Global Editions

سمارٹ سٹی کا تصور

دنیا بھر میں میئر، شہری، منصوبہ ساز اور ٹیک کمپنیاں تیزی سے جدید ترین شہر (Smart Cities)بنانے کیلئے جدید اور طاقتور آلات استعمال کررہے ہیں جن کی مدد سے ذرائع مواصلات ، توانائی کے گرڈز، اورشہری سہولیات کی فراہمی کو کنٹرول کیا جاسکے۔ نیویارک یونیورسٹی کے شعبہ ٹرانسپورٹیشن پالیسی اینڈ مینجمنٹ (Transportation Policy and Management)میں سینئر تحقیقی سائنسدان اور ـ’’سمارٹ سٹیز: بگ ڈیٹا، سوک ہیکرزاینڈ کوئیسٹ فار نیو یوٹوپیا‘‘ (Big Data, Civic Hackers and Quest for New Utopia)کے مصنف انتھونی ٹاؤن سینڈ (Anthony Townsend)نے خبردار کیا ہےکہ ہمیں نہایت احتیاط کے ساتھ اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہر جگہ موجود کمپیوٹرز کے ذریعے ہم کس طرح شہروں کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ ایک محقق کے طور پر ٹاؤن سینڈ نے جائزہ لیا ہے کہ کس طرح شہروں میں گزشتہ 20سالوں میں ٹیکنالوجی کا اطلاق کیا گیاہے۔ انہوں نے بزنس رپورٹ کیلئے صحافی نیٹ برگ کو انٹرویو دیاجو درج ذیل ہے۔

دنیا کی شہری آبادی 2050ء میں تقریبا دوگنا یعنی چھہ ارب افراد تک ہو جائے گی۔ ٹیکنالوجی اس تبدیلی کیلئے کیا کردار ادا کرسکتی ہے؟

میرے خیال میں سب سے زیادہ دلچسپ کرداراس بڑھتی ہوی شہری آبادی کو اپنی ضروریات زندگی پورا کرنے کے قابل بنانا ہے اور اس میں اہم کردار سمارٹ فونز ٹیکنالوجی کا ہے۔ دنیا میں ہر ایک کے پاس موبائل فون ہونا چاہئے، خصوصاً شہروں میں رہنے والوں کے پاس ۔ ذرا سوچیں کہ اربوں کی تعداد میں لوگ اپنی جیب میں سپر کمپیوٹرز لے کر گھوم رہے ہیں۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ موبائل فون کے ذریعے حاصل کی گئی سہولیات نے غریب ممالک کی جی ڈی پی پر اچھا اثر ڈالا ہے۔

اس شہر میں کیا ہوگا جہاں پر کمپیوٹرز اور سمارٹ فونز نے قبضہ کررکھا ہو؟

ایک بڑی کمپنی کا ڈیزائن کیا ہوا شہر جس پر کمپیوٹرز کا قبضہ ہو مشینی زندگی کا تاثر دے گا جس میں ہر شے خودکار، مرکزیت کی حامل اور بہت تیزی سے کام کرنے والی ہے- ایسے شہر میں زندگی کا بہت زیادہ لطف نہیں اٹھایا جاسکتا، ہماری رازداری برقرار نہیں رہے گی اور ہماری خواہشوں کا احترام نہیں کیا جائے گا۔ اس کے مقابلے میں جن شہروں میں ہم رہ رہے ہیں ان کا بنیادی ڈھانچہ عدم مرکزیت اور سست روی کا شکار ہے۔ان شہروں میں بھی ہم سینسرز اور ڈسپلے کی خدمات سے فائدہ اٹھا کر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور یہی سماجی تفاعل کے قریب ، پائیدار روئیوں کو فروغ دینے والا، ثقافت کو مضبوط اور تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ ہمیں کون سی زندگی اپنانی ہے اس کا انحصار ہماری پسند ناپسند پر ہے۔

جدید شہر کا بہترین انتظام کس طریقے سے کیا جا سکتا ہے؟

شہروں کی ترقی بہت خوش آئند ہے۔ ہمارے میئرز اور دیگر سماجی قیادت جدید ترین شہر کے وژن کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں کہ اسے کیسا ہونا چاہئے اور کس طرح مختلف ذرائع استعمال کرنے ہیں جس سے تکنیکی مہارت اور اختراعات کے استعمال کی حوصلہ افزائی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ میں شہروں کی طویل مدتی منصوبہ بندی میں دلچسپی لے رہا ہوں کہ کس طرح مختلف شہراپنے طویل مدتی منصوبوں کے حصول کے لئےٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں -

کیاٹیکنالوجی سے ہماری توقعات غیرحقیقی ہیں؟

سمارٹ سٹی کے بارے میں بہت سے تصورات ہیں ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ جدید ترین شہر میں ہر شے پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے، بہت تیزی سے کام ہوتا ہے اور شہر نہایت محفوظ ہوتا ہے جیسے سنگاپور ہے۔ لیکن جدید ترین شہر کا یہ تصور شاید سائو پالو یا نیویارک جیسے شہروں میں کام نہ کرے جہاں پر لوگوں کی توقعات اس سے کہیں مختلف ہیں۔تمام شہر یکساں نہیں ہوتے-ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ناقابل یقین حد تک لچکدار اور ماڈیولر ہوتی ہے اور اس کے استعمال سے مختلف شہر اپنی ضروریات کے مطابق فوائد حاصل کرسکتےہیں-

تو کیا اگر سنگاپور ایک عظیم سمارٹ سٹی بن رہا ہے، ہمیں یہ عظیم تصورات دوسرے شہروں کو پیش نہیں کرنے چاہئیں؟

سمارٹ سٹی کا کمانڈ اینڈ کنٹرول ماڈل بہت مہنگا ہے لیکن سنگاپور ایک بہت امیر ملک ہے وہاں یہ کام ہو سکتا ہے۔ آپ کو شاید نیروبی ، جوہانسبرگ یا لاگوس میں یہ دیکھنے کو نہ ملے۔ان شہروں میں آپکو ایسی ڈیوائسس کی ضرورت ہوگی جنسے صارفین کی رائےبھی منصوبہ بندی کے لئے استعمال ہوسکے- جن غریب ترین شہروں نے سفر کے پیٹرن کو سمجھ لیا ہے وہاں ہم نے ٹرانسپورٹیشن کی منصوبہ بندی میں نمایاں تبدیلی دیکھی ہے۔ ترقی پذیر ملکوں میں کامیاب شہروں کیلئے سب سے بڑا مسئلہ ٹرانسپورٹیشن ہے۔ اس شعبےمیں پیشرفت کےبغیرباقی معاملات میںترقی ممکن نہیں-

تحریر: نیٹ برگ (Nate Berg)

Read in English

Authors
Top