Global Editions

آپ کی کلائی سے آپ کی صحت کا اندازہ لگانا اتنا آسان نہيں

ویئرایبل ڈیوائسز میں مستقل بہتری ہورہی ہے، لیکن کیا آج کل کی ٹیکنالوجی واقعی ہماری صحت کی پیمائش کرسکتی ہے؟

مجھے روزانہ دفتر جانے کے لیے سائیکل پر تقریباً 25 منٹ لگتے ہیں۔ تھکن کے علاوہ میرے جسم پر کیا اثر پڑتا ہے؟ میری دل کی دھڑکن کتنی تیز ہوتی ہے؟ میں کتنی کیلوریز استعمال کرتی ہوں؟ میرے پاس کچھ عرصے پہلے تک اس کا کوئی جواب نہيں تھا۔

پچھلے چند سالوں میں قدم گننے کے لیے، اور نیند، دل کی دھڑکنیں، دھوپ کے ایکسپوژر اور کیلوریز جیسی معلومات فراہم کرنے والے ٹریکرز اور سمارٹ واچز کی بھرمار کو دیکھنے کے بعد میں ان سوالوں پر غور کرنے پر مجبور ہوگئی ہوں۔ کیا اپنی کلائی پر ایک سنسر لگا کر مجھے اپنے جسم کے متعلق درست معلومات مل سکتی ہے؟

ویئرایبل ڈیوائسز آپ کو آپ کی صحت کی بہتر نگرانی کے لیے وہ معلومات فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہيں جس کی ماضی میں پیمائش نہيں کی جاتی تھی یا جو صرف آپ کا ڈاکٹر ہی آپ کو بتاسکتا تھا۔ یہ ڈیوائسز صرف ڈیٹا ٹریکنگ تک ہی محدود نہيں ہیں، بلکہ ایپل، جا بون (Jawbone) اور مائیکرو سافٹ کی ڈیوائسز آپ کو آپ کی صحت کے متعلق مشورے بھی فراہم کرتی ہيں۔ مائیکروسافٹ ہیلتھ (Microsoft Health) ایپ جلد ہی مائیکروسافٹ بینڈ (Microsoft Band) سے حاصل کردہ دل کی دھڑکن کی شرح یا ذہنی دباؤ سے تبدیل ہونے والی آپ کی جلد کی بجلی کنڈکٹ کرنے کی صلاحیت کا آپ کے کیلنڈر یا کانٹیکٹس کی معلومات سے موازنہ کرسکے گی۔

ایپل واچ (Apple Watch) اور مائیکرو سافٹ بینڈ آپٹیکل سنسرز کی مدد سے دل کی دھڑکن کی رفتار کی پیمائش کرتے ہيں۔ اس کے برعکس Jawbone Up3، جو ساکن حالت میں آپ کے دل کی دھڑکن کی پیمائش کرتا ہے، بائیوامپیڈنس کے سنسرز اور کئی الیکٹروڈز کی مدد سے آپ کے جلد کی برقی کرنٹ کے خلاف مزاحمت کی پیمائش کرتا ہے۔ بینڈ میں نصب سنسرز روزمرہ کی سرگرمیوں کے لیے تو صحیح ہیں، لیکن کیا يہ ٹیکنالوجی اس حد تک درست ہے کہ اسے طبی امراض کی تشخیص کے لیے استعمال کیا جاسکے؟ سکرپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (Scripps Research Institute) میں جینومکس کے پروفیسر، ڈیجٹل صحت کی ٹیکنالوجی کے شیدائی اور ماہر امراض قلب (cardiologist) ایرک ٹوپل (Eric Topol) کا کہنا ہے کہ صحت کی ٹیکنالوجی کی صنعت لائف سٹائل سے طبی پیمائش کی طرف جارہی ہے۔ ٹوپل کے مطابق ان ڈیوائسز کا مقصد فشار خون، خون میں گلوکوز وغیرہ کی درست پیمائش اور ذیابیطس اور امراض قلب جیسے سنگین مسائل کی نگرانی ہے۔ وہ کہتے ہيں، ’’طبی میٹرکس کی درستی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔‘‘

اصل امتحان

ویئرایبل ڈیوائسز اس حد تک درست کب ہوں گی؟ میں نے اس کا جواب حاصل کرنے کے لیے کلائی کے ذریعے قابل پیمائش میٹرکس کی درستی کی جانچ کرنے کی ٹھانی۔ میں نے کئی روز تک سائیکل پر دفتر آتے اور جاتے ہوئے ایپل واچ اور مائیکرو سافٹ بینڈ باندھ کر رکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے دل کی دھڑکن کی سب سے درست پیمائش کرنے والا پولر H7 بلوٹوتھ کا سٹراپ بھی پہنا۔ ان تمام ڈیوائسز کے نتائج میں کافی فرق تھا۔ بینڈ پولر کی پیمائشیں سٹراپ کے میٹرکس سے زيادہ ملتی جلتی تھیں، بعض دفعہ فی منٹ صرف ایک یا دو دھڑکنوں کا فرق تھا، لیکن ایک دو بار 13 دھڑکنوں کا بھی فرق آیا۔ اس کے برعکس ایپل واچ میں 77 دھڑکنوں تک کا فرق سامنے آیا۔

