Global Editions

خون اور بیماریوں کی تشخیص کیلئے سستا ترین آلہ

کیا یہ کوئی کھلونا ہے جو اتنا سستا مل رہا ہے ؟ نہیں یہ کوئی کھلونا نہیں بلکہ سستا ترین طبی آلہ ہے جس کے ذریعے نہ صرف خون کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے بلکہ ملیریا جیسی بیماری کی تشخیص بھی کی جاسکتی ہے۔ یہ فروگل سائنس کا کمال ہے جس کے ذریعے مہنگے ترین طبی تشخیصی آلات کے متبادل کے طور پر سستے طرین آلات بنائے جاتے ہیں۔ جس آلے کی ہم بات کررہے ہیں یہ پیپر فیوج کہلاتا ہے اس کا ذکر رسالہ نیچر بائیومیڈیکل انجینئرنگ میں کیا گیا ہے۔ اس آلے کو سٹینفورڈ یونیورسٹی کے محقق مانوپرکاش نے بنایا ہے۔ اسے بنانے کیلئے گتے یا موٹے کاغذ کی پلیٹیں، دھاگہ اور چھوٹا سے ٹیوب کی طرح کا سٹرا استعمال کیا گیا ہے۔ ٹیوب میں خون کا نمونہ ڈال کر اسے کاغذ کی پلیٹ کے اندر رکھ دیا جاتا ہے۔ کاغذ کی پلیٹوں کو دھاگے کےمرکز میں رکھ کر ان کےسِروں پر چھوٹی سی لکڑی کی ڈنڈیا باندھ دی جاتی ہیں۔ ڈنڈیوں کو پکڑ کر اسے ہاتھوں سے گھمانے سے خون کے نمونے والا سٹراایک منٹ میں 1,50,000بار گھومتا ہے۔ اسے گھمانے سے صرف ڈیڑھ منٹ میں پلازما خون سے الگ ہو جاتا ہے جبکہ 15منٹ میں ملیریا کے جراثیم ، اگر موجود ہوں، علیحدہ ہو جاتے ہیں۔پرکاش فروگل سائنس کے بانی ہیں ۔ ان کا نام ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے جریدے 2014ء میں” 35انوویٹرز انڈر 35″میں شامل تھا۔فروگل سائنس ایسی فیلڈ ہے جس کا مقصد سستے ترین آلات بنانا ہے جو زندگی بچانے میں معاون اور اہم ہوں تاکہ دنیا کے بڑے عوامی صحت کے مسائل سے نپٹا جاسکے۔ پرکاش نے مائیکرو فلڈک کیمسٹری لیبارٹری بنائی ہے جس میں صرف 5ڈالر لاگت آتی ہے جبکہ اس میں موجود مائیکروسکوپ صرف 55سینٹس میں بنتی ہے۔ سینٹری فیوج کی طرح مائیکروسکوپ بھی ملیریا کی تشخیص میں اہم ہیں۔

تحریر: مشال رائیلی (Michael Reilly)

Read in English

Authors

*

Top