Global Editions

دنیا کا سب سے طاقتور سپر کمپیوٹر مصنوعی ذہانت کے دور کے لئے تیار ہے

امریکہ کی نئی سمٹ مشین بنانے کے لئے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ہمیں ایگزاسکیل کمپیٹونگ کے لئے چھلانگ لگانے میں مدد گار ہو گی۔

2013 ء سے چینی مشینیں دنیا کے سب سے طاقتور سپر کمپیوٹرز کی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر ہیں۔

اب امریکہ واپس اوپر والے نمبر پر آ گیا ہے۔ٹینسی میں امریکی ڈیپارٹمنٹ آف انرجی کی اوک ریج نیشنل لیب (US Department of Energy's Oak Ridge National Lab) میں انجیئنرز نے سپر کمپیوٹر سمٹ (Summit) کی نقاب کشائی کی ہے جس کی پروسیسنگ پاور چین کے موجودہ ریکارڈ ہولڈر کمپیوٹر سن وے تےہو لائٹ (Sunway TaihuLight) سے کافی زیادہ ہے۔

نئی مشین کی کارکردگی 200 پیٹا فلاپس (Petaflops) ہے یعنی یہ 200 ملین بلین فی سیکنڈ کے حساب سے گنتی کر سکتا ہے۔ اس تناظر میں سجمھ لیں، زمین پر سارے بندے ہر روز ہر سیکنڈ میں 365 دن تک جو گنتی کرتے ہیں وہ مشین ایک پل جھپکنے میں کر سکتی ہے۔ سمٹ مشین چینی کمپیوٹر تےہو لائٹ کے مقابلے میں 60 فیصد زیاد ہ تیز ہے اور ٹائٹن نامی پہلے سے اوک ریج لیب میں موجود مشین سےبھی تقریباً آٹھ گنا تیز ہے ۔ سمٹ سے پہلے اوٹن مشین امریکی سپر کمپیوٹنگ کا ریکارڈ رکھتی تھی۔

لیکن یہاں صرف قومی فخر نہیں ہے جو خطرے میں ہے۔ سپر کمپیوٹرز پہلے سے ہی انڈسٹری میں نئے طیارے کو ڈیزائن کرنے سے لیکر نئے مواد تیار کرنے تک ہر چیز میں موجود ہیں۔کچھ سپر کمپیوٹرز کو آرمی جوہری ہتھیاروں کا ڈیزائن تیار کرنے کے لئے استعمال کر رہی ہے او کچھ کو سائنسدان بنیادی تحقیق کے لئے استعمال کر رہے ہیں اگر طاقتور ترین کمپیوٹر امریکہ میں ہے تو امریکی تحقیق دانوں اور فوج کو اضافی فائدہ ہوگا۔

اوک ریج میں ٹیم کا کہنا ہے کہ سمٹ پہلا ایسا کمپیوٹر ہے جسے مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز جیسا کہ مشین لرننگ اور نیوٹرل ورکس کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ سمٹ کمپیوٹر میں نوئیڈا کی بنائی ہوئی 27,000جی پی یو چپس ہیں جس نےمصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنز کو نئی جدت بخشی تھی۔ اس میں آئی بی ایم کی پاور9 چپس بھی ہیں جو کمپنی نے مصنوعی ذہانت کے ورک لوڈ سے نمٹنے کے لئے پچھلے سال استعمال کی تھیں۔ سمٹ کمپیوٹر میں ڈیٹا کی ترسیل کے لئےالٹرا فاسٹ کمیونیکشن لنک بھی لگائے گئے ہیں۔

آئی بی ایم کے باب پیکانیو(Bob Picciano) کا کہنا ہے کہ یہ سب چیزیں سمٹ کو ٹائٹن کے مقابلے میں کچھ ایپلی کیشنز 10 گنا تیزی سے چلانے کی اجازت دیتی ہیں جبکہ یہ بجلی صر ف 50فیصد زیادہ استعمال کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت سےمتعلق پروجیکٹ میں سپرکمپیوٹر لکھی ہوئی رپورٹس اور میڈیکل کے امیجز چیک کریگا اور جین اور کینسر کے درمیان ممکنہ تعلق کی شناخت کریگا۔

سمٹ جیسے زیادہ طاقتور سپر کمپیوٹرز ایڈوانس نالج کے ایریاز جیسا کہ ماحولیاتی ماڈلنگ میں معلومات کو آگے بڑھانے میں مدد کریں گے۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں کارنیجی انسٹی ٹیوٹ فار سائنس کے پیٹرک برائون کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا چیلنج بادلوں کے رویے کی ماڈلنگ کا ہے جن کا گرمی پر بڑا اثر ہوتا ہے۔

زیادہ کمپیوٹنگ طاقت کے ساتھ، وہ کہتے ہیں، سمٹ جیسے کمپیوٹرز کے لئے بادلوں میں ہونیوالی تغیرات بہت کوزیادہ تفصیل سے ماڈلنگ کرنا آسان ہو جائے گا۔ یہ چیز مختلف ماحولیاتی ماڈلز کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں مدد دیگی۔

سمٹ کمپیوٹنگ میں ایک بڑا سنگ میل ہے: ایکزا فلاپ کے قابل مشین یاایک سیکنڈ میں بلین بلین گنتی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پہلے ہی اس سنگ میل کو حاصل کرنے کے لئے ایک بین الاقوامی دوڑ جاری ہے، جس میں امریکہ اور چین اہم کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں۔ امریکہ اس طرح کی کئی مشینیں تیار کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ ہر مشین کی قیمت 400ملین ڈالر سے 600ملین ڈالر ہو گی۔اس حوالے سے امریکہ کی نویڈا، آئی بی ایم اور انٹیل جیسی کمپنیوں سے بات چیت جاری ہے۔مقصد یہ ہے کہ ایک یا ایک سے زائد یہ ایگزا سکیل کمپیوٹرز حاصل کئے جائیں جو 2021 اور 2023 ء کے درمیان چل رہے ہوں۔

اوک ریج کے جیک ویلز (Jack Wells) کا کہنا ہے کہ سپر کمپیوٹر سمٹ کو بنانے کے تجربہ نے ایگزا سکیل مشینوں کی ضروریات بارے بتایا ہے۔ سمٹ دوٹینس کورٹس کے برابر رقبہ گھیرتا ہے اور ایک منٹ میں اپنے کولنگ سسٹم میںپانی کے 4,000 گیلن اٹھاتا ہے تاکہ 13میگا واٹ گرمی کو ہٹا سکے۔

اس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ ایگزا سکیل مشینوں کے لئے اس سے زیادہ متاثر کن انفراسٹرکچر کی ضرورت ہو گی۔ سمٹ کی ایڈوانس میمور ی منیجمنٹ اور ہائی بینڈوڈتھ بڑی مقدار میں پیدا ہونیوالے ڈیٹا کو ہینڈل کرنے کے لئے ضروری ہو نگے۔ نیشنل لیب کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے پہلے سے ہی سمٹ کے مصنوعی ذہانت کے نظام کو جینومک گنتی کے ساتھ منسلک کیا ہے۔

ان جیسی پیش رفتوں کی بدولت سمٹ ہمیں کمپیوٹنگ پاور کی چوٹی تک پہنچنے میں مدد دیگا۔

تحریر: مارٹن گائل (Martin Giles)

Read in English

Authors
Top