Global Editions

یہ مصنوعی ذہانت کا پروگرام آپ سے بحث تو کرسکتا ہے، لیکن اسے اپنی ہی باتوں کی سمجھ نہیں ہے

انسانوں اور مشینوں کے ایک نئے مقابلے میں بہت زيادہ بحت کرنے والا مصنوعی ذہانت کا سسٹم استعمال کیا گیا ہے۔

سان فرانسسکو میں ایک مباحثے کے دوران ایک مصنوعی ذہانت کے پروگرام نے بڑی ٹھوس وجوہات فراہم کرتے ہوئے خلائی تحقیق کو مالی تعاون کی فراہمی کے حق میں بیان دیا۔ جب ایک انسان نے اختلاف رائے کا اظہار کیا، تو اس پروگرام نے اس کی بات کا بھی جواب دیا۔

آئی بی ایم کے پروجیکٹ ڈیبیٹر نامی کمپیوٹر پروگرام اور کئی انسانی شرکاء کے درمیان یہ مباحثہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت رکھنے والی مشینوں میں اب ایسی صلاحیتیں پیدا ہورہی ہیں جو ایک زمانے میں صرف انسانوں میں پائی جاتی تھیں، جس کی ایک مثال بحث کرنے کی صلاحیت ہے۔

اس تقریب کے دوران، پروگرام اور ایک انسان باری باری کسی مخصوص عنوان پر بحث کرتے، ایک دوسری کی بات کا جواب دیتے، اور آخر میں بحث کا خلاصہ پیش کرتے۔ دوسرے مباحثے میں اس پروگرام نے ٹیلی میڈیسن کے استعمال میں اضافے کی حمایت کی، جبکہ انسان نے اس کی مخالفت کی۔

آئی بی ایم کئی سال سے اس مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر پر کام کررہے ہيں، جو کسی مخصوص عنوان کے متعلق دلائل تیار کرنے کے لئے وافر مقدار میں ٹیکسٹ کو مائن کرتا ہے۔ اس تقریب کا مقصد اس ٹیکنالوجی کو فروغ دینا تھا۔

پروجیکٹ ڈیبیٹر کو اپنا مدعا بیان کرنے کے لئے زیربحث موضوع کو سمجھنے کی ضرورت نہيں ہے۔ وہ صرف سابقہ بحث اور وکی پیڈیا سے متعلقہ معلومات کو جوڑ توڑ کر اپنی بات پیش کرتا ہے۔

اسرائیل میں رہائش پذیر رینٹ اہارونو (Ranit Aharonov) اس بات کا اعتراف کرتی ہيں کہ اس پراجیکٹ کی صلاحیتیں بہت محود ہیں۔ وہ کہتی ہیں "زبان پر مکمل طور پر عبور حاصل کرنے میں بہت وقت لگے گا۔" تاہم، ان کے خیال میں اس ٹیکنالوجی کو کئی عملی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اس کے ذریعے کسی شخص کو دونوں طرف کے کئی مختلف نقاط پیش کرکے بہتر طور پر فیصلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

دوسری طرف، اس قسم کی بحت و مباحثہ کرنے والے مصنوعی ذہانت کے سسٹم کو غلط طریقے سے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے مزید نقصان دہ بوٹس کی تخلیق شامل ہے۔ تاہم، اہارونو کے ساتھ کام کرنے والے نوم سلونم (Noam Slonim) کا کہنا ہے کہ اس کا خطرہ اتنا زيادہ نہيں ہے جتنا سمجھا جارہا ہے۔ وہ کہتے ہيں "ہر چیز میں خطرہ تو ہوتا ہی ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس پروگرام سے وابستہ خطرات دوسری ٹیکنالوجیوں کے مقابلے میں بہت کم ہيں۔"

سیٹل میں واقع ایلن انسٹی ٹیوٹ فار آرٹیفشل انٹیلی جنس (Allen Institute for Artificial Intelligence) کے سی ای او اورن ایٹزیونی (Oren Etzioni) کے مطابق صرف اس تقریب کی بنیاد پر آئی بی ایم کے سسٹمز کی صلاحیتوں کی پیمائش کرنا بہت مشکل ہے۔ وہ کہتے ہيں "پہلے سے پکا پکایا ڈیمو تیار کرنا بہت آسان ہے۔ مشین کے ساتھ قدرتی طور پر بات چیت کرنا بہت مشکل ہے۔"

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے پروفیسر اور خودکار طریقے سے خبروں کی رپورٹس اور دیگر مشمولات تیار کرنے والی کمپنی نیریٹو سائنسز (Narrative Sciences) کے بانی کرسچن ہیمنڈ (Kristian Hammond) کہتے ہيں کہ یہ ٹیکنالوجی بہت کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آئی بی ایم کا سافٹ وئیر طوطے کی طرف صرف وہی معلومات پیش کرتا ہے جو اس نے رٹی ہوئی ہوتی ہے۔ "اس سسٹم کو اپنی کسی بھی بات کی کسی بھی وقت سمجھ نہيں ہے۔ اگر کوئی انسان ایسا کرے، تو ہم اسے بے وقوف کہیں گے۔"

ہیمنڈ یہ بھی کہتے ہيں کہ سان فرانسسکو میں منعقد ہونے والی تقریب میں سسٹم کے فوائد سامنے نہيں آپائے۔ ان کے مطابق "اس سے صرف دھیان ہی بٹتا ہے۔ اور کوئی فائدہ حاصل نہيں ہوتا ہے۔"

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top