Global Editions

اپنی گاڑی کو خودکار بنائیں اور وہ بھی صرف ایک ہزار ڈالر میں۔۔۔۔

بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری کے لئے کار ساز ادارے جس طرح یکسو ہیں اسی طرح مختلف ادارے اور کمپنیاں ایسی ڈیوائسز تیار کرنے میں مصروف ہیں جس کی مدد سے عام گاڑیوں کو بھی خودکار گاڑیوں میں تبدیل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ اب اس امر کی امید کی جا سکتی ہے کہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری سے قبل ہی آئندہ سال تک ایسی ڈیوائسز کی مارکیٹ میں دستیاب ہونگی جن کی مدد سے کسی بھی گاڑی کو خودکار بنایا جا سکے گا۔ حال ہی میں جارج ہوٹز (George Hotz) کی سربراہی میں قائم ہونے والی کمپنی Comma.ai نے اعلان کیا ہے کہ وہ گاڑیوں کے لئے خودکار نظام تیار کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے اور یہ ڈیوائس آئندہ سال کے آغاز تک مارکیٹ میں دستیاب ہو گی۔ اس حوالے سے ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق کوما ون کی جانب سے تیار کردہ اس سسٹم کی قیمت 999 ڈالرز مقرر کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھصارفین کو اس سسٹم کے سافٹ وئیر کے لئے دو سال تک 24 ڈالر ماہانہ سبسکرپشن بھی ادا کرنا پڑے گی۔ کمپنی نے اس امر کا دعوی نہیں کیا کہ ان کا تیار کردہ سسٹم عام گاڑیوں کو مکمل طور پر خودکار گاڑیوں میں تبدیل کر دیگا بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کا تیار کردہ نظام گاڑیوں میں اس امر کی صلاحیت پیدا کر دیگا کہ وہ گاڑیوں کی رفتار، بریکس اور ہائی ویز پر سفر کے دوران لین تبدیل کر سکے گا۔ یعنی یہ نظام عام گاڑیوں کو کسی حد تک خودکار کرنے کے قابل کر دے گا۔ یہ ڈیوائس سبز رنگ کے پلاسٹک سے ڈھکی گئی ہے اور اس میں ایک کیمرہ اور سینسر نصب ہے۔ اس کے علاوہ کوما آئی صارفین کو سڑکوں پر سفر کے دوران صورتحال سے باخبر رکھنے کے لئے ریڈار سسٹم کا بھی سہارا لے گی۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے اعلی درجے کی ٹیکنالوجی کی حامل گاڑیاں مصنوعی ذہانت کے حامل کنٹرول سسٹم سے مدد لیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں یہ نیا نظام گاڑیوں کو کسی حد تک خودکار گاڑیوں میں تبدیل کر سکے گا۔ اس حوالے ہوٹز نے ٹیک کرنچ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام بالکل ٹیسلا کے آٹو پائلٹ نظام سے ملتا جلتا ہے۔ عام گاڑیوں کو کسی حد تک خودکار بنانے کے لئے کئی کمپنیاں پہلے سے ہی کام کر رہی ہیں ان کمپنیوں میں ڈیلفی (Delphi) موبائل آئی (Mobileye) اور Oxbotica شامل ہیں تاہم کوما آئی کی جانب سے تیار کردہ سسٹم ان سے پہلے مارکیٹ میں صارفین کے لئے دستیاب ہو گا۔ اس حوالے ہوٹز دیگر اداروں سے مقابلے کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں ان کا کہنا ہے کہ ’’اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ موبائل آئی ایسا سافٹ وئیر تیار کر رہی ہے جسے مستقبل کا سافٹ وئیر قرار دیا جا سکتا ہے تو ایسی بات نہیں ہے‘‘۔ صارفین کی سیکورٹی کے امور بھی کوما آئی کے لئے نظر انداز کرنا ممکن نہیں کیونکہ ٹیسلا کی بغیرڈرائیور کے چلنے والی گاڑی کے حادثے جس میں ایک انسانی جان ضائع ہوئی تھی اس کے بعد سے ہی خودکار گاڑیوں کے لئے تیار کئے جانیوالے نظام کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اور ٹیسلا اس امر کا اظہار کر چکی ہے کہ وہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے لئے تیار کئے جانیوالےنظام میں مزید بہتری لا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔ اب جیسے ہی ہوٹز کی کمپنی کے جانب سے عام گاڑیوں کو خودکار بنانے کی بات سامنے آئی ہے تو اس پر سب سے زیادہ تنقید بھی ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلن مسک کی جانب سے ہی سامنے آ رہی ہے ان کی جانب سے تحریر کئے گئے ایک بلاگ میں کہا گیا ہے کہ یہ بہت ہی عجیب ہے کہ کسی فرد یا چھوٹی سی کمپنی کی جانب سے ایسی ڈیوائس تیار کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے جس کے پاس انجئیرنگ کی ایسی صلاحیتیں نہیں ہیں کہ وہ خودکار گاڑیوں کا نظام تیار کر سکیں ۔ ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو کے ریمارکس درست ہیں یا غلط اس کا تعین کرنے کے لئے ہمیں کچھ زیادہ وقت صرف نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ تکنیکی معلومات سامنے آتے ہی حقیقت واضح ہو جائیگی۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top