Global Editions

یہ لچکدار شمسی توانائی کے سیل ہماری قدرتی ایندھن کی عادت کو ختم کرنے کے قریب ہیں

گزشتہ دسمبر میں، آکسفورڈ، انگلینڈ میں ایک تجربہ گاہ میں محققین نے سورج کی روشنی کے ایک لیمپ کو ایک چھوٹے شمسی سیل پر صرف ایک سینٹی میٹر مربع پر چمک دی۔

اس آلے میں در اصل سیل تھے جو ایک دوسرے کے اوپر لگائے گئے تھے۔ اس کا نچلا حصہ سلیکان کی ایک قسم سے بنا ہوا تھا جو کہ ایک عام شمسی پینل میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اوپر کا حصہ پیرویسکائیٹ (perovskite) تھا جو کہ ایک ایسا کرسٹل سٹرکچر ہےجو خاص طور پر بجلی کو روشنی میں تبدیل کرتا ہے۔

نام نہاد ٹینڈم شمسی سیل کے ساتھ منسلک پرابزکی ایک جوڑی نے اس کی کارکردگی کو ماپا۔ آکسفورڈ پی وی میں لیبارٹری کے دیگر محققین ایک فلیٹ سکرین مانیٹر کے پیچھے جمع ہوئے اور سیل کی کارکردگی کو دیکھنے کے لئے متوقع طور پر انتظار کر رہے تھے۔جب ایسا ہوا تو، انہوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔ سیل نے روشنی کو 28 فیصد بجلی میں تبدیل کیا۔پیرویسکائیٹ سیلکون کی ڈیوائس پریہ کارکردگی کا ایک ریکارڈ تھا۔

ایک آزادانہ ٹیسٹ نے اگلے چند دنوں میں اس کو کنفرم کر دیا جب یہ چھوٹا سیل گولڈن، کولیرڈو میں نیشنل ری نیو ایبل انرجی لیبارٹری(این آر ای ایل) میں ایک چھوٹے طیارے میں ڈالا گیا۔

سلیکون پینل مارکیٹ میں غلبہ رکھتے ہیں اور ان کا مارکیٹ میں شئیر 95فیصد ہے لیکن سلیکون کا میٹرئیل شمسی پینل کے لئے اچھا نہیں ہے۔ یہ بنیادی طور پر شمسی توانائی کا ریڈ اور انفراریڈاستعمال کرتا ہے اور اسے فوٹان کو جذب کرنے اور تبدیل کرنے کے لئے کافی موٹا اور بڑا ہونا پڑتا ہے۔ مارکیٹ پر سب سے زیادہ موثر سیلکان کے شمسی پینل کی کارکردگی23 فیصد سے بھی کم ہے جبکہ تھیوری میں سلیکون پرت کی کارکردگی تقریباً 9 2 فیصد ہے۔

دوسری طرف پیرویسکائیٹ، اپنے تک پہنچنے والی روشنی کا زیادہ استعمال کرسکتے ہیں اور کام کرنے کے لئے سپیکٹرم کے مختلف حصوں میں کام کر سکتے ہیں۔ آکسفورڈ پی وی نے نیلے انڈ کا انتخاب کیا ہے۔ ایک سیل میں جوڑے کے طور پر، دومیٹرئیل اکٹھے مل کر زیادہ فوٹان کو الیکٹران میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اکیلے اپنے طور پر وہ کم الیکٹران تبدیل کر سکتے ہیں۔

آکسفورڈ پی وی نے 2016 میں بوش سولر (Bosh Solar) جو کہ ایک جرمن فیکٹری ہے، کا استعمال کیا اور یہ اگلے سال کے اختتام تک پیرویسکائیٹ اور سلیکان پر مبنی شمسی سیلز مارکیٹ میں فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دونوں میٹرئیل ایک ایسے پیکیج میں آئیں گے جو کسی دوسرے عام شمسی پینل کی طرح نظر آتے ہیں،اسی طرح ان کی ترسیل ہوتی ہے اور اسی طرح نصب ہوتے ہیں جیسے دوسرے عام شمسی پینل۔اس چیز سے کمپنی کا خیال ہے کہ مارکیٹ میں اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے میں آسانی ہو گی۔

آکسفورڈ پی وی کے چیف ٹیکنیکل آفیسر کریس کیس کہتے ہیں، “یہ کاروباری رکاوٹ کے بغیر ٹیکنالوجی کی مداخلت ہے۔”

