Global Editions

جعلی ویڈيوز اب عام ہوتی جارہی ہیں

٢٠٢٠ء میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی جانے والی جعلی ویڈيوز منظرعام پر نظر آنا شروع ہوگئيں۔

2018ء میں رپورٹر سیم کول (Sam Cole) کو انٹرنیٹ پر ایک اندھیرنگری ملی، جہاں ریڈٹ کا ایک صارف مصنوعی ذہانت کے الگارتھمز کی مدد سے فحاش ویڈيوز پر مشہور افراد کی شکلیں چسپاں کر کے جعلی ویڈيوز بنانے میں مصروف تھا۔ کول نے ان ویڈیوز کے متعلق لوگوں کو آگاہی تو فراہم کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ انہيں عام ہونے سے نہ روک پائے۔ ایک سال کے اندر مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ویڈیوز، جنہيں ڈیپ فیکس (deepfakes) کہا جانے لگا، پورے انٹرنیٹ پر پھیل گئیں۔ ایسی کئی ایپس بھی منظرعام پر آنا شروع ہوئيں جن کی مدد سے خواتین کے کپڑے اتار کر ان کی برہنہ تصاویر بنائی جاسکتی تھیں۔

اس طرح ڈیپ فیکس کے متعلق منفی رائے قائم ہونا شروع ہوئی۔ آج بھی انہیں زیادہ تر فحاش ویڈیوز بنانے کے لیے ہی استعمال کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے انہيں ابھی بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ڈیپ فیکس کے ذریعے ایک خاتون صحافی کو خاموش کرنے کی کوشششیں کی جاچکی ہیں، اور ایک شاعرہ کو بھی بدنام کیا جا چکا ہے۔ ممکن ہے کہ آگے چل کر سیاست دانوں کی ڈیپ فیکس بنا کر جعلی خبریں پھیلا کر سیاسی عدم استحکام پھیلانے کی کوششیں کی جائيں۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ڈیپ فیکس کے لیے استعمال ہونے والے الگارتھمز میں بہتری آتی گئی، اور اب ان ویڈيوز کو فحاشی پھیلانے کے بجائے مثبت مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا۔ ہم اس تحریر میں آپ کو چند مثالیں  پیش کريں گے۔

آواز اٹھانے والوں کا تحفظ

کریڈٹ : ٹیئس میڈیا

چیچنیہ میں ہم جنس پرستوں پر تشدد کے متعلق ایک ڈاکیومینٹری میں دکھائے جانے والے افراد پر پردہ ڈالنے کے لیے ڈیپ فیکس کا استعمال کیا گيا تھا۔ چيچنیہ میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو اکثر ہراساں کیا جاتا ہے یا قتل کر دیا جاتا ہے۔ اسی لیے ویلکم تو چیچنیہ (Welcome to Chechyna) نامی اس فلم کے ڈائریکٹر ڈیوڈ فرانس (David France) نے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ان کی شکلیں تبدیل کردیں۔ انہوں نے دنیا کے دوسرے حصوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان کی اجازت حاصل کرکے اس ڈاکیومینٹری کے لیے ان کے چہروں کا استعمال کیا۔ اس طرح چیچنیہ سے تعلق رکھنے والے 23 ہم جنس افراد کو تحفظ فراہم کرنا ممکن ہوا۔

تاریخی واقعات پیش کرنے یا تبدیل کرنے کی کوشش

کریڈٹ : پینیٹا اور برگنڈ

جولائی میں ایم آئی ٹی کے دو ریسرچرز فرانچیسکا پینیٹا (Francesca Panetta) اور ہیلزی برگنڈ (Halsey Burgund) نے 1969ء کے اپولو خلائی مہم کی چاند پر لینڈنگ کو مختلف طریقے سے بیان کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے امریکی صدر رچرڈ نکسن کی اس تقریر کا استعمال کیا جو انہوں نے اس خلائی مہم کے ناکام ہونے کی صورت میں نشر کرنے کے لیے تیار کی تھی۔ ان ریسرچرز نے دو مختلف کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے جعلی آڈیو اور ویڈیو کی مدد سے صدر رچرڈ نکسن کی ڈیپ فیک ویڈيو بنائی۔ اس پراجیکٹ سے یہ ثابت ہوا کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی مدد سے تاریخ کو نئے سرے سے کس طرح لکھا جا سکتا ہے۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کو تاریخی واقعات پیش کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ فروری میں ٹائم میگازين (Time Magazine) نے ورچول ریئلٹی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے صارفین کو امریکی کارکن مارٹن لوتھر کنگ جونیئر (Martin Luther King Jr) کے مارچ آن واشنگٹن (March on Washington) کا تجربہ فراہم کیا۔ اس میں ڈیپ فیکس کا استعمال تو نہيں کیا گيا، لیکن چینی ٹیک کمپنی ٹین سینٹ (Tencent) نے ایک وائٹ پیپر میں بتایا کہ اس قسم کے تاریخی واقعات کو ڈیپ فیکس کے ساتھ کس طرح پیش کیا جاسکتا ہے۔

