Global Editions

آپ کو اب فون دوسروں کو دیتے وقت گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی

ہوسکتا کہ بہت جلد دو لوگ ایک ہی فون پر دو مختلف چیزیں کرسکیں گے۔

چند ریسرچرز نے تین مختلف فونز پر مشتمل ایک فون تیار کیا ہے، تاکہ آپ پرسکون ہو کر اپنا فون کسی اور کے ہاتھ میں دے سکیں۔

ہم اپنا فون کسی اور کے ہاتھ میں دینے سے بہت گھبراتے ہيں۔ لیکن اگر آپ کے پاس اپنے فون پر کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے کسی اور کو دینے کا کوئی طریقہ موجود ہو تو؟

ڈارٹ ماؤتھ کالج (Dartmouth College) اور کینیڈا کی یونیورسٹی آف کیلگری (University of Calgary) اور یونیورسٹی آف واٹرلو (University of Waterloo) کے ریسرچرز نے اسی مسئلے کے حل کے لیے ایک پروٹوٹائپ تیار کیا ہے جس میں تھری ڈی پرنٹنگ تکنیک سے تیار کردہ ایک فون کے کیس میں تین مختلف سمارٹ فونز لگائے گئے ہیں۔ ان تینوں فونز میں اینڈرائيڈ آپریٹنگ سسٹم کا ایک کسٹم میڈ ورژن لگایا گیا ہے جس کے ذریعے مرکزی فون نہ صرف دوسرے دونوں فونز پر نظر رکھ سکتا ہے، بلکہ ان کی مختلف ایپس تک رسائی کو کم یا زیادہ بھی کرسکتا ہے۔

ان دونوں فونز کو، جن میں سے ایک درمیانی سائز کا ہے اور دوسرا فون مرکزی فون کے مقابلے میں سائز میں بہت چھوٹا ہے، سلائيڈ کرکے کیس سے نکال کر دوسروں کو دیا جاسکتا ہے۔ جب آپ درمیانے سائز کے فون کو باہر نکالتے ہيں، آپ کو اس کی سکرین پر کئی مختلف آئيکنز نظر آئيں گے۔ جس شخص کے پاس بڑا فون ہوگا وہ س سکرین کے ذریعے سیٹ کرسکتا ہے کہ اس فون کے ذریعے کیا کیا چیزیں ممکن ہوں گی۔ چھوٹے سائز کے فون کی سکرین پر اتنی آپشنز نہیں دکھائے جاتے ہيں۔ یہ آئيکنز مرکزی فون کی اندرونی ساختہ نیئر فیلڈ کمیونیکیشنز (NFC) کی سہولت کے ساتھ کام کرنے والے ٹیگز کا استعمال کرتے ہيں جو ان اضافی فون کے کیسز میں لگے ہوئے ہیں۔

اس فون پر کام کرنے والے ٹیڈی سید (Teddy Seyed)، جو یونیورسٹی آف کیلگری میں زیرتعلیم ہيں، کہتے کہ اس فون کا ڈیزائن ابھی بھی کافی بھدا ہے، اور سب سے پہلا اعتراض یہ اٹھتا ہے کہ کوئی ایک فون کے بجائے تین فون لے کر گھومنا نہیں چاہتا ہے۔

لیکن ہوسکتا ہے کہ اس سے ایک ایسا مستقبل سامنے آئے جس میں لوگوں اپنی سب سے اہم چیز کسی اور کو دینے پر آمادہ ہوجائیں۔ سید نے اس پراجیکٹ پر ایک پیپر بھی لکھا ہے جسے اکتوبر میں منعقد ہونے والی یوزر انٹرفیس کی کانفرنس میں پیش کیا جائے گا۔ وہ کہتے ہيں اس فون سے والدین کو اپنے بچوں کو اپنا فون دیتے وقت ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ ان لوگوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا جنھیں اپنے فون کو ایک ملٹی پلیئر ویڈيو گیم سسٹم کی طرح استعمال کرنے کا شوق ہے۔

ماڈیولر فونز پر بہت کام کیا جا چکا ہے، لیکن یہ اب تک زیادہ مقبول ثابت نہیں ہو پائيں ہیں۔ اس کی ایک مثال گوگل کا پراجیکٹ آرا (Project Ara) ہے، جس میں کیمرہ، بیٹری اور دیگر کئی مختلف فنکشنز کے لیے ریمووایبل ماڈیولز سے آراستہ ہینڈسیٹ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن یہ فون مارکیٹ میں لانچ نہیں ہوسکا، اور 2016ء میں اسے بند کرنا پڑا۔

کچھ عرصہ پہلے موٹورولا (Motorola) کے موٹو زی (Moto Z) ہینڈسیٹ اور اینڈرائيڈ کے تخلیق کار اینڈی روبن (Andy Rubin) کے ایسنشل (Essential) سمارٹ فون جیسے فونز کی پشت پر اسیسریاں لگانے کے لیے متعدد مقناطیس نصب کيے گئے ہيں۔ سید کے مطابق یہ طریقہ کار زیادہ کامیاب ثابت ہوسکتا ہے، اور ممکن ہے کہ وہ اپنے فونز میں اس طرح کی کوئی چیز کرنے کی کوشش کریں۔

سید کہتے ہيں کہ انھیں پہلا پروٹوٹائپ بنانے میں ایک سال کا وقت لگا، اور وہ آنے والے چند ماہ میں ایک اور ورژن لانچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہيں۔ انھیں امید ہے کہ آگے چل کر وہ اسے ایک فون کی شکل دے پائيں گے۔ ان کے خیال میں تین فونز کو ضم کرنے کے بجائے، انھیں ایک ہی فون میں سلم اور شیئرایبل ڈسپلے کی طرح کے ڈیوائسز نصب کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ وہ کہتے ہيں "یہ دوسرے حصوں کے لیے ایک ہاٹ سپاٹ کی طرح کام کرے گا۔"

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top