Global Editions

اس سال ماحولیاتی تبدیلی کنٹرول سے باہر ہو رہی ہے

آگ نے مغرب کو،طوفان نے مشرق وسطی کو تباہ کر دیااور گیسوں کے اخراج بڑھ رہے ہیں۔

کئی دہائیوں سے سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی زیادہ بارش، سیلاب، طوفان، اور جنگلوں میں بار بار آگ لگائے گی یا تباہی اور تیزی سے دونوںواقعات اس سےاکٹھے رونما ہونگے۔

یہ حقیقت ہم پر اس وقت کھلی جب 2017ء میں جب بڑے طوفانوں نے مشرقی اور مغربی ساحل سمندروں کو تباہ و برباد کردیا اور مغرب میں آگ پھیلنے لگی۔

ہم یہ بھی واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ یہ خطرات کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی میں ایک خطرناک نقطے پر جمع ہو رہے ہیں۔اور ان سب بڑھے ہوئی خطرات سےنمٹنے کے لئے کئی دہائیاں ان کا سامنا کرنا پڑا گا ۔ اس کے باوجود ہم ابھی تک اس مسئلہ کے حل کے لئے ایک معقول حل نہیں ڈھونڈ سکے۔ دراصل ہم ماحولیاتی تبدیلی کی پالیسیوں، عالمی ریکارڈ، شمسی ترقی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے، ہائبرڈ کاریں، اور ٹیسلاز استعمال میں لانے کے باوجود ، گرین ہاؤسنگ گیس کے اخراج میں ہم ابھی بھی غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ اور جب تک کسی ایک گیس کا بھی فضا میں اخراج ہو رہا ہے، ہم اس مسئلہ کو بدترین بنا رہے ہیں۔

گیسوں کے اخراج دوبارہ بڑھ رہے ہیں

تین نسبتا فلیٹ سالوں کے بعد، گلوبل کاربن پروجیکٹ کے مطابق، حیاتیاتی ایندھن اور صنعتوں سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج دوبارہ 2017 میں دوفیصد بڑھ گیا ہے۔ یہ تبدیلی چین اور بھارت میں کاربن آلودگی کی وجہ سے ہوئی جبکہ امریکہ میں آلودگی میں تھوڑی کمی دیکھی گئی۔

ان خبروں نے یہ عارضی امیدیں مسترد کر دی ہیں کہ ماحولیاتی آلودگی کے رجحان میں کمی آئی ہے۔

دوسری چیزوں کے علاوہ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری مجموعی ماحولیاتی کوششوں کے باجود گرین ہاؤسنگ گیس کے اخراج میں کمی نہیں آئی اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب ہمیں اس کی اشد ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی پرقائم کئے گئے بین الحکومتی پینل کے مطابق فضا میں خطرناک دو سنٹی گریڈ درجہ حرارت کو روکنے کے لئے اس صدی کے نصف تک70فیصد گیسوں کے اخراج کو روکنا پڑے گا۔

بڑھتے ہوئے درجہ حرارت،پگھلتی برف اور انتہائی موسم کے واقعات نے واضح کیا ہے کہ فی ملین 400 سے زائد حصوں میں ہم کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بہت پیچھے ہیں۔

نومبر کے شروع میں موسمیات کی عالمی تنظیم نے اعلان کیا کہ سال 2017 ریکارڈ پر تین گرم ترین سالوں میں سے ایک ہے اورایل نینو ایونٹ سے متاثر نہ ہونیوالا گرم ترین سال ہے۔2013-2017 کے دوران گلوبل اوسط درجہ حرارت بھی سب سے زیادہ اس سال ریکارڈ کیا گیا۔کاربن ڈائی آکسائیڈ ہزاروں سالوں تک ماحول میں رہ سکتی ہیں اور تقریبا ایک دہائی میں زیادہ سے زیادہ گرمی کا اثر پیدا کر سکتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، جتنی تبدیلیاںہم نے دیکھی ہیں، ہم نے ابھی تک کاربن کے مکمل اثرات کو سہنا ہے جو ہم نے 2008 ء اور اس کے بعد ہر سال پیدا کئے۔ ہم گیسوں کے ہر اضافی کے اخراج سے ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات کو بڑھاتے ہیں جس سے اقتصادی، ماحولیاتی اور انسانیت کے لئے چیلنجز بڑھ جاتے ہیں۔

