Global Editions

کیمبرج کے امتحانات کے غیراطمینان بخش نتائج: ایک درست سسٹم کے بغیر الگارتھمز بے کار ہيں

مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب امتحانات کے لیے ذمہ دار ادارے معیاری نتائج کی کھوج میں لگ گئے اور یہ بھول گئے کہ امتحانات کا مقصد کیا ہے۔

کرونا وائرس کے باعث برطانیہ میں کیمبرج سمیت امتحانات کے مختلف بورڈز کے لیے ایک مشکل کھڑی ہوئی۔ طلباء کو یونیورسٹی میں داخلے کے لیے کسی نہ کسی طرح امتحانات کے نتائج حاصل کرنے کی ضرورت تھی، لیکن covid-19 کی وجہ سے وہ امتحانات دینے سے قاصر تھے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے برطانوی امتحانات کے ذمہ دار ادارہ جات نے ایک متبادل کی تلاش شروع کردی۔

ان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ امتحانات دیے بغیر طلباء کی تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر منصفانہ نتائج کس طرح حاصل کیے جائيں؟ اساتذہ نے طلباء کے سابقہ امتحانات کی بنیاد پر او اور اے لیولز کے نتائج کی پیشگوئی تو کی تھی، لیکن ان میں تعصب کا عنصر موجود ہونے کا خدشہ تھا۔ ماہرین کی متعدد میٹنگز اور طویل و عریض بحث کے بعد، آفس آف کوالیفیکیشنز اینڈ ایکسیمینیشنز ریگولیشن (Office of Qualifications and Examinations Regulation)، یعنی آف کوال (OfQual) نے ایک الگارتھم کا سہارا لیا، اور یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

اس الگارتھم کے باعث چالیس فیصد کے قریب طلباء کے نمبر ان کے اساتذہ کی پیشگوئیوں سے کہیں کم تھے، جس کی وجہ سے ان کے یونیورسٹیوں میں داخلے منسوخ ہونے کا خطرہ تھا۔ اس کے علاوہ، الگارتھم کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ غریب اور پسماندہ کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے طلباء کے نتائج توقعات سے زيادہ خراب اور مہنگے پرائیوٹ سکولز میں پڑھنے والے طلباء کے نتائج توقعات سے کہیں بہتر رہے۔ 16 اگست کو لندن میں واقع محکمہ تعلیم کے دفتر کے باہر سینکڑوں افراد نے پرزور احتجاج کیا، جس کے جواب میں اگلے روز آف کوال نے نتائج تبدیل کرنے کی حامی بھرلی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اساتذہ کی پیشگوئیوں اور الگارتھم کے نتائج کا آپس میں موازنہ کیا جائے گا اور جس پیمانے سے بہتر ریزلٹ آئے گا، طلباء کو اس کے مطابق نمبر دیے جائيں گے۔

ہم اکثر الگارتھمز کے “تعصب” کی بات کرتے ہيں اور برطانیہ کے امتحانات کی روداد اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس قصے کے بعد کئی ماہرین نے بورڈ کے امتحانات میں استعمال ہونے والے الگارتھم کا تجزیہ کیا، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ سب کچھ تو ہونا ہی تھی۔ اس الگارتھم کی تربیت کے لیے طلباء کی سابقہ تعلیمی کارکردگی کے ساتھ سکول کی اوسط کارکردگی کا بھی استعمال کیا گیا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی درمیانے درجے کے سکول میں پڑھنے والے ذہین طالب علم کو توقعات سے کم نمبر ہی ملنے والے تھے۔

تاہم اس مسئلے کی جڑ ناقص ڈیٹا یا الگارتھم نہيں ہيں۔ غلطیوں کا سلسلہ الگارتھم کے استعمال کا فیصلہ کرنے سے پہلے ہی شروع ہوچکا تھا۔ آف کوال یہ بھول گیا تھا کہ پہلے سے پریشان طلباء کو مزيد پریشانی سے بچانا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہيں امتحانات کے نمبروں کے بجائے امتحانات کے پراسیس پر زيادہ توجہ دینے کی ضرورت تھی۔

بچوں کے حقوق اور ٹیکنالوجی کے لیے کام کرنے والے امریکی ادارے ہیومن رائٹس واچ (Human Rights Watch) کے ریسرچر ہائے جنگ ہان (Hye Jung Han) کہتے ہيں کہ ”وہ اس مقصد میں بری طرح ناکام ہوگئے۔ ان کو اپنے پراسیسز کی نظرثانی کرنے کی ضرورت تھی، لیکن انہوں نے ایسا نہيں کیا۔“

امتحانات منسوخ ہونے کے بعد آف کوال کے سامنے دو راستے تھے۔ پہلا تو یہ تھا کہ امتحانات میں حاصل کردہ نمبروں کو بڑھا چڑھا کر بیان نہ کیا جائے۔ دوسرا یہ تھا کہ یونیورسٹی میں داخلے کی ضروریات پیش نظر رکھتے ہوئے طلباء کو ہر ممکنہ حد تک منصفانہ نمبر دیے جائيں۔ سیکریٹری آف سٹیٹ کی ہدایات کے مطابق آف کوال نے پہلا راستہ چنا۔ یونیورسٹی کالج لندن کی لیکچرار اور Hello World: How to Be Human in the Age of the Machine نامی کتاب کی مصنفہ ہینا فرائی (Hannah Fry) کہتی ہيں کہ ”میرے خیال میں ان کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے غلط انتخاب کیا۔ اگر آپ کی منزل ہی غلط ہوگی تو الگارتھم سے کوئی فرق نہيں پڑے گا۔ آپ کے نتائج ہمیشہ ہی غلط ہوں گے۔“

