Global Editions

کیا تھری ڈی پرنٹنگ سے اب مریخ پر گھر بن سکے گا؟

ناسا کا خلائی مہموں کے لیے رہائش گاہيں تعمیر کرنے کا مقابلہ اپنے آخری مراحل میں ہے، اور آپ ایک ڈيزائن کی ٹیسٹنگ بھی کرسکتے ہيں۔

اگر انسانوں کو خلاء میں بھیجنا ہے تو انہیں کم سے کم سامان سے آراستہ کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں انہی وسائل سے کام چلانا ہوگا جو وہاں دستیاب ہوں گے۔

2015ء میں شروع ہونے والے ناسا کا تھری پرنٹڈ رہائش کے مقابلے کا مقصد بھی یہی ہے۔ اس مقابلے میں شرکت کرنے والی ٹیمیں محض چاند، مریخ اور خلاء کے دوسرے مقامات میں دستیاب ری سائیکل ایبل مواد کی مدد سے خلائی مہموں کو معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھنے والے سٹرکچرز تعمیر کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ان کے ڈیزائنز زمین پر تعمیرات کے اخراجات میں کمی کا بھی باعث بن سکتے ہیں۔

یہ مقابلہ جیتنے والی ٹیم کا جلد ہی اعلان کردیا جائے گا۔ الینوائے کے شہر پیوریا میں اے آئی سپیس فیکٹری اور پینسلوینیا سٹیٹ یونیورسٹی کی ٹیمیں اس چیلنج کے آخری مرحلے تک پہنچ چکی ہيں اور انہيں ایک پتھریلی سطح پراپنے ڈیزائنز کو تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے تشکیل دینے کے لیے صرف تین دن دیے جائيں گے۔

اے آئی سپیس سسٹم کا پرنٹنگ کے سسٹم کا وزن 30،000 پونڈ (یعنی 13،600 کلوگرام) سے بھی زيادہ ہے۔ ان کے اس مقابلے کے لیے روانہ ہونے کے لیے اس سسٹم کو پیک کرنے سے پہلے، مجھے بوسٹن میں ان کی ٹیم کے ایک ممبر سے بات کرنے کا موقع ملا۔

اے آئی سپیس فیکٹری یہ سٹرکچر بنانے کے لیے ایک روبوٹک بازو پر رکھے ہوئے ایکسٹروڈر کا استعمال کریں گے۔ ان کا بازو فارک لفٹ پر بنایا گيا ہے اور تین ہزار پونڈ گولیاں اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ٹیم کا سب سے بڑا کام یہ سمجھنا تھا کہ اس بازو کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے اور اس سٹرکچر کی کیا خصوصیات ہوں گی۔ اگر مادہ بہت زیادہ گرم یا پتلا ہوگا تو سٹرکچر صحیح طریقے سے کھڑا نہيں ہوسکے گا۔

اے آئی سپیس ماضی میں تمام پرزوں کو علیحدہ طور پر پرنٹ کرچکے ہیں۔ تاہم اس مقابلے میں وہ پہلی دفعہ تمام پرزے ایک ساتھ پرنٹ کریں گے۔ ٹیم کے ممبران امید کرتے ہیں کہ مداخلت کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ اس مقابلے میں جب بھی کسی انسان کی مدد کی ضرورت پیش آئے گی، پوری ٹیم کے نمبر کاٹ دیے جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ واقعی خلاء میں پرنٹنگ کررہے ہوتے تو کسی بھی طرح سے انسانی مداخلت ممکن نہيں ہوتی۔

ٹیم کے بانی جیفری مونٹس کہتے ہيں "اس مقابلے کا مقصد سو فیصد خود مختاری ہے۔"

اے آئی سپیس فیکٹری کے ڈیزائن کی شکل ایک لمبے بھڑوں کے چھتے کی شکل کی طرح ہے، جس میں روبوٹک بازو کی مدد سے کھڑکیاں نصب کی گئی ہیں۔ آخر میں ایک سکائی لائٹ لگائی جائے گی، جس کے بعد اس سٹرکچر کے دباؤ میں اضافہ کردیا جائے گا۔

یہ ٹیم اس ڈیزائن پر 2017ء سے کام کررہی ہے۔ تاہم پرنٹر کی تخلیق اور ٹیسٹنگ کا کام صرف پچھلے سال ہی شروع ہوا تھا۔

اس چیلنچ میں شرکت کرنا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ اس کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی تھری ڈی پرنٹرز اور اس قسم کی رہائش تخلیق کرنے کے لیے ضروری ٹیکنالوجی اور وسائل کے متعلق زیادہ معلومات عام نہيں ہے۔ کئی ٹیموں نے صرف اسی وجہ سے یہ مقابلہ ادھورا چھوڑدیا تھا کیونکہ انہيں یہ وسائل حاصل کرنے میں دشواری پیش ہورہی تھی۔ بلکہ پیوریا میں منقعد ہونے والے آخری مرحلے میں تین ٹیمیں حصہ لینے والی تھیں، لیکن ان میں سے ایک ٹیم نے مزید شرکت نہيں کی۔

مونٹس کہتے ہیں "ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ یہ چیلنج جیتنے والی ٹیم خلائی رہائش کی تخلیق کے اس نئے شعبے میں بازی لے جائے گی۔"

اس مقابلے کے لیے تخلیق کردہ ٹیکنالوجی کے استعمالات سے مریخ سے پہلے زمین پر زیادہ فائدہ ہوگا۔ اے آئی سپیس فیکٹری زمین پر رہنے کے لیے اس مقابلے کے لیے تخلیق کردہ سٹرکچر سے بڑی عمارت بنانے کا ارادہ رکھتے ہيں، جس کا نام ٹیرا ہوگا۔

یہ کمپنی ٹیرا کی ایئر بی اینڈ بی پر ریجسٹریشن کروانے والے ہیں۔ ٹیرا میں بہت زیادہ سہولیات تو دستیاب نہیں ہوں گی لیکن وہ کچھ حد تک زمین پر مریخ جیسا تجربہ فراہم کرنے میں کامیاب رہ سکے گا۔

تحریر: ایرن ونک (Erin Winick)

Read in English

Authors
Top