گلوبل وارمنگ پر بدترین تخمینہ کافی حد ٹھیک ہونے کا امکان ہے

دسمبر میں نیچر رسالے میں چھپنے والی ایک تحقیق کے مطابق اس صدی میں گلوبل وارمنگ کے لئے خطرناک اندازہ بھی سب سے زیادہ قابل اعتماد لگتا ہے۔ یہ بات ماحولیات کے ماڈلز کو پہلے والے ماحول کے مقابلے میں مشاہد ہ کرنے سے آئی۔

تحقیق نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دنیا بھر کا درجہ حرارت صدی کے اختتام تک تقریبا 5 سنٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل کے مطابق5 سنٹی گریڈدرجہ حرارت بڑھنے سے “معمول کے طور پر کاروبار”یعنی گیسوں کے اخراج میں 15 فی صد تک اضافہ کر سکتا ہے۔

مصنفین نے ایک دہائی سے زیادہ “ماحول کی سب سے اوپروالی تہہ ” کا سٹیلائٹ کے ذریعے مشاہدہ کیا اور مختلف عوامل عوامل ،جیسا کہ زمین سے بچ نکلنے والی شعائیں اور کتنی سورج کی روشنی بادلوں اور برف سے منعکس ہو کر واپس آتی ہے، کا مشاہدہ کیا۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے پہلے سے موجوداعداد و شمار کا موسمیاتی ماڈل کے نتائج سے موازنہ کیا۔ ان ماڈلز نے سب سے زیادہ گرمی کی پیش گوئی کی۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات اندازوں سے کئی گنا زیادہ ہیں اور ہمیں گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے گیسوں کے اخراج کو کم کرنا ہو گا۔

بہت زیادہ تیزطوفان

سمندری طوفان ہاروی نے 25 اگست کو جنوبی ٹیکساس کے ساحلوں کو پار کر دیا۔ ایسا امریکہ میں بارہ برسوں کے بعد پہلی دفعہ ہوا۔سمندری طوفان کئی دن تک ساحل پررہا جس سےکچھ علاقے 60 انچ سے بھی زیادہ بارش میں ڈوب گئے۔ اس طوفان سے 80 سے زائد افراد ہلاک جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔

سمندری طوفان ایما اور ماریہ نے بھی تباہی میں حصہ لیا۔ اس طرح سے2017 اٹلانٹک طوفان کے حوالے سے بہت مہنگا ثابت ہوا جس سے 200 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔

کئی حالیہ مطالعہ جات سے یہ نتیجہ حاصل ہوا کہ ماحول میں تبدیلی لانے سے بہت ہی عجیب و غریب واقات رونما ہوتے ہیں جیسا کہ ہاروی طوفان۔ دیگر موسمی عوامل کے درمیان، گرم ہوا زیادہ نمی رکھنے اورسطح سمندر کے بڑھ جانے سے طوفان کی تباہ کارویوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

دسمبر میں انوائرمنٹل ریسرچ لیٹرز میں شائع ہونے والی ایک مطالعہ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ گلوبل وارمنگ سےہاروی طوفان جیسے خطرات تین گنا زیادہ ہوگئے ہیں۔ دریں اثنا، ایم آئی ٹی میں ماحولیاتی سائنس کے پروفیسر اور سمندری طوفان کےتحقیق دان کیری ایممنیل نےپروسیڈنگ آف نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سمندری طوفان جیسے واقعات میں شدت آئے گی کیونکہ آب و ہوا گرم ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا ، “ہم ہروے قسم کی بارش کا امکان 20 ویںصدی کے آخر میں اور 21 صدی کے اوائل میں زیادہ دیکھتے ہیں کیونکہ ” معمول کے طور پر کاروبار ” کے مطابق” گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بڑھ رہا ہے۔

پگھلتے آرکٹک

دسمبر میں قومی سمندری اور ماحول انتظامیہ (این او اے اےNOAA ) نے اپنی ایک آرٹک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق شمالی قطب نئی نارمل سطح تک پہنچ چکا ہے اور اس منجمد علاقے میں واپس آنے کا کوئی نشان نہیں۔بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے گلیشیئروں کو سکیڑ دیا ہے اور سمندر میں برف کی سطح کو کم کر دیا ہے۔

