Global Editions

اقوام متحدہ کے مطابق کمپیوٹر سیمولیشن ٹولز سے عالمی ترقی میں اضافہ ہوسکتا ہے

اقوام متحدہ ایک ایسے کمپیوٹر سیمولیشن ٹول کو فروغ دے رہی ہے جس سے اس کے مطابق جنسی تفریق سے لے کر ماحولیاتی تبدیلی تک، دنیا کے اہم ترین مسائل کا حل ممکن ہوگا۔

عالمی چیلنجز: 2015ء میں اقوام متحدہ کے ممبران نے 2030ء تک ”غربت کا مکمل خاتمہ“، ”بھوک کا مکمل خاتمہ“ اور ”صاف اور کم قیمت توانائی“ سمیت 17 اہداف کے حصول کے متعلق معاہدہ کیا تھا۔ یہ مسائل اس قدر وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں کہ موجودہ وسائل کے ساتھ ان کا حل بہت مشکل ہے۔

اس ٹول سے کس طرح فائدہ ہوسکتا ہے؟ اس ٹول کو پالیسی پرائیورٹی انفرنس (Policy Priority  Inference) کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں علوم معیشیات کے بنیادی اصول کا فائدہ اٹھایا گیا ہے، جس کے مطابق حکومتوں کے وسائل محدود ہونے کی وجہ سے ان کے لیے ہر ایک خواہش کو پورا کرنا ممکن نہيں ہے۔ پالیسی پرائیورٹی انفرنس کی ماڈلنگ کے ذریعے محدود رقم کو ایک پراجیکٹ سے ہٹا کر دوسرے پراجیکٹس میں لگانے کے فوائد اور نقصانات سیمولیٹ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ اور اس پراجیکٹ میں انہیں معاونت فراہم کرنے والے لندن کے ایلن ٹیورنگ انسٹی ٹیوٹ (Alan Turing Institute) کے مطابق، اس سے حکومتوں کے لیے یہ جاننا زیادہ آسان ہوگا کہ انہيں کن پراجیکٹس کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس وقت میکسیکو اور یوروگوائے میں اس ٹول کی ٹیسٹنگ کی جارہی ہے، جس کے بعد اسے کولمبیا میں متعارف کیا جائے گا۔ برطانیہ کا ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولمپنٹ (Department for International Development) بھی اس میں دلچسپی لے رہا ہے۔

یہ ٹول کس طرح کام کرتا ہے؟ پالیسی پرائیورٹی انفرنس کا ٹول علوم معیشیات اور نیٹورک تھیوری کے اصولوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رقم مختص کرنے والی ”حکومت“ اور اس رقم کو مختلف پراجیکٹس پر خرچ کرنے والے ”افسران“ کی سیمولیشن کرتا ہے۔ لندن اور میکسیکو سے تعلق رکھنے والے ماہرین معیشیات کی مدد سے تیار کردہ اس ماڈل میں حکومتی بجٹس، ماضی میں نافذ کی جانے والی پالیسیوں پر رقم خرچ کرنے کے اثرات، قانونی نظام کی اثراندازی، اور معلوم شدہ مسائل کے باعث ممکنہ نقصانات جیسے عناصر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کونسی پالیسیاں سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہيں۔

یہ ٹول پالیسی سازوں کو اپنے فیصلوں کے اثرات کی بہتر طور پر پیشگوئی کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ مثال کے طور پر، تعلیمی بجٹ میں اضافے سے جنسی تفریق میں کمی تو ہوگی، لیکن ممکن ہے کہ جی ڈی پی میں اضافے سے ماحولیاتی تبدیلی کی شرح میں بھی بہت تیزی سے اضافہ ہو۔

اس سے کیا فرق پڑے گا؟ پالیسی پرائیورٹی انفرنس سے پالیسیوں کے ممکنہ اثرات کا بہتر طور پر تجزیہ کرنے میں تو معاونت مل سکتی ہے، لیکن ساتھ ہی اس ٹول کی کئی خامیاں بھی ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی ماڈل کی درستی کا انحصار اس میں استعمال کیے جانے والے ڈیٹا پر ہے، اور ممکن ہے کہ کچھ ممالک یہ ڈیٹا فراہم نہ کرنا چاہیں۔ اس کے علاوہ، سیمولیشنز میں حقیقت کو بہت غیرپیچیدہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جس سے ماڈلنگ کی درستی متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم ابھی 2030ء میں صرف ایک دہائی رہ گئی ہے اور اقوام متحدہ کے اہداف کے حصول میں بہت کام پڑا ہے۔ اسی لیے اقوام متحدہ اور اس کے ممبران کو اس ٹول کو زیرغور لینا چاہیے۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

Read in English

Authors

*

Top