ہائیوں سے سلیککان سپلائرز کے درجنون سٹارٹ اپس کا دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے۔لیکن وینچر سرمایہ کاروں نے حالیہ مہینوں میں پیرویسکائیٹ کے منصوبوں میں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور شمسی توانائی کی مارکیٹ میں تیزی لائے ہیں۔ سوال اب یہ ہے کہ پیرویسکائیٹ اب آہستہ سے ناکام ہونگے یابالاآخرمارکیٹ میں سلیکان پینل کو شکست دیں گے۔

نیشنل ری نیوایبل لیبارٹری میں پیرویسکائیٹ ریسرچ پروگرام کی قیادت کرنے والے جوئی بیری کہتے ہیں، ” چیزوں کا ایک مکمل سیٹ ہے جو اسے ممکنہ ٹیکنالوجی میں تبدیل کر دیگا۔ لیکن سلیکان کے ساتھ مقابلہ کرنے کی کوشش کرنے والی ٹیکنالوجیوں کی فہرست طویل اوربڑی ہے، لہٰذ آپ کو اس حوالے سے عاجزی بھی دکھانی ہو گی۔”

“سٹیرائڈز پر شمسی سیل”

2000 ء والی دہائی کے آخر میں، بہت سارے اچھی طرح سے فنڈ کئے گئےسٹارٹ اپس نے نئے اور زیادہ لچکدار شمسی توانائی کے میٹرئیل لانے کی کوشش کی جس میں پتلی فلم کی ٹیکنالوجیز جیسے کیڈیمیم ٹولورائڈ اورکاپر انڈیم گیلیم سیلینڈ شامل ہیں۔ اس میں نامیاتی شمسی سیلز بھی شامل ہیں۔ ۔اس چیز سے انہوں نے وعدہ کیا کہ ایسے مواد کو تیار کرنا سستاہو گا اور اس کو مختلف سائزوں میں پیدا کیا جا سکتا ہے۔

لیکن سلیکون کا شمسی پینل تیز رفتار ہدف تھا۔ سرکاری سطح پر تحقیقاتی کوششوں اور مارکیٹ کی پالیسیوں کی وجہ سے شمسی سیلز کی کارکردگی میں بہتری آئی اور قیمتوں میں کمی آئی۔

چین نے خاص طور پر مارکیٹ پر قابو پانے کے لئے اورمینوفیکچر نگ کو بڑھانےکے لئے جارحانہ سبسڈی دی اور بہترین حکمت عملی اپنائی۔ 2000 کے وسط میں ملک کی ماڈیول ترسیل اور عالمی مارکیٹ میں اس کا حصہ شروع ہو چکا تھا جس سے چین پر اپنے غیر ملکی مخالفوں کو غیر قانونی ڈمپنگ میں مات دینے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ تجارتی سلیکون پینلز کی قیمتیں 2010 سے 2013 تک نصف سے کم ہو گئیں اورا س کےمتبادل کے لئے مارکیٹ ڈوب گئی۔

لہٰذا ان دنوں میں نئی ​​فیکٹریوں،سپلائی چینز اورڈسٹری بیوشن چینلز کے وسیع اخراجات کو پورا کرنے کے لئے کسی بھی نئے میٹرئیل کو کئی اہم طریقوں سے بہتر ہونا ہوگا: زیادہ موثر، تیار کرنےکے لئےسستا، زیادہ ورسٹائل، طویل عرصہ تک پائیدار، یا مثالی طور پر اوپر والی تمام خصوصیات ہونی چاہیں۔
پیرویسکائیٹ ان میں سے کچھ خصوصیات رکھتا ہے۔پیرویسکائیٹ کےشمسی پینل کی ایک پرت کی تھیوری میں کارکردگی 33 فی صد تک پہنچ سکتی ہے جبکہ ٹینڈیم پیرویسکائیٹ سلیکون آلہ کی کارکردگی تقریباً 43 فیصد تک جاسکتی ہے۔ زیادہ کارکردگی اہم ہے کیونکہ اس سے آپ ایک ہی تعداد میں پینلز سے زیادہ بجلی پیدا کرسکتے ہیں، یا ایک چھوٹا فٹ پرنٹ سےکم اخراجات کے ساتھ زیادہ توانائی پیدا کر سکتے ہیں۔

پیرویسکائیٹ شمسی ماڈیولز کو کم از کم بنانے کے لئے سستا ہونا چاہئے۔ سلیکان پینلز کی پیداوار میں کئی مراحل ہوتے ہیں جس میں شدید گرمی کے تحت سلیکان کو بہتر بنانے کے عمل میں داخل کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف پیرویسکائیٹ کوکم درجہ حرارت پر پیدا کیا جا سکتا ہے اورمائع شکل میں پلاسٹک جیسے مواد پراستعمال کیا جا سکتا ہے جس سے نیوزپیپر پرنٹنگ کی طرح رول ٹو رول مینوفیکچرنگ کے قابل ہو جاتا ہے۔

