Global Editions

موبائل فون کے ذریعے دماغی صحت کا اندازہ لگانا

مریض کے ٹائپ اور چیزوں کو سکرول کرنےسے دماغی صحت کا مشاہدہ کیا جاتا ہے

صرف دماغی بیماری میں مبتلا امریکہ میں تقریباً 45 ملین لوگ ہیں اور ان کی بیماریوں اور ان کے علاج کے کورس بہت زیادہ مختلف ہوتے ہیں لیکن ایک چیز ان سب لوگوں میں عام ہے: ایک سمارٹ فون۔

پالو الٹو، کیلیفورنیا میں تین ڈاکٹروں کی طرف سے شروع کیا گیا سٹارٹ اپ جس میں امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے سابق ڈائریکٹر شامل ہیں، یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ہماری جیب میں موجودٹیکنالوجی کا جنون آج کے سب سے بڑے طبی مسائل کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے : مایوسی،شیزوفرینیا ، بائی پولر ڈس آرڈر، کسی صدمے کے بعد پریشانی اور منشیات کا استعمال۔

مائنڈ سٹرانگ ہیلتھ ایک سمارٹ فون ایپلی کیشن استعمال کررہا ہے جو لوگوں کے موبائل فون استعمال کرنے کے طریقہ سے ان کی جذباتی صحت کی پیمائش کرتا ہے۔ ایک بار جب مریض مائنڈ سٹرانگ ایپ انسٹال کرتا ہے تو یہ ان کی کچھ چیزوں جیسا کہ اس کے ٹائپنگ اور سکرول کرنے کے پیٹرن کی نگرانی کرتی ہے۔ اس ڈیٹا کی انکرپشن کی جاتی ہے اور مشین لرننگ کا استعمال کرتے ہوئے اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور نتائج مریض اور اس کوطبی امدادفراہم کرنے والے کے ساتھ شئیر کیے جاتے ہیں۔

اس تشخیص میں کلاسک نیوروسائیکلوجیکل ٹیسٹ شامل ہوتے ہیں جو کئی دہائیوں تک نام نہاد ٹائم ٹیل ٹریلنگ ٹیسٹ میں استعمال ہوتے آئے ہیں۔
مائنڈ سٹرانگ کی تحقیق کے مطابق موبائل فون پر آپ کے منسلک ہونے کی بظاہر چھوٹی اور غیر دلچسپ تفصیلات آپ کی دماغی صحت کے بارے میں حیرت انگیز انکشافات کرتی ہیں۔مثال کے طور پر یہ آپ میں مایوسی کی علامات بارے بتاتی ہے۔

مائنڈ سٹرانگ کا کہنا ہے کہ ایپ سے حاصل ہونیوالی تفصیلات سےایک مریض کے ڈاکٹر یا نگہداشت دینے والے مینیجر کو ایک الرٹ جاری ہوتا ہے کہ مستقبل میں کیا کیا مشکلات آ سکتی ہیں جس سے وہ پھر مریض کو بذریعہ ایپ کے پیغام کرکے چیک کر سکتا ہے۔(مریض بھی اپنے دیکھ بھال کرنے والے کو یہ پیغام بھیج سکتے ہیں)اب کئی برسوں سے بے شمار کمپنیاں ایپلی کیشن کی بنیاد پرتھیراپی یا گیم پیش کرتی ہیں جوسمارٹ فون سرگرمیوں یا آواز اور بات چیت سے مزاج اور بے چینی کی تشخیص کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ لیکن مائنڈ سٹرانگ مختلف ہےکیونکہ یہ صارفین کے فون کے ساتھ جسمانی تعلق پر غور کرتی ہےنہ کہ وہ اس پر کیا کرتے ہیں ۔ موبائل فون پر کس طرح کرتے ہیں- دماغی بیماریوںکی علامات کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ یہ چیزیں وقت کے ساتھ مشکلات کو زیادہ درست طریقے سے ٹریک کر سکتی ہیں۔ اگر مائنڈ سٹرانگ کا طریقہ کار کام کرتا ہے تو یہ پہلا سٹارٹ اپ ہو گا جو جیب میں موجود ٹیکنالوجی سے دماغ کے مریضوں کی مدد کر رہا ہو گا اوریہاں تک کہ یہ ان کے یہ ان کی تشخیص وقت سے پہلے کر دیگا۔