میمز

اس سال ڈیپ فیک ٹیکنالوجی میم بنانے والوں کے بھی ہاتھ لگ گئی، اور انہوں نے اس کا دل کھول کر استعمال کیا۔ ان میں سے سب سے زيادہ مقبول ثابت ہونے والی میم باکا مٹائی (Baka Mitai) تھی، جس کے بعد عوام نے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی خود کی میمز بنانا شروع کیں۔ یہ الگارتھم 2019ء میں شائع ہونے والے ایک ریسرچ پیپر کے باعث منظر عام پر آیا، اور اس کے ذریعے کسی شخص کی ویڈيو پر دوسرے افراد کی شکلیں چسپاں کرنا ممکن ہوا۔ اس کے نتیجے میں نکلنے والی میمز اور ویڈيوز کا ریزولوشن کچھ خاص اچھا تو نہيں ہے، لیکن لوگوں کو اس میں مزہ ضرور آتا ہے۔

کھیلوں کے اشتہار

پیشہ ورانہ کھیلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑی عام حالات میں اکثر اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ ان کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ ملاقات کرنا مشکل ثابت ہوتا ہے، اور ایک عالمی وبا کے دوران تو وہ جان بوجھ کر ایک دوسرے سے دور ہی رہے۔ اسی لیے کئی مشہور کھلاڑیوں کو ایک اشتہار میں ایک ساتھ دکھانے کے لیے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کی ضرورت پیش آئی۔ اگست میں سٹریمنگ سائٹ ہولو (Hulu) نے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی مدد سے فٹ بال اور ہاکی کے کھلاڑیوں پر مشتمل ایک اشتہار لانچ کیا۔ اس قسم کی ویڈيوز بنانے کے لیے کافی عرصے سے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا تھا، لیکن اب ڈیپ فیکس سے یہ کام اور بھی آسان ہوگیا ہے۔ ہولو کے علاوہ ای ایس پی این نے بھی ڈیپ فیکس کے ذریعے اشتہارات بنانے کی کوششیں کی ہیں۔

سیاسی مہمیں

ستمبر میں امریکی انتخابات سے پہلے غیرجانبدارانہ ایڈوکیسی گروپ ریپریزنٹ از (RepresentUs) نے دو اشتہار نکالے۔ ان میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے کم جانگ ان کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا کہ وہ اس بار انتخابات میں اس وجہ سے مداخلت نہيں کریں گے کیونکہ جمہوریت کو تباہ کرنے کے لیے امریکہ خود کافی ہے۔ اس سے پہلے فروری میں بھارتی سیاستدان منوج تواری نے متعدد سیاسی ویڈیوز بنائيں جن میں وہ ہریانوی زبان میں بات کرتے ہوئے نظر آرہے ہيں۔

ماہرین اکثر یہ کہتے نظر آتے ہيں کہ سیاسی ڈیپ فیکس عدم استحکام اور عام انتخابات میں خلل اندازی کا باعث بنیں گے۔ تاہم رپریزنٹ از نے ان ویڈیوز کے ذریعے آگاہی پھیلانے اور ووٹنگ کے حقوق کا تحفظ کرنے کی کوشش کی۔

ٹی وی پروگرامز

مشہور ٹی وی پروگرام ساؤتھ پارک (South Park) بنانے والے ٹرے پارکر (Trey Parker) اور میٹ سٹون (Matt Stone) نے اکتوبر میں دنیا کا سب سے پہلا ڈیپ فیک ٹی وی پروگرام شروع کیا، جس کی ہر ہفتے ایک نئی قسط نکلتی ہے۔ اس پروگرام کا مرکزی کردار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل رکھنے والا ایک رپورٹر ہے جو سابق امریکی نائب صدر ایل گور (Al Gore) اور صدر ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر (Jared Kushner) جیسے افراد کا انٹرویو کرتا ہے۔ اس ٹی وی پروگرام میں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی اسے ممکن بنانے والے الگارتھمز پر بھی بات کی جاتی ہے۔ پہلی قسط میں رپورٹر ڈیپ فیکس سے بنی خبروں کی حقیقت جاننے کی کوشش کرتا ہے۔

تحریر: کیرن ہاؤ (Karen Hao)، ول ڈگلس ہیون (Will Douglas Heaven)

تصویر: ایم ایس ٹیک (MS Tech)

Read in English

Authors

*

Top