تینوں بینڈز کیلوریز کی پیمائش کرتے ہيں، اور اس میں بھی کافی فرق دیکھنے کو ملا۔ مثال کے طور پر، ایک بار صبح دفتر جاتے ہوئے استعمال ہونے والی کیلوریز کی تعداد 143 سے لے کر 187 کے درمیان تھیں۔

اب تک تو یہ ڈیوائسز اس حد تک درست نہيں ہوئی ہیں کہ انھیں امراض کی تشخیص یا صحت کے مسائل کی پیشگوئی کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ لوگوں کے اپنی کلائی پر گھڑی باندھنے یا زیور پہننے کا عادی ہونے اور جسم کی طبی علامات کی پیمائش کے لیے کلائی کے استعمال کا خیال بہت اچھا ہونے کے باوجود ایک ایسی ڈیوائس بنانا بہت مشکل ہے جو آرام دہ اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ روزمرہ استعمال بھی برداشت کرسکے۔
ہر کسی کا جسم مختلف ہے، لہٰذا ہر کسی کی کلائی سے سو فیصد درست پیمائشیں حاصل نہيں کی جاسکتی ہيں۔ کارنیگی میلن یونیورسٹی (Carnegie Mellon University) میں فیوچر انٹرفیسز گروپ (Future Interfaces Group) کے سربراہ اور ہیومن کمپیوٹر انٹریکشن کے اسسٹنٹ پروفیسر کرس ہیرسن (Chris Harrison) کے مطابق سمارٹ واچز تو ایک جیسی بنائی جاسکتی ہيں، لیکن تمام انسان ایک جیسے نہيں ہوتے ہیں، اور ایک ایسی چیز بنانا جو ہر ایک انسان کے لیے یکساں نتائج فراہم کرے، بہت مشکل ہے۔

ہیریسن کے علاوہ دوسرے ماہرین کہتے ہيں کہ جسم پر بال، پسینہ یا چربی کی کمی یا زيادتی کی وجہ سے کلائی میں خون کے بہاؤ کی پیمائش کرنے والے آپٹیکل دل کی دھڑکن کے سنسرز سے درست ریڈنگ حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ، ٹیٹوز کی وجہ سے بھی ریڈنگ کے غلط ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ایپل واچ کے سپورٹ پیج پر بتایا گيا ہے کہ ٹیٹوز کی سیاہی کی وجہ سے سنسر کی روشنی میں مداخلت ہوسکتی ہے۔ موبائل ڈیوائسز کو چھوٹا کرنے میں دلچسپی رکھنے والے یاہو لیبز (Yahoo Labs) میں ہیومن کمپیوٹر انٹریکشن کے ریسرچر کرسچن ہولز (Christian Holz) کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہزاروں لوگ کہنے لگ جائيں گے کہ یہ ڈیوائس بے کار ہے، کیونکہ یہ اُن پر کام نہيں کرتی ہے۔

ورک آؤٹ ٹریکنگ کے بعد کیا ہوگا؟

ابھی ایسی ویئرایبل ڈیوائسز کی صرف امید ہی کی جاسکتی ہے جن کی پیمائشیں صحت کی نگرانی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکیں۔ لیکن اس امید کو جقیقت کی شکل دینے کے لیے ہمیں نئی ٹیکنالوجیز کے علاوہ ایسی ڈیوائسز بھی تیار کرنی ہوں گی جو زیادہ وسیع پیمانے پر پیمائشیں کرسکیں۔

میساچوسیٹس کے شہر کیمبرج میں واقع کوانٹس (Quanttus) نامی سٹارٹ اپ کمپنی کے ریسرچرز دل کی ہر دھڑکن کے دوران جسم کی حرکات کی پیمائش کے لیے ایک سنسر استعمال کرنے والی ڈیوائس، جسے بیلسٹوکارڈيوگرام (ballistocardiogram) کہا جاتا ہے، دل کی دھڑکن، سانسیں اور فشار خون کی پیمائش کے لیے کلائی پر باندھی جانے والی ڈیوائس پر کام کررہے ہیں۔ ایک کانفرنس میں کمپنی کے شریک بانی اور سی ای او شاہد عظيم نے بتایا کہ کوانٹس اگلے چند ماہ میں کلائی پر باندھے جانے والے چند بینڈز لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ دوسرے شریک بانی اور چیف سائنٹیفک افسر ڈیوڈ ہی (David He) کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے پر ابھی کام جاری ہے۔

