Global Editions

میٹ گالا پر تھری ڈی پرنٹ والے ملبوسات کی دھوم

تھری ڈی پرنٹنگ ایک ایسی جگہ میں پائی گئی جہاں آپ اس کی توقع نہیں کر سکتے: میٹ گالا۔

نیویارک میں میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ کے لئے فنڈ اکٹھا کا ایونٹ کچھ مشہور شخصیات کی طرف سے متاثر کن ملبوسات کی وجہ سے مشہور ہے۔اس سال پانچ تنظیموں نے بڑے پیمانے پر تھری ڈی پرنٹ کے اجزاء پھیلائے جو کہ تمام ڈیزائنر زک پوزن) Zak Posen) نے جی ای ایڈیٹیو( G EAdditive )اور پروٹولیبز( (Protolabs کے اشتراک سے تیار کیے۔چار گائونز اور ایک ہیڈ ڈریس جورڈن ڈن (Jourdan Dunn) اور کیٹی ہولمز (Katie Holmes) جیسے لوگوں نے پہنے اور ان کو بنانے میں چھ ماہ لگے۔

ہر تھری ڈی پرنٹڈ لباس والی خاتون کو ایڈوانس سکین کیا گیا تاکہ اس بات کو یقینی بنا یا جاسکے کہ تمام ٹکڑے ڈیزائن سافٹ وئیر کے ساتھ جسم پر مکمل طور پر فٹ لگ رہےہیں۔ پوزن نے ان ٹکڑوں کو سٹیرولتھوگرافی(Stereolithography-SLA) کا استعمال کرتے ہوئے بنایا تاکہ اچھے معیار کی فنشنگ ہو۔ تھری ڈی پرنٹنگ کا یہ طریقہ آہستہ آہستہ رنگوں کے لئے ایک الٹرا وائلٹ لیزر کا استعمال کرتا ہے۔ ایک وقت میں ایک ہی پرت، لیزر کمپیوٹر میں لوڈ کئے گئے تھری ڈی ماڈل ایک پیٹرن میں رنگ بکھیرتا ہے۔اس کے نتیجہ میں ایک سخت اور ہموار ڈھانچہ وجود میں آتاہے جس کو پھر پینٹ یا پالش کیا جاتا ہے۔
گلاب کی پتیوں کی طرز پر بنا ہوا پہناوا بہت ہی گہرا بنایا گیا اور برطانیہ کی ماڈل جورڈن ڈن کے لئے بنائے گئے سوٹ پر 1100گھنٹوں سے زیادہ وقت لگا۔

روٹو لیب پر کام کرنے والے ایک ایپلی کیشن انجینئر ایرک یوٹلی کہتے ہیں، “ہم نے ان حصوں کو کبھی بھی آسان نہیں سمجھا اورہم لمٹ کو تھوڑا بڑھانا چاہتے تھے۔”

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پوزن نے میٹ گالا کےسرخ قالین پر تھری ڈی پرنٹنگ یا انکارپوریٹڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔ اداکارہ کلیئر ڈینس کے لئے ایک چمکدار لباس تیار کرنے کے لئے سینکڑوں فائبر آ پٹیک لائٹوں کا استعمال کیا گیا۔ پوزن نے تھری ڈی پرنٹ کے لئے بڑے بیگوں کا استعمال بھی کیا ہے۔
یہ چیزیں خوبصورت فنکارانہ تخلیق ہیں لیکن وہ زور دیتے ہیں کہ تھری ڈی پرنٹنگ ابھی تک آپ کی الماری تک نہیں آئی۔

کوز پلئیر اور سافٹ وئیر ڈویلپر ایمی ڈینالی ڈینزبے(Amie Daniele Dansby) جنہوں نے اس سے پہلےاپنے تھری ڈی پر کپڑے خود بنائے ، کا کہنا ہے،ـ”ان کے کپڑے مہنگےاور بھاری ہوسکتے ہیں اور سینکڑوں گھنٹے کا کام ان پر ڈیزائن اور پرنٹنگ بنانے میں لگا۔ “میں اس چیز سے محبت کروں گا ہوں کہ کپڑے تھری ڈی پر بنائے جائیں جن کو آپ پہن سکیںیا جن پر آپ بیٹھ سکیں۔اور یہاں تک کہ آپ ان کو دھو سکیں۔”