اکتوبر 2016 اور ستمبر 2017 کے درمیان، 60 ویں متوازی شمال کے علاقے میں1900 کے بعد سے دوسری گرم ترین ہوا چلی۔ مارچ میں سیٹیلائٹ نے سمندر میں موسم سرما کی سب سے کم برف ریکارڈ کی۔

پگھلنے والے گلیشیر اور سمندر میں کم ہوتی برف خاص طور پر پریشان کن رجحانات ہیں کیونکہ یہ دوسرے عوامل کو متحرک کرتے ہیں جس سے سطح سمندر میں اضافہ ہوتا ہے۔اس پیش رفت سےماحول پر برے اثرات نمایا ں ہوتے ہیں جیسا کہ منعکس کرنے والی سفید برف اور برف کاسیاہ نیلے پانی تبدیل ہو جانا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آرکٹک خلا میں کم گرمی واپس بھیجے گا جس سے زیادہ گرمی ہوگی اورسطح سمندر میں اضافہ ہو گا۔

یونیورسٹی آف الاسکا کی پرمافروسٹ لیباٹری میں جیو فزیکس کے پروفیسر ولادی میر روموسوفس (Vladimir Romanovsky) کا کہنا ہے کہ “ہم الاسکا میں آرٹیک سمندر کےارد گرد کے علاقوں میں درجہ حرارت میں بہت بڑا اضافہ دیکھتے ہیں ۔اس کا مطلب ہے کہ یہ عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ تشویش کا دوسرا سبب یہ ہے کہ گرمی بڑھ رہی ہے ا ور اندرون الاسکا کے حصوں میں درجہ حرارت ایک خاص حد تک بڑھ چکا ہے۔الاسکا میں مسئلہ یہ ہے کہ اس کی سطح کے نیچے گرین ہائوس گیس جمع ہو چکی ہے۔ جیسا ہی یہ پگھلتا ہے،گرین ہائوس گیس خارج ہو کے ایک خاص سرکل بنا لیتی ہے۔

دسمبر کے شروع میں، لارنس لیور مور نیشنل لیب کے محققین نے آرکٹک سمندر کی برف میں کمی کی ایک اور ممکنہ وجہ پر روشنی ڈالی اور یہ نتیجہ نکالا کہ کیلیفورنیا میں وسیع پیمانے پر خشک سالی میں اس کا اہم کردار ہے اور مستقبل میں اس سے زیادہ خطرات ہو سکتے ہیں۔ آخر میں، اگرچہ یہ متضاد لگتا ہےلیکن آرکٹک سمندر میں درجہ حرارت بڑھنے سے سردی میں اضافہ ہو سکتا ہے جیسا کہ مشرقی ساحل میں ہوا ہے۔

بڑے پیمانے پر جنگلات میں آگ

مغرب اس سال آگ کی لپیٹ میں رہا، اور کیلی فورنیا، مونٹینا، آریگن اور دیگر کئی علاقوں میں لاکھوں ایکڑ زمین جل کر راکھ ہوگئے، جو اب تک کا ریکارڈ کردہ سب سے زيادہ مہنگا آگ کا موسم ثابت ہوا۔۔

کیلی فورنیا کے محکمہ جنگلات اور آگ سے بچائو کے اعداد و شمار کے مطابق صرف کیلی فورنیا میں ہی آگ کی وجہ سے دس لاکھ ایکڑ سے زيادہ زمین تباہ ہوگئی۔ سانتا باربربا کے قریب تھامس آگ سے 280,000 ایکڑ تہس نہس ہوگئے، جو اس ریاست کی سب سے بڑی آگ تھی۔ شمالی کیلی فورنیا میں لگنے والی آگ اس سے بھی سے زیادہ تباہ کن رہی جس سے تقریبا 9,000 عمارتیں جل گئے اور 44 افراد ہلاک ہو گئے۔