ڈیجیٹل فنگر پرنٹس

مائنڈ سٹرانگ شروع کرنے سے پہلے اس کے بانی اور سی ای او پال ڈیگم (Paul Dagum) نے دو ب ایریا (Bay Area-based) پر مبنی مطالعہ جات پر رقم خرچ کی تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ آیا کہ فون ہمارے استعمال کے طریقے کو کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔

ایک سو پچاس تحقیقاتی مضامین کلینک پر آئے اور ان کو ایک معیاری نفسیاتی تشخیص سے گزارا گیا جس میں ایپیسوڈک میموری(Episoic Memory) استعمال کی گئی ( ایپیسوڈک میموری واقعات کو یاد ریکھنے سے متعلق ہے) اور ایگزیکٹو فنگشن (ذہنی مہارتیں ،جن میں نبض کو کنٹرول کرنا ،وقت کا انتظام اور کام پر توجہ دینا شامل ہیں )۔ یہ دماغ کے بڑے فنگشن ہیں جو دماغی امراض میں مبتلا افراد میں کمزور ہو جاتے ہیں۔

اس تشخیص میں نیورو سائیکالوجیکل ٹیسٹ شامل جو کئی دہائیوں سے استعمال کیے جا رہے ہیں جیسے نام نہادٹائمڈ ٹریل ٹریسنگ ٹیسٹ(timed trail-tracing test)، جہاں آپ کو بکھرے ہوئے حروف اور نمبروں کو مناسب ترتیب سے منسلک کرتے ہیں۔ جن لوگوں کو دماغ مسائل ہوتے ہیں، ان کو ان ٹیسٹ میں دشواری پیش آتی ہے۔

ٹریل ٹریسنگ ٹیسٹ میں بکھرے ہوئے حروف اور اعداد و شمار کو منسلک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
لوگ ایک ایپ کے ساتھ گھر جاتے ہیں جس نےان کے موبائل کے ڈسپلے کو چھونے کی پیمائش کی ہوتی ہے(سوائپ، ٹیپس اور کی بورڈ ٹائپنگ)۔ ان چیزوں سے ڈیگم امید کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کے رویے سے ایک اسمارٹ فون پر لاگ ان ہونے کی پیمائش کرتے ہیں۔ اگلے سال کے لئے، یہ پس منظر میں چلا، ڈیٹا جمع کیااور ایک ریموٹ سرور پر بھیجتا رہا۔پھر یہ سبجیکٹس دوسرے راؤنڈ کے لئے واپس آ گئے۔
یہ واضح ہوجاتا ہے کہ محققین کی طرف سے رویہ کی پیمائش آپ کو بہت کچھ بتا سکتی ہے۔ ڈیگم کا کہنا ہے کہ "وہاں پر ایسے سگنل تھے جو کہ پیمائش کر رہے تھے اور چیزیں منسلک کر رہے تھے"۔ در اصل وہ چیزیں جوڑ نہیں رہے تھے بلکہ ان کے نیوروسائیکالوجسٹ فنگشن ٹیسٹ ہو رہے تھے۔"

مثال کے طور پر، میموری کے مسائل، جو دماغ کی خرابی کے عام پہلو ہیں، ان چیزوں کو دیکھ آپ کی دماغی صحت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے بشمول اس چیز کی پیمائش کہ آپ کس تیزی سےٹائپ کرتے ہیں اور کس قسم کی کی غلطیاں کرتے ہیں (جیسا کہ آپ کتنی بار حروف کو حذف کرتے ہیں)۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کتنی تیزی سے رابطوں کی فہرست کو سکرول ڈائون کرتے ہیں۔ (مائنڈسٹرانگ سب سے پہلے آپ کے بیس لائن کا تعین کرتی ہے کہ آپ کس طرح اپنے ہینڈ سیٹ کو استعمال کرتے ہیں اور ان کریکٹرز کو عموی پیمائش خصوصیات کو یکجا کرتے ہیں)۔ یہاں تک کہ جب آپ اسمارٹ فون کا کی بورڈ استعمال کرتے ہیں تو، ڈیگم کا کہنا ہے کہ، آپ اپنی توجہ کو ہر وقت ایک کام سے دوسرے کام میں تبدیل کر رہے ہیں، مثال کے طور پر، جب آپ ایک جملے میں رموز اوقاف لگا رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر یقین کیا کہ کنکشن نے وقت کے ساتھ انسان کی شناخت اور رویے کی تحقیقات کرنے کا ایک نیا طریقہ پیش کیا جو کہ عام طریقہ علاج میں ممکن نہیں ہےجیسا کہ باقاعدگی سے کسی تھیراپسٹ کے پاس علاج کے لے جانے جانایا نئی دوائی لینا، ایک ماہ کے لئے اسے استعمال کرنا اور پھر واپس ڈاکٹر کے پاس چیک کرانے کے لئے جانا۔  دماغ میں خرابی کا علاج کچھ رک جاتا ہے کیونکہ ڈاکٹروں کو یہ معلوم نہیں پاتا کہ بیماری کیا ہےجب تک یہ بڑی سٹیج تک نہ پہنچ جائے۔ ڈیگم کا خیال ہے کہ مائنڈ سٹرانگ دماغی بیماری کی جلد تشخیص کر سکتی ہے اور اور اس پر دن میں 24 گھنٹے نظر رکھ سکتی ہے۔
2016 میں ڈیگم نے ویریلی Verily)) جو کہ الفا بٹ کی لائف سائنس کمپنی ہے، کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایک گروپ کو اپناآئیڈیا پیش کیا ۔ اس گروپ میں ٹام انسیل شامل تھے جنہوں نے2015میں ویریلی کو جائن کرنے سے پہلے بطور ماہر نفیسات13سال نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا۔

