Global Editions

ٹک ٹاک ایپ قومی تحفظ کے لیے خطرہ کیوں بن سکتی ہے؟

روئیٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت نے قومی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے چینی ویڈیو پلیٹ فارم ٹک ٹاک کا جائزہ شروع کرلیا ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ یہ وائرل ایپ امریکہ کے زوال کی وجہ بن سکتی ہے۔

ٹک ٹاک کیا ہے؟ ٹک ٹاک ایک سوشل نیٹورک ہے جس میں لوگ مختصر ویڈيوز بناسکتے ہيں اور ری مکس کرسکتے ہيں۔ ماضی میں Musical.ly کے نام سے مشہور اس کمپنی کو بائٹ ڈانس (ByteDance) نامی چینی کمپنی نے 2017ء میں خرید لیا تھا۔ ٹک ٹاک امریکہ میں مقبول ہونے والی پہلی بیرون ملک ایپ ہے، اور اس کا پاپ کلچر کو تبدیل کرنے میں بہت بڑا ہاتھ ہے۔

مسئلہ کیا ہے؟ اطلاعات کے مطابق اس ایپ کو اسلامک سٹیٹ کی طرف سے پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ دی گارڈین (The Guardian) نامی اخبار کی تفتیش کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹک ٹاک میں ان ویڈیوز کو سینسر کیا جاتا ہے جن پر چینی حکومت کو اعتراض ہوسکتا ہے، جن میں تبت کی آزادی کے متعلق ویڈيوز شامل ہيں۔ کچھ ماہرین کو اس بات کا بھی ڈر ہے کہ ٹک ٹاک چینی کمیونسٹ پارٹی کو امریکی شہریوں کا ڈیٹا فراہم کرے گا یا اس ایپ کو بیرون ملک عناصر کی پھیلائی ہوئي غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ تین امریکی سینیٹرز، مارکو روبیو (Marco Rubio)، چک شومر (Chuck Schumer) اور ٹام کاٹن (Tom Cotton) نے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ اب کمپنی آن فارن انویسٹمنٹ ان دی یو ایس (Committee on Foreign Investment in the US – CFIUS) یہ جاننے کی کوشش کررہی ہے کہ کیا دو سال قبل بائٹ ڈانس کا Musical.ly کو خریدنے کا فیصلہ درست تھا۔

اب کیا ہوگا؟ اس وقت بہت کچھ کیا جاسکتا ہے لیکن سب سے پہلا کام کمپنی کے ڈیٹا پریکٹیسز کا آڈٹ ہوگا۔ ممکن ہے کہ بائٹ ڈانس کو اپنا امریکی کاروبار کسی ایسی کمپنی کو فروخت کرنے کا حکم دے دیا جائے جس کا ہیڈکوارٹر چین میں نہ ہو، ٹھیک اسی طرح جس طرح گرائنڈر (Grindr) کی پیرنٹ کمپنی کو حساس ڈيٹا رکھنے کی وجہ سے ایپ فروخت کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل ایکنامکس (Peterson Institute for International Economics) کی وزٹنگ فیلو کلاڈیا بیان کوٹی (Claudia Biancotti) کا کہنا ہے کہ گرائنڈر کے مقابلے میں ٹک ٹاک بہت بڑا کاروبار ہے جس کی وجہ سے اسے فروخت کرنا مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔

دوسرا راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس ایپ پر پابندی عائد کردی جائے۔ یہ پابندی دو اقسام کی ہوسکتی ہے۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اس ایپ کو صرف مسلح افواج سے وابستہ افراد کے لیے ممنوعہ قرار دیا جائے۔ دوسرا طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس پر پورے ملک میں پابندی عائد کردی جائے، جس طرح بھارتی حکومت نے اپریل میں بچوں پر فحاش مواد کے اثرات کے متعلق خدشات کے باعث ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی تھی۔ لیکن پابندی عائد کرنے کے نتیجے میں شدید ردعمل سامنے آسکتا ہے اور اس قسم کے فیصلے کا امکان بہت کم ہے۔

ٹک ٹاک کا کیا ردعمل ہوگا؟ ٹک ٹاک نے حال ہی میں مشمولات کے متعلق رہنمائی اصولوں کی تیاری کے لیے قانون سازوں کی مدد حاصل کی ہے، اور توقع کی جاتی ہے کہ ان اصولوں کو اس طرح سے تشکیل کیا جائے گا کہ ان کی کمپنی پر سینسرشپ کا الزام عائد نہ کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہيں کہ امریکی شہریوں کے متعلق ڈیٹا کو امریکہ کے بجائے سنگاپور (نہ کہ چین) میں ذخیرہ کیا جائے۔ روئیٹرز کے مطابق ٹک ٹاک اس سلسلے میں سی ایف آئی یو ایس سے رابطے میں ہے۔

تحریر: اینجلا چین (Angela Chen)

Read in English

Authors

*

Top