Global Editions

مصنوعی ذہانت سے ناقابل یقین حد تک ٹھیک لگنے والے جعلی چہرے ممکن

مصنوعی ذہانت میں نئی اپروچ ناقابل یقین حد تک جعلی چہرے پیدا کر سکتی ہے اور وہ بھی آپ کی مطلوبہ خصوصیات کے ساتھ

اوپر دئیے گئے چہروں میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔ ان کو آسانی سے کہیں فیس بک یا لنکڈ ان سے لیا جا سکتا ہے۔ حقیقت میں ان کو ایک نئے قسم کے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم سے بنایا جا سکتا ہے۔

نوائیڈاکےمحققین نےبالکل ٹھیک اور اصل لگنے والے جعلی چہروں کے طریقہ کار کی تفصیلات پوسٹ کی ہیں۔

محققین طرو کارراس، سمولی لائنی اور ٹیمو ایلا جعلی تصویروں کے نئے طریقہ کار کے ساتھ آئے ہیں جسے جی اے این(Generative adversial network-GAN) کہتے ہیں۔ جی اے این میں دو ڈیویلنگ نیورل نیٹ ورکوں کو ایک کمپیوٹر پر ڈیٹا کی تربیت دی جاتی ہےجسے سے وہ قائل کرنے والی جعلی چیزیں بناتا ہے۔ جب اس چیز کو تصاویر پر لاگو کیا جاتا ہے تو اس سے اکثر انتہائی ٹھیک لگنے والی جعلی چیزیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس سے پہلےنوائیڈا کے محققین نے مشہور شخصیات کو تخلیق کرنے کے لئے یہ تکنیک استعمال کی ہے۔نوائیڈاکمپیوٹر چپس بناتا ہے جو کہ مصنوعی ذہانت میں اہم سمجھی جاتی ہیں لیکن کمپنی کے پاس سافٹ ویئر انجینئرز کی فوج ہے جو مفید اوزار تیار کرتی ہے اور ان کوہارڈ ویئر پر تجربہ کرتی ہے۔

اپنے حالیہ کام میں محققین نے ایک سٹائل ٹرانسفر ٹیکنیک سے متاثر ہوئے تاکہ وہ اپنے جی اے این ایز کو بنیادی طور پر مختلف بنا سکیں۔اس چیز نے الگورتھم کو چہرہ کے مختلف عناصر کی شناخت کرنے کی اجازت دی جس کو بعد میں محققین کنٹرول کرسکتے ہیں۔

محققین کی طرف سے تیار شدہ ایک ویڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح نئی اپروچ کو استعمال کیا جا سکتا ہے اور مختلف عناصر جیسا کہ عمر، نسل، صنف یا یہاں تک چہرے پر پڑنے والے نشانات کو ری مکس کیا جا سکتا ہے۔

ماریو کلنگمین جو کہ ایک آرٹسٹ ہے اور کوڈر کے طور پر جی اے این کو استعمال کرتا ہے،کا کہنا ہے، "یہ یقینی طور پر جی اے این ایز کے لئے ایک بڑی اور اعلیٰ معیار کی چھلانگ کی طرح محسوس ہو رہی ہے ۔ دوسرے جی اے این کے برعکس اس کوحیرت انگیز طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے"۔

کلنگیمن کا کہنا ہے کہ وہ کوڈ حاصل کرنے کے لئے اپنا ہاتھ رکھ کر بیٹھا ہے اور اس کو فنکارانہ مقاصد کے لئے استعمال کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا ہے، "مجھے بہت دلچسپی ہے کہ میں دیکھوں کہ یہ ماڈل کس طرح غلط چیزیں کرتا ہے۔"

جی اے این ایز کے ذریعے ویڈیو گیمز اور خصوصی اثرات کے تبدیل ہونے کا امکان ہے۔اس اپروچ سے مطالبہ پر صیح کریکٹرز کو اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔نوائیڈا نے حال ہی میں ایک پروجیکٹ دکھایا جو گانوں کا استعمال کرتا ہے جو حقیقی وقت میں جی اے این ایز کا استعمال کرتے ہوئے ایک ڈرائیونگ گیم کے اندر سین کی اشیاء کو سنبھالتے ہیں۔

ایڈوب نے بھی(Adobe) ایک پروجیکٹ متعارف کروایا ہے جو جی اے این ایز کا استعمال کرکے تصاویر کے حقائق کو بہتر بناتا ہےاور ان نمائشوں کو ہٹا سکتا ہے جن کو بعد میں آسانی سے متعارف کروایا جا سکتا ہے۔ جی اے این ایز کوگانوں کو کم شدہ تصاویر یا ویڈیو ز کوتیز کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

لیکن یہ کام ایک شاندار مثال ہے کہ کس طرح مشین لرننگ کا استعمال کرتے ہوئے جعلی پن میں ہر قسم کی انتہا کو پہنچا جا سکتا ہے۔ اس سال کے آغاز میں سیاست کے مختص سپشل ایشو میں ہم نے لکھا کہ سیاسی میدان میں ویڈیوز کا جعلی پن کس طرح نقصان پہنچا سکتا ہے۔

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top