بوش کی پتلی فلم والے مینوفیکچرنگ پلانٹ کو نئی کمانڈ دینے کے ساتھ، آکسفورڈ پی وی اگلے سال کے اختتام تک سلیکون اور پیرویسکائیٹ کے سیل بڑےپیمانے پر پیدا کرنے کے قابل ہونے کی توقع رکھتا ہے اور ان کوسٹینڈرڈ پینل میں پیکیج کرنا چاہیے۔

کیس کا کہنا ہے ،”یہ عام شمسی سیل سٹیرائڈز پر ہے۔”

مارچ میں، آکسفورڈ پی وی نے کہا کہ اس نے اپنی مصنوعات کو مارکیٹ میں لے جانے کے لئے 40 ملین ڈالرسے زائد کاضافہ کیا ہے۔ اس سے اس کی مجموعی مالی فنڈنگ اور فنانسنگ تقریباً 100 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ فیکٹری ہر سال 250 میگاواٹ کے سیلز کو بھیجے گی۔
پیرویسکائیٹ کے ایک سٹارٹ اپ، انرجی میٹرئیلز(Energy Materials) بھی رول ٹو رول مینوفیکچرنگ کا استعمال کر رہی ہے۔ رچسٹر، نیویارک میں واقع انرجی میٹرئیلز سٹارٹ اپ

پیرویسکائیٹ والے سولر پینل ایسٹ مین کوڈک(Easteman Kodak) کوبڑے پیمانے پر استعمال کر رہی ہے۔ کمپنی کے چیف ٹیکنیکل آفیسر تھامس ٹامبس کہتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر تیاری سے روایتی شمسی پینل کے مقابلے میں قیمت آدھی ہو گی جبکہ مواد سستا ہونے سے قیمت مزید بہتر ہو گی۔ سلیکان کو قیمتی اور بالکل ٹھیک پلانٹس اور مشینوں کی ضرورت ہو گی۔”

چونکہ پیروسوسکائٹ لچکدار، سیمی ٹرانسپرنٹ اور ہلکا پھلکا ہوسکتا ہے، اس لئے یہ اس جگہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں بھاری، سخت شمسی پینل کام نہیں کرتے ۔ مثال کے طور پر ونڈوز، چھتوں، غیر منظم سائز کی سطحیں، یا یہاں تک کہ چلنے والی گاڑیوں میں۔

این آرای ایل-ایفلیٹیڈ (NREL-affiliated) سٹارٹ اپ سوفٹ سولر کے سی ای او جول جین کے مطابق اس نےحالیہ مہینوں میں تقریباً 7 ملین ڈالر اکٹھے کر لئے ہیں اور یہ پیرویسکائیٹ ٹینڈیم شمسی سیل بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ دو پرتوں میں استعمال ہوتا ہے اور ان میں سے ہر ایک سپیکٹرم کے مختلف حصوں میں استعمال ہوتا ہے اور یہ ڈرونز اور برقی گاڑیوں میں ان کی رینج بڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح کے سیل موثر سلیکان پرت کے ساتھ بہت اچھے ثابت ہوتے ہیں اور زیادہ لچکدار اور ہلکا پھلکا ہوتے ہیں۔

شمسی توانائی کے لئے نئے استعمال
ری نیو پاور(ReNew Power) کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر ویرون سیورام نے اپنی کتاب ٹیمنگ دی سن(Taming the Sun)میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیرویسکائیٹ کی طرح کی نئی شمسی ٹیکنالوجیزلازمی طور پر قدرتی ایندھن کی ضروریات کو ختم کرنے میں ضروری ہوسکتی ہیں۔

لیکن اگر ہمارے پاس سستے شمسی توانائی والےپلانٹس موجود ہیں تو ہمیں کوئلہ کے پلانٹس سے مقابلہ کرنے والے سلیکون والے پلانٹس کیوں چاہیں؟
شمسی توانائی والے پلانٹس کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ گرڈ میں کافی بجلی کی مقدار پیدا کر رہے ہیں تو اگلے پلانٹس کی اضافی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ سولر فارمز رات کو بجلی بالکل پیدا نہیں کرتے جس کا مطلب یہ ہے کہ سسٹم کو توانائی کی پھر بھی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف، گرم دنوں میں سسٹم ذخیرہ کرنے سے کہیں زیادہ بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ پہلے سے ہی شمسی توانائی کی بہتر پیداوار والے علاقوں جیسا کہ جرمنی، چین اور کیلیفورنیا میں ہو رہا ہے۔

