ کنٹرول کیا جاتا ہے اوراس سے یہ اپنے اصل ہدف کی طرف آجاتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک سان فرانسسکو کے غیر منافع بخش ادارے اوپن اے آئی (OpenAI) ادارے سے روبوٹ جسے ڈاکٹائل کہا جاتا ہے ،نے بچوں کےبلاک کو بنانا سیکھ لیا ہےاور اس نےاس چیز کے لئے کمپیوٹر تخروپن میں 100 سال کے برابر مشق کی ہے۔ تاہم تجارتی ناکامیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمارٹ روبوٹس کو بنانا کتنا مشکل ہے۔

سب سے زیادہ منصوبوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ صرف نسبتاً تنگ حالات میں کام کرتے ہیں۔ ماحول تھوڑا سا تبدیل کریں تو سسٹم کو سارا کچھ شروع سے سیکھنا پڑ جاتا ہے۔ واشنگٹن یونیورسٹی کے ایک روبوٹسٹ ایمو ٹویوروف کہتے ہیں، "اس میدان میں زیادہ سے زیادہ ڈیمو تقریباً عام طور پروہ نہیں ہوتیں جو پیپر پر ہوتی ہیں "ایمو ٹویوروف نے بھی روبوٹس کے لئے تخروپن موجوکو(MuJoCo ) تیار کیا تھا۔

فاکس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر عام روبوٹس کو سکھانے کی صلاحیت کا طریقہ یہ ہےکہ ان کو فریکل ورلڈ کے مسائل کے ساتھ آگاہ کیا جائے جیسے کشش ثقل جیسے عناصر۔یہ آئیڈیا بالکل اسی طرح سے ہے جیسےبچوں کو تربیت دینا۔

کچھ کمپنیوں نےمصنوعی ذہانت میں انقلاب برپا کیا ہے جیسا کہ نوائیڈا۔ لہٰذا جب کوئی کمپنی روبوٹکس پر شرط لگاتی ہے تو یہ نوٹ کرنے والی ہوتی ہے۔ نوائیڈا صنعتوں میں مصنوعی ذہانت کے انقلاب سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہےکیونکہ اس کے ہارڈ ویئر جدید مشین لرننگ سافٹ ویئر چلانے کے لئے اہم ہیں۔اس کی ٹیکنالوجی مجازی تخروپن انجام دینے کے لئے بھی قیمتی ہے جو تیزی سے روبوٹس کو تربیت دینے کے لئے اہم ہے۔

سیتل لیب میں فاکس اور اسکے ساتھی خاص طور پر حقیقی دنیا سے مجازی ماحول کے لئے پر جوش ہیں جو کہ حقیقی بھی ہے اور مجازی بھی اور حقیقی دنیا سے یہ مختلف نہیں ہے۔ فاکس کا کہنا ہے کہ "روبوٹ کے مستقبل میں تخروپن بہت اہم، بہت اہم کردار ادا کرنے والا ہے۔"

تحریر:ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top