Global Editions

دنیا کی سب سے پہلی کرونا وائرس ویکسین کو منظوری مل گئی ہے

بیلجیم میں ایک شخص خشک برف کی مدد سے ویکسینز کو ٹھنڈا رکھ رہا ہے۔
برطانیہ نے فائزر کی ویکسین کے لیے ہنگامی منظوری دے دی ہے۔ ضعیف العمر اور بیماری کا زیادہ خطرہ رکھنے والے افراد کو ترجیح دی جائے گی۔

برطانوی ضابطہ کار حکام نے فائزر (Pfizer) اور بائیو این ٹیک (BioNTech) کی مشترکہ covid-19 کی ویکسین کو منظوری دے دی ہے۔ اس طرح برطانیہ کرونا وائرس کی ویکسین کی ہنگامی منظوری دینے والا پہلا ملک بن گیا۔ برطانیہ نے پہلے ہی اس سال اور 2021ء میں ویکسین کی کل ملا کر چار کروڑ خوراکیں خریدنے کا معاہدہ طے کیا تھا، اور انہیں پہلا بیچ چند دنوں میں موصول ہوجائے گا۔ ہر شخص کو ویکسین کی دو خوراکیں درکار ہوں گی، جس کا مطلب ہوگا کہ دو کروڑ افراد کو ویکسین دی جاسکے گی۔ فائزر اور بائیو این ٹیک کے مطابق، ان کی ویکسین خریدنے والے ممالک کو مرحلہ وار فراہم کی جائے گی، تاکہ خوراکوں کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جاسکے۔ توقع کی جارہی ہے کہ امریکہ اور یورپی اتحاد بھی دسمبر تک ویکسینز کو ہنگامی منظوری دے دیں گے۔

فیصلہ لینے کی وجہ: برطانیہ کے میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر پراڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی (Medicines & Healthcare  Products Regulatory Agency) نے ٹرائلز کا ڈیٹا سامنے آتے ہی، جس کے مطابق اس ویکسین کی اثراندازی 95 فیصد رہی، ڈیٹا کا مطالعہ شروع کردیا تھا۔ فائزر کے مطابق ان کے ٹرائلز 44،000 افراد پر منعقد کیے گئے تھے، اور ان میں سے صرف 170 کرونا وائرس کے کیسز سامنے آئے۔ ہر ٹرائل کی طرح فائزر کے ٹرائلز میں شرکت کندگان کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے ایک کو ویکسین کا پروٹوٹائپ اور دوسرے کو ایک بے اثر گولی دی گئی تھی۔ کرونا وائرس کا شکار ہونے والے 170 افراد میں سے صرف آٹھ کا تعلق اس گروپ سے تھا جسے ویکسین کا پروٹوٹائپ دیا گيا تھا۔ فائزر نے مزيد بتایا کہ ان کے مطالعے میں ویکسین کے حوالے سے حفاظتی خدشات بھی سامنے نہیں آئے تھے۔ شرکت کنندگان کو تھکن اور کم شدت کے سر میں درد کی شکایت رہی، لیکن فائزر کے مطابق صرف کم عمر کے افراد ان مسائل کا شکار تھے۔  بائیو این ٹیک کے سی ای او اور بانی یوگور ساہن (Ugur Sahin) کہتے ہيں کہ ”ہمارا خیال ہے کہ برطانیہ میں ویکسین کا پروگرام متعارف کرنے سے اس مرض کا خطرہ رکھنے والے افراد کے ہسپتال میں داخلے کی شرح میں کمی آئی گی۔“ عام طور پر کسی ویکسین کی تیاری میں کئی سال لگ جاتے ہیں، اور کرونا وائرس کی یہ ویکسین اس وجہ سے بھی مختلف ہے کیونکہ یہ صرف 10 ماہ کے اندر سامنے آئی۔

آگے کیا ہوگا؟ ویکسین کی منظوری کے بعد تقسیم کا مرحلہ شروع ہوگا۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوگا کہ اس ویکسین کو منفی 70 ڈگری سیلسیس پر رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ فائزر اور بائیو این ٹیک نے اس ویکسین کو اس درجہ حرارت پر رکھنے کے لیے خشک برف کے ڈبے بھی تیار کیے ہیں۔ برطانیہ میں اب اس کی تاریخ کی سب سے وسیع ویکسینیشن مہم شروع ہونے والی ہے۔ یہاں کی حکومت نے محض چند روز کے اندر ضعیف العمر اور اس مرض کے خطرے کے شکار افراد کی ویکسینیشن کے لیے منصوبے تیار کرلیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ”ترجیحی“ فہرست بھی تیار کی گئی ہے، جس کے مطابق کیئر ہوم میں رہنے والے، 80 سال سے زائد عمر، اور ہیلتھ کیئر کے شعبے سے وابستہ افراد کو سب سے پہلے ویکسین فراہم کی جائے گی۔ مزید خوراکیں ملنے کے بعد، برطانیہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد اور پہلے سے کسی مرض کے شکار کم عمر افراد کی ویکسینیشن شروع کرے گا۔ یہاں کی نیشنل ہیلتھ سروس (National Health Service) لوگوں کو ان کی باری آنے پر ان سے رابطہ کرے گی۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

Read in English

Authors

*

Top