ادارہ ویریلی موبائل فون کے استعمال سے ڈپریشن یا دیگر ذہنی مسائل کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن انسیل کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے ڈیگم نے جو آئیڈیا پیش کیا وہ حقیق ڈیٹا کے بارے میں تھا اور یہ کوئی بڑی ڈیل نہیں لگ رہا تھا۔ انہوں نے کہا ، " ان کے کام میں کوئی زیادہ جان نہیں تھی۔"
تاہم، کافی ملاقاتوں میں انسیل نے محسوس کیا کہ ڈیگم کچھ ایسا کر سکتا ہے جو دماغی صحت کے میدان میں کوئی اور ابھی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس نے اسمارٹ فون کے ایسے سگنلز کا پتہ لگایا جو کسی شخص کی سمجھنے کی صلاحیت سے تعلق رکھتے تھے۔ عام طور پر ایسی چیزیں لمبے چوڑے لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعہ ممکن ہوتی ہیں۔ مزید کیا ہے، وہ مسلسل ایک شخص کے دماغ کے کام کو اچھے طریقے سےدیکھنے کے لئے ان سگنلز کو کئی ہفتے اور مہینے جمع کر رہا تھا۔ انسیل کا کہنا ہے ، " وہ ایسے ان سگنلز کو دیکھ رہا تھا جیسا ذیابیطس کی دنیا میں مسلسل گلوکوز کو مانیٹر کیا جاتا ہے۔"
کوئی کیوں یقین کرے کہ مائنڈ سٹرانگ اصل کیا کام کر سکتا ہے؟ ڈیگم کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد ایپ کا استعمال کر رہے ہیں، اور کمپنی کے پاس اپنی سائنس اور ٹیکنالوجی کو تصدیق کرنے کے لئے پانچ سال کا کلینکل ڈیٹا ہے۔ اس میں بہت سارےمطالعہ جاری ہیں اوراس سال مارچ میں اس نے کلینکوں میں مریضوں اور ڈاکٹروں کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

اپنی موجودہ شکل میں،مائنڈ سٹرانگ ایپ جو مریض دیکھتے ہیں، وہ کافی حد تک بکھری ہوئی ہے۔ایک گراف ہے جو کہ روازانہ کی بنیاد پر سمارٹ فون سے جمع کردہ پانچ سگنلز سے سویپ اور ٹائپ کرنے سے اپ ڈیٹ ہوتا ہے۔ ان سگنلوں میں سے چار سمجھنے کی پیمائش ہیں جو کہ موڈکی خرابی جیسی بیماری کا شکار ہیں (جیسے مقصد کی بنیاد پرمبنی فیصلے کرنے کی صلاحیت)، اور دوسرے جذبات کی پیمائش ۔ کلینک پر پریکٹس کرنے والوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا بھی اختیار ہے۔

اب کے لئے، انسیل کہتے ہیں، کمپنی بنیادی طور پر شدید بیمار لوگوں کے ساتھ کام کر رہی ہے جو ڈپریشن، شیزوفرونیا اور نشےکے خطرے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "یہ سب سے زیادہ شدید معذور لوگوں کے لئے ہے، جنہیں واقعی کچھ جدت کی ضرورت ہے۔" "ایسے لوگ ہیں جو صحت کی دیکھ بھال کے لئے ہیلتھ کئیر استعمال کر رہے ہیںاور جوفوائد نہیں لے رہے ۔ ٰلہٰذا ہمیں ان کو کچھ بہتر دینا ہو گا۔ " اصل میں جب مریض نیچے چلا جاتا ہے تو اس کی پیش گوئی مشکل ہو جاتی ہے لیکن ڈیگم کا خیال ہے کہ ایپ کا زیادہ سے زیادہ استعمال ڈیٹا پیٹرن کو بہتر بنائے گا۔