ڈیزائنر ڈینٹ پیگل نے مزید پہننے کے قابل تھری ڈی والےلباس بنائے ہیں جن میں زیادہ لچکدار مواد فیلافیکس(Filaflex) استعمال کیا گیا ہے۔ ان کے تھری ڈی پر بنائے ہوئے کپڑے زیادہ حرکت کی اجازت دیتے ہیں لیکن ان کو نیچے زیادہ دھاگے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی کسٹم پرنٹد جیکٹ مشکل سے سستی ہے: آپ اس کو 1500 ڈالرز میں لے سکتے ہیں۔

لیکن میٹ گالا زیادہ پریکٹیکل اور پہننے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ایک بیان جاری کرنے کے بارے میں ہے۔ تھری ڈی کمپنی میٹر ہیکرز کے بزنس ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر مارا ہٹنر کا کہنا ہے۔ “مجھے نہیں لگتا کہ تھری ڈی پرنٹنگ کبھی بھی روایتی کپڑوں کی جگہ لے گی۔لیکن جب آپ کسی ایونٹ میں کسی ایک شخص کے لئے تھری ڈی کی بات کرتے ہیں تو یہ ایک بہترین آ پشن ہے۔”

پوزن کا کام بڑے فیشن ڈیزائنرز کی طرف سے تھری ڈی پرنٹنگ کے استعمال میں ایک بڑی تبدیلی ظاہر کرتا ہے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی میں بہتری آ رہی ہے اور اس کا استعمال آسان ہو رہا ہے، یہ چھوٹے شوز سے نکل کرفیشن کے سب سے بڑے ایونٹ میں آ رہی ہے۔

شخصیات کی تفصیلات چیک کریں

جورڈن ڈن

لباس پر 21پتیوں کا وزن ایک پائونڈ تھا اور ان پر3000ڈالرز لاگت آئی۔ان پتیوں کو ایک تھری ڈی پرنٹڈ فریم کے اندرون کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا جس سے اس کا ٹوٹل وزن 30پائونڈ یا 13.6کلوگرام تھا۔ یہ وزن انجینئرز کے پہلے ہی بہت بھاری وزن کو کم کرنے کے بعد تھا۔کپڑوں کو ایک ساتھ رکھنے کے لئے 1100 گھنٹے سے زائد کا وقت لگا۔

نینا ڈوبرو


چار ٹکڑوں کو اکٹھا کرکے لباس بنایا گیا اور200 سے زائد گھنٹے لگے۔

کیٹی ہولیمس

زیادہ لباس کپڑے سے بنایا گیا تھالیکن لیف کالر تھری ڈی پرنٹد تھا۔اس کو بنانے کے لئے 56 گھنٹے لگے۔

جولیاگارنر

گزشتہ رات لال قالین پر سب سے تیز ترین پرنٹ ہیڈ پیس پر تھا۔ یہ پیس 22گھنٹوں میں مکمل ہوا۔ یہ لک سٹیرولیتھو گرافی پرنٹر کی بجائے ملٹی جیٹ فیوزن مشین پر کی گئی۔ ایم جے ایف پا ئوڈرایک وقت میں ایک پرت پر ڈالا جاتا ہےجو اسے چیز کے ساتھ ملا دیتی ہے۔

دیپکا پڈوکون

اس کی لک نے مختلف اپروچ لی۔تھری ڈی پرنٹس کو ایک کپڑے پر پھیلایا گیا۔ 408 ڈیکوریشنز کو 160 گھنٹے پرنٹ کرنے میں لگے۔

تحریر: ایرن ونک (Erin Winick)

Read in English

Authors

*

Top