جنگلوں میں آگ ماحولیاتی تبدیلی کی ــ”وجہــ’ سے نہیں ہے۔یہ آسمانی بجلی اور بجلی کی تاروں کے گرنے سے بھی ہو سکتی ہے۔ دوسرے انسانی عوامل جس میں دہائیوں سے آگ کو کنٹرول کر کے رکھنا شامل ہیں،نے شدت میں اضافہ کیا ہے۔ لیکن گلوبل وارمنگ نے حالات کو بدترین کر دیا ہے۔

پروسیڈنگز آف ٹی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (Proceedings of the National Academy of Sciences) میں 2016ء میں شائع ہونے والے مطالعہ کے مطابق، ماحولیاتی تبدیلی کے انسانی وجوہات کے باعث گزشتہ 30 سالوں کے دوران مغرب میں جنگلات کی آگ سے متاثرہ علاقے میں دو گنا اضافہ ہوگیا ہے، اور 16،000 مربع میل رقبہ زیادہ جھلس گئی ہے۔

زیادہ درجہ حرارت مٹی، درختوں اور پودوں کی نمی چوس لیتے ہیں جس کی وجہ سے جنگلات میں زیادہ جلدی بھی لگتی ہے اور زيادہ دور تک بھیلتی ہے۔ کیلی فورنیا کی بڑھتی ہوئی گرمی میں 2012ء اور 2016ء کے درمیان پڑنے والی طویل خشک سالی کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے، جس سے نہ صرف وسیع پیمانے پر جنگلات کو خشک ہوگئے ہيں بلکہ درختوں کے چھلکوں میں کیڑوں کی بھی وجہ سے تباہی ہورہی ہے۔ کیلی فورنیا کے آگ سے بچائو کے محکمہ کے مطابق زیادہ درجہ حرارت اور خشک سالی کی وجہ سے تقریبا 9 ملین ایکڑ پر کھڑے 129 ملین درخت ختم ہوگئے ہيں۔ اس سے نہ صرف جنگلات میں آگ لگنے کے خطرے میں اضافہ ہوگیا ہے، بلکہ وافر مقدار میں ایندھن بھی پیدا ہورہا ہے۔

ایٹلانٹک میں ایک کیس کے مطابق 2017ء میں آگ اور طوفانوں کی وجہ سے سب سے زیادہ اخراجات کی وجہ سے یہ سال اب تک کا مہنگا ترین سال رہا ہے۔

پین سٹیٹ ارتھ سسٹم سائنس سینٹر کے ڈائریکٹر مائیکل مین ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو ایک ای میل میں بتاتے ہيں “جنگلات کی آگ اور ایٹلانٹک میں طوفانی موسم دونوں ہی پریشان کن ہیں۔ میری نظر میں یہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے زیادہ خراب ہونے والے موسم کی ایک ہی تصویر کے دو مختلف رخ ہیں۔” جنگلات کی آگ کا ایک اور خطرہ یہ بھی ہے کہ ان کی وجہ سے جنگلات میں بہت جلدی پیدا ہونے لگتی ہے، جس سے ماحولیاتی تبدیلی کا ایک اور سائیکل شروع ہوجاتا ہے۔ بلکہ کیلی فورنیا کے جنگلات نے 2001ء اور 2010ء کے درمیان کاربن ڈائی آکسائيڈ جذب کرنے سے زیادہ خارج کی ہے، اور نیشل پارک سروس اور یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے کے محققین کی 2015ء میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اس اخراج کے دو تہائی حصے کی وجہ جنگلات کی آگ تھی۔

اس فہرست کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دور دراز واقعات کے درمیان تعلقات کی وجہ سے کس طرح خود کو تقویت دینے والے سائیکلز قائم ہوجاتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے اخراج کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے سمندری برف پگھلتی ہے، گرمائش اور خشک سالی میں اضافہ ہوتا ہے، جنگل کی آگ زیادہ وسیع پیمانے پر پھیلتی ہے، اور اس سب کی وجہ سے اخراج میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور یہ پورا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس سب کا مطلب ہے کہ ان حالات سے نکلنا مشکل ہوتا رہے گا۔ لہذا ضرورت ہے کہ ہم جلد ہی کوششیں شروع کردیں۔

تحریر:جیمز ٹیمپل(James Temple)

Read in English

Authors

*

Top