اس حوالے سے سنگین مسائل موجود ہیں۔ پرائیویسی ایک مسئلہ ہے۔ مائنڈ سٹرانگ کا کہنا ہے کہ یہ صارفین کا ڈیٹا محفوظ بنا رہی ہے اور اسے غلط ہاتھوں میں جانے سے روکنے کی بھی کوشش کر رہی ہے ۔

کمپنیاں اپنے ملازمین کی فلاح وبہبود میں دلچسپی رکھتی ہیں لیکن زیادہ تر ان کمپنیوں کے مالک چاہیں گے کہ ان کے ملازمین کی دماغی صحت کا ڈیٹا ملے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ کتنی اچھی طرح سے محفوظ ہے۔

مسئلہ کے شروع ہونے سے پہلے نشاندہی

مشی گن یونیورسٹی میں ایک مطالعہ کیا جا رہا ہے کہ آیا کہ مائنڈ سٹرانگ کی ایپ ان لوگوں کے لئے فائدہ مند ہے جن کو ذہنی بیماری نہیں ہے لیکن وہ مایوسی اور خود کشی کے شدید خطرے پر ہیں۔ نیورو سائنس اورسائیکاٹری کے پروفیسر سری جن سن کی قیادت میں ہونیوالے مطالعہ پورے میں ڈاکٹروں کے پانچ سال کے موڈ کا اندازہ لگاتا ہے جو کہ ایک ایسا گروپ ہےجس میں شدید ذہنی دبائو، اکثر نیند کی کمی اور ڈیپریشن کی تیز شرح ہے۔

شرکاء ہر دن اپنے موڈ کو لاگ کرتے ہیں اور نیند، سرگرمی، اور دل کی شرح کو جانچنے کے لئے فٹ بٹ Fitbit( ) ٹریکر پہنتے ہیں۔ 2000 سے زائد شرکاء میں سے 1500 نےاپنے دماغ کے بارے میں اعداد و شمار جمع کرنے مائنڈ سٹرانگ کا کی بورڈ ایپ چلاتے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ ان کے سمجھنے کی صلاحیت پورا سال کیسے تبدیل ہوتی ہے۔

سین کا خیال ہے کہ لوگوں کی میموری پیٹرن اور ذہنی طریقوں کی رفتار میں تبدیلی واقع ہوتی ہے جب وہ کسی دماغی صحت کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ کتنا عرصے تک یہ ہو جائے گا، یا کیا ڈپریشن کی پیش گوئی کی جائے-

انسیل بھی یقین رکھتا ہے کہ مائنڈ سٹرانگ زیادہ اچھے طریقے سے آج کی ذہنی بیماریوں کے بارے میں بتا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اہم ڈپریشن کی تشخیص کے دو افراد شاید بہت سے علامات میں سے ایک کا حصہ بن سکتے ہیں: وہ دونوں کو اداس محسوس کر سکتے ہیں، لیکن شاید ایک ہر وقت سونے کی کیفیت محسوس کر سکتاہے، اور دوسرے کو کبھی نیند نہیں آتی۔ انسیل کا کہنا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ ڈپریشن کی کی بیماری کی کتنی قسمیں ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ یہ قسمیں بھی ڈھونڈ نکالے گی۔ کمپنی یہ جان رہی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہو کہ زیادہ مؤثرعلاج ڈھونڈا جائے۔

انسیل کہتے ہیں کہ یہ ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ کیا مخصوص ڈیجیٹل مارکر موجود ہیں جو کسی کو شیزوفرونیا کے بارے میں بتا سکیں اور کمپنی اس بات پر کام کر رہی ہے کہ کسی صدمے کے بعد کے مسائل کی کس طرح نشاندہی کی جائے۔ لیکن وہ یقین رکھتا ہے کہ فون کو ان مسائل کا حل ڈھونڈ لے گا۔ انہوں نے کہا "ہم یہ کام اس طرح کرنا چاہتے ہیں جو کہ کسی کی باقاعدہ زندگی میں رچ بس جائےــ"۔

تحریر: راچل میٹز

Read in English

Authors
Top