وہ سمجھتے ہيں کہ ویئرایبل ڈیوائسز کی مدد سے دل کی دھڑکن اور فشار خون کی درست پیمائش کے بعد، ہم دیگر کارڈيو ویسکولر علامات کی طرف جاسکتے ہيں۔ یہ فٹنیس ایپلی کیشنز اور اپنی صحت پر خود نظر رکھنے کے خواہش مند افراد کے علاوہ مریضوں پر نان انویزیو طریقوں سے نظر رکھنے کے خواہش مند ڈاکٹروں کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہيں۔

کیمبرج میں واقع ایمپیٹیکا (Empatica) نامی دوسری سٹارٹ اپ کمپنی کلائی پر باندھے جانے والے بینڈ کی مدد سے جلد کی ایصالیت (conductance) میں تبدیلی کی مدد سے دوروں کی نشاندہی پر کام کررہی ہے۔ ایمپیٹیکا اب تک اپنے مقصد میں کامیاب نہيں ہو سکی ہیں، اور انھوں نے اب تک اپنی ڈیوائس لانچ نہيں کی ہے۔

ایسی مصنوعات تیار کرنے میں بہت وقت لگتا ہے۔ اگر ڈیوائسز کو روزانہ استعمال، پسینہ اور پانی کو برداشت کرنا ہے تو ٹیسٹنگ، سیمولیشنز، ماڈلنگ اور پروٹوٹائپنگ کا مرحلہ اور بھی لمبا ہوجاتا ہے۔ دیگر الیکٹرانکس سے اتنی زیادہ توقعات نہيں رکھی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے انھیں زيادہ جلدی لانچ کیا جاسکتا ہے۔ اگر یہ مسائل حل ہوجائيں تو مسلسل فشار خون اور جلد کی ایصالیت کی پیمائش کی بعد آپ کے ذہنی دباؤ اور موڈ کی بھی پیمائش کا راستہ کھل جائے گا۔

جلد پر سنسرز کے ذریعے کن چیزوں کی پیمائش ممکن ہے؟ ابھی یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے۔ اگلے چند سالوں میں نان انویزیو سنسرز کی مدد سے ایسے بائیومیٹرکس کی پیمائش ممکن ہوسکے گی جن کے لیے ماضی میں انویزیو طریقہ کار کا استعمال کیا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر خون کے گلوکوز کی پیمائش سوئی چبھونے کے بجائے جلد کی ریڈنگز سے ممکن ہوسکے گی، جس سے ذيابیطس کے شکار افراد کو بہت فائدہ ہوگا۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، سین ڈیگو (University of California, San Diego, UCSD) کے ریسرچرز نے اس مسئلے کے حل کے لیے خون کی گلوکوز کی پیمائش کے لیے ایک عارضی ٹیٹو تیار کیا ہے، جس پر الیکٹروڈز بنائے گئے ہيں اور اینزائم کا محلول چڑھایا گيا ہے۔ یو سی ایس ڈی کے سنٹر فار ویئرایبل سنسرز کے ڈائریکٹر جوزف وینگ (Joseph Wang) پچھلے پانچ سال سے اس ٹیکنالوجی پر کام کررہے ہيں، لیکن وہ کہتے ہيں کہ اسے مارکیٹ میں لانے کے لیے کم از کم مزید دو سال درکار ہوں گے۔ شروع میں یہ ایک عارضی ٹیٹو ہوگا، جسے صرف ایک بار استعمال کیا جاسکے گا۔ اس کے بعد وینگ ایسے ٹیٹوز متعارف کروائيں گے جو پورے ایک روز یا پورے ایک ہفتے تک ہر 20 یا 40 منٹ کے بعد گلوکوز کی پیمائش کرسکیں گے۔ ٹوپل کا کہنا ہے کہ ہر قسم کے ڈيٹا کی پیمائش کرنے والی ڈیوائسز بہت جلدی لانچ ہونے والی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’ابھی اس سلسلے میں بہت کام پڑا ہے، لیکن اسی میں تو مشینوں کا فائدہ ہے۔ اس کے علاوہ اس طرح کے الگارتھمز تیار کیے جاسکتے ہيں کہ ہر شخص کو ایک ورچول طبی اسسٹنٹ میسر ہوجائے۔‘‘

اس وقت کلائی پر باندھے جانے والے بینڈز سو فیصد درستی کے ساتھ ورک آؤٹ کے دوران دل کی دھڑکن کی پیمائش نہيں کرپاتے ہیں اور ایسی ایپلی کیشنز صرف ایک خواب ہی لگ رہی ہیں۔ لیکن کوانٹس، ایمپیٹیکا ، اور یو سی ایس ڈی کی ریسرچ کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ ٹیکنالوجی آپٹیکل سنسرز سے کہیں آگے نکل چکی ہے، اور وہ وقت دور نہيں ہے جب کلائی پر باندھی جانے والی ڈیوائسز صحت کی نگرانی کرسکيں گی۔

ریچل میٹز ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کی موبائل کی سینیئر مدیر ہيں۔

تحریر: ریچل میٹز

Read in English

Authors
Top