آف کوال کے تمام فیصلوں کے پیچھے یہی منطق تھی، جس کے چکر میں انہيں اور کچھ نظر ہی نہيں آیا۔ انہوں نے معیاری نتائج حاصل کرنے کے لیے اعداد و شمار استعمال کرنے والا ایک ماڈل اپنایا، جو 2019ء کے نتائج کی بنیاد پر 2020ء کے نتائج کی پیشگوئی کرنے کے لیے بنایا گيا تھا۔

اگر آف کوال نے امتحانات کے نمبروں کے بجائے یونیورسٹیوں کے داخلے کو ترجیح دی ہوتی تو شاید یہ سب کچھ نہ ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ الگارتھم استعمال ہی نہ کرتے اور یونیورسٹیوں کے داخلے میں بورڈ کے امتحانات کی اہمیت پر غور کرتے۔ ہان کہتے ہیں کہ ”انہيں امتحانات میں حاصل کردہ نمبروں کے بجائے یہ دیکھنے کی ضرورت تھی کہ ان نمبروں کا آخر مقصد کیا ہے؟ وہ یہ بھول گئے تھے کہ امتحانات کی کامیابی کا اصل مقصد محض اچھے نمبر حاصل کرنا نہيں بلکہ ایک اچھی یونیورسٹی میں داخلہ ہے جس سے آگے چل کر اچھی ملازمتیں مل سکتی ہيں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو وہ یونیورسٹیوں کو اعتماد میں لیتے اور انہيں بتاتے کہ اس بار نتائج کی نوعیت مختلف ہوگی، لِہٰذا جن فیصلوں میں امتحانات کے نتائج کو اہمیت دی جاتی تھی، ان میں لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔“

دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اس الگارتھم کے چکر میں آف کوال یہ بھول گیا کہ پورا سسٹم صحیح نہيں ہے۔ ہان کہتے ہیں کہ ”بورڈ کے امتحانات کے نتائج کے تعین کے دوران کرونا وائرس کے وجود کو خاطر میں نہيں لیا گیا تھا اور یہ سراسر ناانصافی ہے۔ اس وبا سے یہ بات کھل کر واضح ہوگئی کہ ہر ایک کو انٹرنیٹ تک مساوی رسائی حاصل نہیں ہے، جس کے باعث طلباء کی پڑھائی بری طرح متاثر ہوئی، اور آف کوال کے الگارتھم میں اس صورتحال کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔“

آف کوال کے علاوہ دوسرے ادارے بھی ان مسائل کا شکار ہيں۔ آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ (Oxford Internet Institute) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق الگارتھمز کو بروئے کار کرنے والے ادارے اکثر یہ سمجھتے ہيں کہ ان کے استعمال سے سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا، جس کی وجہ سے وہ سسٹم کی مجموعی خامیوں کو نظرانداز کردیتے ہيں۔ اس رپورٹ کی شریک بانی اور اس انسٹی ٹیوٹ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جینا نیف (Gina Neff) کہتی ہیں کہ ”اکثر ان الگارتھمز کو جادو کی چھڑی سمجھا جاتا ہے، جسے گھمانے سے اساتذہ کے تعصب اور دھوکے اور فریب جیسے مسائل ختم ہوجائيں گے۔“

حقیقیت یہی ہے کہ اگر سسٹمز صحیح نہ ہوں تو دنیا کا بہترین الگارتھم بھی انہيں ٹھیک نہيں کرسکتا۔ الگارتھمز کو جن سسٹمز میں استعمال کیا جائے گا وہ انہی کی عکاسی کریں گے اور ان کے مطابق ہی نتائج فراہم کريں گے۔ برطانیہ کے بورڈ کے امتحانات میں اس خامی کا پورا نزلہ طلباء پر گرا۔ فرائی کہتی ہيں کہ ”میرا خیال ہے کہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہيں ہوا کہ کسی الگارتھم کی ناانصافی کا خمیازہ پورے ملک نے بھگتا ہو۔“

فرائی، نیف اور ہان اس بات پر متفق ہيں کہ یہ غلطیاں مستقبل میں بھی دہرائی جائيں گی۔ یہ مسئلہ اجاگر تو ہوگيا ہے، لیکن منصفانہ الگارتھمز بنانا اور عملدرآمد کرنا کوئی آسان بات نہيں ہے۔

تاہم وہ اداروں کو اس تجربے سے سبق سیکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو ہدف کا تعین کرنے کی ضرورت ہے، جس کے بعد اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ ہدف واقعی صحیح ہے یا نہيں۔ اس کے بعد سسٹم کے ان مسائل کی نشاندہی کریں جو اس ہدف کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہيں۔ (نیف کہتی ہيں کہ ”جب حکومت نے مارچ میں امتحانات منسوخ کرنے کے متعلق اعلان کیا تو اسی وقت طلباء کی کاردگی کے منصفانہ تخمینے کے لیے ایک حکمت عملی کی تیاری شروع ہو جانی چاہئے تھی۔“)

آخر میں ایک ایسا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے جسے سمجھنا اور استعمال کرنا آسان ہو اور جس کے نتائج پر سوال اٹھائے جاسکیں۔ فرائی کے مطابق اس کا مطلب یہ ہوگا کہ الگارتھم کو چھوڑ کر اساتذہ کی پیشگوئیوں کا استعمال کیا جائے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”میں یہ ہرگز نہيں کہہ رہی کہ اس سے 100 فیصد درست نتائج حاصل ہوجائيں گی۔ لیکن کم از کم یہ طریقہ کار آسان اور شفاف ہے۔“

تحریر: کیرن ہاؤ (Karen Hao)

Read in English

Authors

*

Top