گرڈ آپریٹرز کوباقاعدہ طور پر شمسی فارمز کو پیداوار سے مجبوراً روکنا پڑتا ہے اور وہ بجلی کی قیمتیں زیرو یا اس سے بھی کم کر دیتے ہیں۔ اس چیز سے شمسی پلانٹس کا منافع ختم ہو جاتا ہے اور وہ قدرتی ایندھن کو ہٹانے کی پوری کوشش نہیں کرتے۔

2016 میں نیچرا نرجی میں شائع ہونے والی پیپر میں ایکسیورام اورشیل کین جو اب نجی ایکوئٹی فرم انرجی امپیکٹ پارٹنرز کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں، نے شمار کیا ہے کہ سولر لانٹس کو چلانے والے کی حوصلہ افزائی کے لئے اور پلانٹس لگانے کی ضرورت ہے جبکہ اس سے شمسی پلانٹس کی قیمت 25 سینٹس فی واٹ گرے گی۔ تازہ ترین این آر ای ایل کی رپورٹ کے مطابق، سب سےسستے تجارتی سسٹم کی کل لاگت1.06فی واٹ ہے۔ اس میں زیادہ لاگت قیمتی ہارڈ ویئر نصب کرنے اور وائرنگ کی وجہ سے ہے۔ اس وجہ سے لاگت کو کم کرنے کے لئے ڈرامائی طور پر گندے سستے شمسی سیلز کی ضرورت نہیں بلکہ ہلکے اور لچکدار کو لگانا آسان ہے۔سیورام کا کہنا ہےکہ پیرویسکائیٹ شمسی توانائی میں چھلانگ لگانے کے لئے سب سے بہترین میٹرئل ہیں۔

سستی شمسی توانائی سے باقی چیزوں کی قیمتوں کو کم بھی کیا جا سکتا ہےجیسے سمندری پانی کی ٹریٹمٹ، مصنوعی پودے جو ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ نکال سکتے ہیں، یا الیکٹرو لائسیس پلانٹس جو کہ اضاف توانائی کو ہائیڈروجن ایندھن میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

سیورام کا کہنا ہے کہ ” سستے شمسی پلانٹس کے اتنے نئے استعمال ہونگے جس کا ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔”

پائیداری کا مسئلہ

پیرویسکائیٹ کے حوالے سے سب سے سخت سوال ان کے پائیدار ہونے کے بارے میں ہے۔کارکردگی کا کوئی فائدہ نہیں ہے اگر مواد چند مہینے یا چند سال چلتا ہے ۔ اب تک کے مطالعہ کے مطابق پیرویسکائیٹ جلد ختم ہو جاتے ہیں جب ان پر بالائے نفشی روشی اور نمی پڑے۔

یہ ایک ایسے میٹرئیل کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کو کئی سال سورج میں پڑا رہنا ہے۔ اور اگر کمپنیاں پیرویسکائیٹ پپنل کو جلدی مارکیٹ سے نکال لیتی ہیں تو اس سے اس میٹرئیل کی ساکھ خراب ہو جائے گی بے شک وہ بعد میں اس کا بہت زیادہ پائیدار ورژن تیار کرکے لے آئیں۔

اب تک کے لئے، آکسفورڈ پی وی کی مارکیٹ کی منصوبہ بندی کا انحصاراس چیز پر ہے کہ آیا اس کے پیرویسکائیٹ سیل کو کام کے لئے بنایا جا سکتا ہے اور یہ عام سلیکان شمسی پینل کی طرح نظر آسکتا ہے ۔ اس کی پیکنگ میں ایک گلاس بھی ہے جو اس کو زیادہ دیر تک چلائے گا۔

لیکن کمپنی کو مواد کی ساکھ کے لئے بہت محنت کرنی پڑے گی اور کمپیوٹنگ ماڈلنگ اور تیز رفتار اسکریننگ کو ملا کر کام کرنا پڑے گا۔ پیرویسکائیٹ کمپنی کے سی ای او فرینک آورڈونگ ایک بہادر آدمی ہیں اور ان کا کہنا ہے، “ہم نے پیرویسکائیٹ کے قابل اعتماد ہونے کے مسئلہ کا حل ٹھونڈ لیا ہے۔ہم نے اس سے نمٹ لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اب مینوفیکچرنگ کے عمل میں منتقل ہو سکتے ہیں۔”

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors

*

Top